بین الاقوامی خبریںسرورق

گوانتاناموبے کے’طالبان فائیو‘ میں سے چار اب وزیر کے عہدے پر

کابل،۸ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)طالبان نے افغانستان کی عبوری حکومت میں بدنام زمانہ امریکی جیل گوانتاناموبے میں طویل عرصہ قید کاٹنے والے اپنے چار رہنماؤں کو بھی اہم عہدے دیے ہیں۔ طالبان ترجمان کے مطابق سابق گوانتاناموبے قیدی ملا عبدالحق وثیق کو نئی افغان حکومت میں انٹیلی جنس سربراہ، خیر اللہ خیر خواہ کو وزارت اطلاعات و ثقافت، ملا نور اللہ نوری کو وزیر سرحدی و قبائلی امور اور ملا محمد فاضل کو نائب وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے۔

اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں

یہ سابق قیدی 1996 سے 2001 تک طالبان کے پہلے دور حکومت میں بھی اعلیٰ عہدوں پر موجود تھے۔ ان میں سے ملا محمد فاضل اور ملا عبدالحق واثق کو دوبارہ انہی محکموں اور عہدوں کی ذمہ داری دی گئی ہے جن پر وہ دو دہائی قبل بھی فائز رہے۔ چاروں طالبان رہنما اور ان کے ایک اور ساتھی محمد نبی عمری وہ پانچ قیدی تھے جنہیں جون 2014 میں اوباما انتظامیہ نے ایک امریکی فوجی اہلکار سارجنٹ بوبرگڈال کی رہائی کے بدلے رہا کیا اس لیے انہیں ’طالبان فائیو‘ کے نام سے بھی پہنچانا جاتا ہے۔

سارجنٹ بوبرگڈال کو 2009 میں افغانستان کے مشرقی صوبہ پکتیکا میں ایک چیک پوسٹ سے طالبان کے حقانی نیٹ ورک نے اغوا کیا تھا۔پانچوں طالبان رہنماؤں کو سال 2001 اور 2002 کے دوران پاکستان اور افغانستان کے مختلف شہروں سے گرفتار کر کے گوانتاناموبے منتقل کیا گیا تھا جہاں انہوں نے 12 سے 13 سال گزارے۔

جون 2014 میں رہائی کے بعد بھی یہ پانچوں طالبان رہنما قطر میں امریکی اور قطری حکام کی نگرانی میں رہے اور ان پر سفری پابندیاں بھی رہیں۔ امریکی انٹیلی جنس نے انہیں طالبان کے سخت گیر رہنما اور امریکا و اتحادی فورسز کے لیے انتہائی خطرہ قرار دیا تھا اور ان کی رہائی کی مخالفت بھی کی تھی۔سنہ 2019 کے اوائل میں دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا آغاز ہوا تو طالبان نے انہیں اپنی مذاکراتی ٹیم کا بھی حصہ بنایا۔

سابق قیدی امریکی سفارت کاروں اور جرنیلوں کیآمنے سامنے مذاکرات کی میز پر بیٹھے تو دنیا بھر میں اس پہلو کو دلچسپی سے دیکھا گیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ طالبان کے قطر سیاسی دفتر کے سربراہ و نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر خود بھی پاکستان میں طویل عرصہ قید رہے۔

دو دہائیوں کے دوران قید رہنے والے سابق گوانتاناموبے قیدیوں کے بارے میں طالبان قیادت کہہ چکی ہے کہ انہوں نے تحریک کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور یہ سب تحریک کے بانی ملا محمد عمر کے قابل اعتماد دوست تھے۔ قید ہی شاید ان کے دوبارہ اہم عہدوں پر انتخاب کی وجہ بنی۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button