سرورق

سابق ریاستی وزیر این سی پی لیڈر بابا صدیقی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا

سابق ریاستی وزیر این سی پی لیڈر بابا صدیقی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا
اپوزیشن نے مہاراشٹر میں ‘امن و امان کو تباہ کرنےکا الزام لگایا

ممبئی،13اکٹوبر( ایجنسیز)

ممبئی اور مہاراشٹر کے سینئر مسلم لیڈر، معروف سماجی خدمتگار، چالیس سال کانگریس سے وابستگی کے بعد اسی سال فروری میں این سی پی (اجیت پوار) میں شامل ہونے والے سابق ریاستی وزیر بابا صدیقی پر سنیچر کی رات تقریباً ۱۰؍ بجے کئی راؤنڈ فائرنگ کی گئی۔ اسپتال لے جانے تک ان کا انتقال ہو گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق گولیاں اُن کے سینے اور پیٹ پر لگیں۔

اپوزیشن نے مہاراشٹر میں ‘امن و امان کو تباہ کرنے کا الزام لگایا،بابا صدیق کو ہفتے کی رات ممبئی میں تین نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ نرمل نگر میں کولگیٹ گراؤنڈ کے قریب ان کے ایم ایل اے بیٹے ذیشان صدیق کے دفتر کے باہر حملہ کیا گیا۔
سابق ریاستی وزیر کو لیلاوتی اسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ چیف منسٹر ایکناتھ شندے کے مطابق اس قتل کے سلسلے میں دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

شیو سینا (یو بی ٹی) کی رہنما پرینکا چترویدی نے کہا کہ وہ صدیق کے قتل کے بارے میں سن کر حیران رہ گئیں۔”شری بابا صدیق کو گولی مار دیے جانے کے بارے میں سن کر صدمہ ہوا۔ ذیشان صدیق کے ساتھ میری تعزیت، ان کے اور ان کے اہل خانہ کو ان کے مشکل ترین لمحے میں بہت زیادہ طاقت کی خواہش،ـ” چترویدی نے ” پر لکھا۔

واضح رہے کہ بابا صدیقی کے فرزند ذیشان صدیقی اسی حلقہ سے رکن اسمبلی ہیں اور فائرنگ ذیشان صدیقی کے آفس کے قریب ہی ہوئی ہے۔ ا س علاقہ میں صدیقی خاندان کا کافی اثر و رسوخ ہے۔ ایسے میں برسراقتدار پارٹی کے لیڈر کا سنسنی خیز قتل بہت سے سوال کھڑے کرتا ہے۔ این سی پی( اجیت پوار) کے لیڈروں نے عین دسہرے کے موقع پر ہونے والی اس واردات کی شدید مذمت کی ہے اور پولیس سے باریکی سے جانچ کرنے اور خاطیوں کو فوراً گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کےمطابق ۱۵؍ دن قبل ہی انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی جس کے سبب انہیںوائے زمرے کی سیکوریٹی دی گئی تھی۔ اس کے باوجوداُن پر فائرنگ ہوئی۔ اس سلسلے میں این سی پی ( اجیت ) کے ریاستی صدر سنیل تٹکرے نے حملہ آوروں کو فوراً گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

m%2Findia-news%2Fbaba-siddiqui-shot-dead-opposition-alleges-collapsing-law-and-order-in-maharashtra-101728756049111.html
کانگریس کے ترجمان سچن ساونت نے بھی اس پر ردعمل ظاہر کیا اور کہاکہ یہ بھیانک واردات ہے، ممبئی اور ریاست میں لاء اینڈ آرڈر کی حالت کتنی دگرگوں ہے اس کا اندازہ اس واردات سے لگایا جاسکتا ہے کیونکہ بابا صدیقی برسراقتدار پارٹی کے لیڈر ، سابق رکن اسمبلی اور سابق وزیر تھے، اگر ان کے ساتھ ایسا ہوسکتا ہے تو عام آدمی کا کیا حال ہو گا۔

وزیر اعلیٰ شندے نے اس سانحہ پر کہا کہ ’’ممبئی پولیس کمشنر نے مطلع کیا ہے کہ تین میں سے دو حملہ آوروں کو حراست میں لےلیا گیا ہے، ان میں ایک ہریانہ اور دوسرا یوپی سے ہے۔ ممبئی کرائم برانچ اس کی جانچ کر رہی ہے، تیسرے فرار ملزم کی تلاش بھی جاری ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button