
154 کلو وزنی ماں کے بیٹھنے سے 10 سالہ بچہ ہلاک
لے پالک ماں کو 10 سالہ بچے کے قتل پر 5 سال قید کی سزا
نیویارک:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی ریاست انڈیانا کے شہر والپاریسو میں ایک دلدوز واقعہ پیش آیا، جہاں 10 سالہ بچہ ڈکوٹا لیوی اسٹیونز اپنی 340 پاؤنڈ (154 کلو) وزنی لے پالک ماں کے نیچے دب کر جاں بحق ہو گیا۔ جینیفر لی ولسن نامی خاتون نے مبینہ طور پر تقریباً 5 منٹ تک بچے پر بیٹھے رہنے کے بعد بھی یہ سمجھا کہ وہ ڈرامہ کر رہا ہے۔
ماں کو لاپرواہی سے قتل کا مجرم قرار دے دیا گیا
48 سالہ جینیفر لی ولسن کو عدالت نے لاپرواہی سے قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے 6 سال قید کی سزا سنائی، جس میں سے 1 سال پروبیشن پر معطل کر دیا گیا۔
یہ اندوہناک واقعہ 25 اپریل 2023ء کو پیش آیا، جب پولیس کو ولسن کے گھر سے ایمرجنسی کال موصول ہوئی۔ جب پولیس پہنچی تو ڈکوٹا بے ہوش تھا اور اس کی نبض نہیں چل رہی تھی۔ پولیس نے بچے کے گلے اور سینے پر شدید چوٹوں کے نشانات دیکھے اور اسے اسپتال منتقل کیا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔
ماں کا اعتراف جرم
جینیفر ولسن نے تفتیش میں بتایا کہ بچہ گھر سے بھاگ گیا تھا اور ایک پڑوسی کے ہاں پایا گیا، جہاں سے واپس لانے پر وہ زمین پر گر کر ضد کرنے لگا کہ وہ گھر چھوڑ کر جا رہا ہے۔ ماں نے غصے میں آکر اس پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
5 منٹ بعد جب بچہ حرکت کرنا بند کر چکا تھا، تو ولسن کو لگا کہ وہ ڈرامہ کر رہا ہے۔ لیکن جب اس نے بچے کی آنکھیں چیک کیں تو وہ بے جان ہو چکا تھا، جس کے بعد اس نے CPR دینے کی کوشش کی اور 911 پر کال کی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ اور گواہ کا بیان
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ڈکوٹا کی موت "میکینیکل اسفیکسیہ” (سانس رکنے) کی وجہ سے ہوئی اور اسے قتل قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں شدید اندرونی چوٹوں، جگر اور پھیپھڑوں میں خون بہنے کی بھی تصدیق ہوئی۔
ڈکوٹا کا وزن 91 پاؤنڈ اور قد 4 فٹ 10 انچ تھا، جبکہ ولسن کا وزن 340 پاؤنڈ اور قد 4 فٹ 11 انچ تھا، جیسا کہ فاکس نیوز نے رپورٹ کیا۔
ایک پڑوسی گواہ کے مطابق، ڈکوٹا حادثے سے قبل اس کے گھر آیا اور اس سے التجا کی کہ وہ اسے گود لے لے، کیونکہ اس کے والدین نے اس کے چہرے پر مارا تھا۔ تاہم، پڑوسی نے کہا کہ اس نے بچے پر کسی قسم کے ظاہری زخم نہیں دیکھے۔ بعد میں ولسن آئی اور بچے کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئی۔
ڈکوٹا کی اصل فیملی کا ردعمل
ڈکوٹا کی پیدائشی خالہ، آنا پیریش پارکر نے اس کی موت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اور اس کی بہن تقریباً ایک سال تک ان کے ساتھ رہے کیونکہ ان کی حقیقی ماں نشے کی عادی تھی اور والد کا انتقال ہو چکا تھا۔
پیریش پارکر نے ڈکوٹا کو ایک متحرک اور خوش باش بچہ قرار دیتے ہوئے کہا:"جیسے ہی اس کی آنکھ کھلتی، وہ بھاگ دوڑ میں مصروف ہو جاتا۔ اسے کیڑے تلاش کرنا اور اپنی بہن کے ساتھ باہر کھیلنا بے حد پسند تھا۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ڈی سی ایس (چائلڈ پروٹیکٹو سروسز) نے ڈکوٹا اور اس کی بہن کو زیادہ تھراپی سیشنز میں شامل کرنے کے لیے لے پالک سسٹم میں ڈال دیا۔ تاہم، پیریش پارکر اس فیصلے سے خوش نہیں تھیں کیونکہ بچوں کے اسکول کے ساتھ مزید دو دن والدین سے ملاقاتوں کے لیے مختص کیے گئے، جس سے ان کے لیے بچپن گزارنا مشکل ہو گیا۔
"جج نے ڈی سی ایس کی درخواست پر بچوں کو لے جانے کا حکم دے دیا، اور مجھے کبھی یہ موقع ہی نہیں ملا کہ میں جج کے سامنے جا کر کہہ سکوں کہ میں نہیں چاہتی کہ ان پر مزید تھراپی کا دباؤ ڈالا جائے۔” – پیریش پارکر خالہ
ڈکوٹا کے سابق لے پالک والد کی یادیں
ڈکوٹا کے سابق لے پالک والد (2019-2021) ہائیڈن ہیٹزل نے جذباتی انداز میں کہا:
"میں خوش قسمت تھا کہ میں نے اس کے ساتھ بہترین وقت گزارا۔ وہ ہمیشہ مجھے ‘ڈیڈ’ کہہ کر بلاتا تھا، ہر وقت کہتا، ’ڈیڈ یہ کریں، ڈیڈ وہ کریں، چلو سیر پر چلیں۔‘



