بین الاقوامی خبریں

حوثی حملوں کا خطرہ، فرانس کا سعودی عرب کے ینبع آئل ٹرمینل کے تحفظ کے لیے فوج بھیجنے کا اعلان

ہم فوجی وسائل بھیجیں گے تاکہ ینبع کے اہم توانائی مرکز کا تحفظ کیا جا سکے۔ایمانوئل میکرون

پیرس، 25 ستمبر (اردو دنیا نیوز / ایجنسیز) فرانس نے سعودی عرب کے اہم تیل مرکز ینبع کی سیکیورٹی مضبوط کرنے کے لیے فوجی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس سعودی عرب میں فوجی اہلکاروں کے علاوہ ریڈار اور فضائی دفاعی نظام بھی تعینات کرے گا تاکہ اہم توانائی کی تنصیبات کو ممکنہ حوثی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

میکرون نے جمعرات کو فرانسیسی ٹی وی چینلز TF1 اور France 2 کو انٹرویو دیتے ہوئے ینبع کے حوالے سے کہا کہ فرانس وہاں فوجی وسائل بھیجے گا۔ ان کے مطابق اس تعیناتی کا مقصد سعودی عرب کے اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت میں مدد فراہم کرنا ہے۔

بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع سعودی عرب کے لیے ایک اہم توانائی مرکز ہے۔ یہاں تیل ذخیرہ کرنے، ریفائننگ اور برآمد سے متعلق بڑی تنصیبات موجود ہیں۔ سعودی عرب اپنے مشرقی تیل پیدا کرنے والے علاقوں سے پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کو بحیرہ احمر تک پہنچاتا ہے، جہاں سے اسے عالمی منڈیوں تک بھیجا جا سکتا ہے۔

حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران ینبع کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ خلیج اور مشرق وسطیٰ کے اہم سمندری راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث سعودی عرب کے متبادل تیل برآمدی راستوں کی سیکیورٹی عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے بھی اہم بن گئی ہے۔

سعودی عرب کے مطابق حالیہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے مختلف سعودی علاقوں کی طرف میزائل حملے کیے گئے ہیں۔ ان حملوں میں ینبع کی سمت آنے والے میزائل بھی شامل بتائے گئے ہیں۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائلوں کو روک دیا، تاہم حملوں سے متعلق تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

حوثی گروپ نے ماضی میں سعودی عرب کی توانائی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ینبع میں سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو سے متعلق تنصیبات کی موجودگی کے باعث اس علاقے کو اہم سیکیورٹی تنصیبات میں شمار کیا جاتا ہے۔

فرانس کی جانب سے فوجی مدد کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف سیکیورٹی صورتحال مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ باب المندب عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے۔

یمن میں حوثیوں کی عسکری سرگرمیوں اور سعودی حمایت یافتہ قوتوں کے ساتھ کشیدگی نے بھی خطے کے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی موجودگی اور حملوں کے خدشات کے باعث خطے میں اہم بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

میکرون کے اعلان کے مطابق فرانس کی جانب سے فراہم کیے جانے والے فوجی وسائل میں اہلکار، ریڈار اور فضائی دفاعی سازوسامان شامل ہوگا۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں سے ینبع کی اہم تنصیبات کو تحفظ فراہم کرنے میں سعودی عرب کی مدد کرنا ہے۔

ینبع سعودی عرب کے لیے صرف ایک صنعتی اور تیل مرکز ہی نہیں بلکہ ایک اہم برآمدی راستہ بھی ہے۔ بحیرہ احمر کے ذریعے تیل کی ترسیل سعودی عرب کو خلیج کے سمندری راستوں پر انحصار کم کرنے کا ایک اضافی ذریعہ فراہم کرتی ہے۔

فرانس کے اس اعلان کے بعد سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحیرہ احمر کے اہم مقامات کی سیکیورٹی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ینبع جیسے اہم توانائی مراکز کی حفاظت سعودی عرب کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی سپلائی کے لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button