سرورققومی خبریں

پی ایف آئی کے سابق سربراہ ای ابوبکر کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست

ای ابوبکر طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست کر رہے ہیں

نئی دہلی ،10جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) حکومت ہند کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے سابق سربراہ ای ابوبکر کی طرف سے دائر ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران میڈیکل رپورٹ دیکھنے کے بعد عدالت نے کہا کہ کچھ بھی سنگین نہیں ہے۔ جس پر درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے کہا کہ ان کے پاس میڈیکل رپورٹ کی کاپی نہیں ہے۔عدالت نے میڈیکل رپورٹ دینے کا حکم دیا۔ عدالت اس معاملے میں اگلی سماعت 17 جنوری کو کرے گی۔ جسٹس ایم ایم سندریش کی سربراہی والی بنچ کیس کی سماعت کر رہی ہے۔ ای ابوبکر طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست کر رہے ہیں۔ گزشتہ سماعت میں عدالت نے ایمس کے ڈائریکٹر کو ایک ٹیم بنانے کی ہدایت دی تھی اور ابوبکر کا طبی معائنہ کرانے کی بھی ہدایت دی تھی۔

میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔ابوبکر کو نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے 2022 میں پی ایف آئی پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا تھا۔ این آئی اے کے دعویٰ کے مطابق پی ایف آئی، اس کے اراکین اور عہدیداروں نے ملک بھر میں مبینہ طورپر دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی مجرمانہ سازش کی،اور اس مقصد کے لیے اپنے کیڈر کو ٹریننگ دینے کے لیے تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا ۔

ای ابوبکر نے ہائی کورٹ میں دلیل دی تھی کہ یو اے پی اے کے تحت ان کیخلاف این آئی اے کے مقدمہ کی حمایت کرنے کے لئے کوئی مواد نہیں ہے۔ ای ابوبکر نے عدالت کو یہ بھی بتایا تھا کہ ان کی عمر 70 سال ہے، وہ کئی بیماری میں مبتلا ہیں اور اپنی حراست کے دوران انہیں کئی بار آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جانا پڑا۔این آئی اے نے اس عرضی کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ ظاہر کرنے کے لیے مواد موجود ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے کیڈر کو تربیت دینے کے لیے کیمپ کا انعقاد کیا گیا ۔خیا ل رہے کہ حکومت ہند کی وزارت داخلہ کی جانب پاپولرفرنٹ آف انڈیا کو کالعدم قرار دین کے بعد تنظیم اور اس سے وابستہ افراد پرکئی ریاستوں میں کریک ڈاؤن کیا گیا ۔اور متعددکارکنوں کو حراست میں لیا گیا یا گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button