فلم سازی میں پوری دنیا کا جائزہ لینے کے لیے امریکہ کے صف اول میں مقیم نظر آتا ہے، ہالی ووڈ یہاں بڑے پیمانے پر فلم سازی کی صنعت قائم ہے، کامیابی کی تعداد میں فلمیں بنائی جاتی ہیں، فلموں کو دنیا کے تمام ممالک میں بیک کیا جاتا ہے۔ وقت جاری کیا جاتا ہے، مغرب نواز بھارت میں ہالی ووڈ کے بعد دوسرے مقام پر۔
یہاں تک کہ ہالی ووڈ ہی کے طرز کا نام بالی ووڈ رکھا گیا ہے، بھارت فلم سازی سے تعلق رکھنے والے اپنے سامنےی کا ثبوت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں آپ کے نام بھی بالی ووڈ رکھا گیا ہے جو ہالی ووڈ سے فوٹو جلتا ہے۔
دنیا کی پوری دنیا میں ہالی ووڈ میں بنی فلم بالی ووڈ کے کسی فلم ساز نے اسی طرز پر فلم بنا کر جاری کر دی، اس کی نقل میں مہارت رکھنے والے بالی ووڈ کے فلم ساز کے موقع پر ہالی ووڈ سے۔ بہترین فلموں کو بالی ووڈ میں نقل کرتے ہوئے فلم سازی کرتے ہوئے کئی بار دیکھتے ہیں۔
بہر کیف بالی ووڈ، ہالی ووڈ کے شانہ بشانہ فلم سازی میں آپ کو نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، ساٹھ کے علاقے میں بھارت میں تاریخی فلم بنی کا نام تھا "مغل اعظم” آصف پریوسر اور کار اس فلم کے۔ پوری دنیا میں بھارت کو بہت پزیرائی بخشی، دنیا یہ تسلیم کرنے پر ہم نے بھی کسی بھی فلم سازی سے کم تر ہے۔
بہر کیف مغل اعظم کی فلم کی کہانی انتہائی خوبصورت ہیں، محبت کے لیے بادشاہ سے بغاوت کرنے والا بادشاہ کا شہزادہ، گویا کہ فلم کو دیکھنے والے شخص فہم اور ادراک و اعصابی اس کے فلم کے مناظر میں کہ غرق ہو
دیکھنے والا محبت و الفت کے سمندر میں غوطہ زن ہوجاتا، اس تماشابن کی اپنی محبت اس کی ذات سے لوگوں میں بکھرنے لگتی ، ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ گذر چکا "مغل اعظم” فلم کو بنے تاہم آج بھی یہ فلم محبت کا پیغام اپنے اسی انداز میں دیکھنے والے کو فراہم کر رہی ہے۔
اسی اثناء وقت کے ساتھ فلم سازی کا معیار بد سے بد تر ہوتا چلا گیا، ادھر مغرب میں ہالی ووڈ کا بول بالا دنیا پوری میں سر چڑھ کر بول رہا تھا، مزید” Rambo” جیسی فلم بنا کر جو تن تنہا روس جیسی بڑی عسکری قوت کو شکست دیتا ہوا نظر آیا، گویا قوم کو یہ پیغام ہالی ووڈ دے رہا تھا ہم فوجی اعتبار سے روس پر فوقیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب ٨٠ کی دہائی میں بھارت ٹیلی ویژن پر راماین و مہابھارت جسے سیریل کی نمائش میں مصروف تھا، مزید ان سیریل کا واحد مقصد نیز لب و لہجہ ہندؤ دھرم کو بڑے پیمانے پر ملک میں بسے ہر شہری ہر گھر تک رسائی حاصل ہو مزید ملک میں بسے اکثریتی طبقہ کو دھرم سے قریب تر کردے۔
جنگ وجدل پر مبنی اس سلسلہ وار سیریز کو برسوں تک قسطوں میں چلایا گیا مقصد لوگوں کی ذہین سازی تھی، مخصوص لائحہ عمل کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی ذہین سازی کی گئی، جس کے ثمرات آج بھارت میں اجاگر ہو چکے چالیس سال پہلے شروع ہوئی میڈیا کے ذریعے لوگوں کے ذہین سازی نیز اسے تبدیل کر کے اپنے مفاد میں استعمال کرنا حصول مقصد تھا۔
نتیجہ آج حکومت سازی تک رسائی حاصل کرنے میں حکومت ساز کامیاب ہو گئے، اپنے تخریبی سیاسی ایجنڈے و ہدف تک رسائی میں میڈیا و فلم سازی کا استعمال حکمران جماعت انتہائی خوبصورتی سے کرتی آئی ہیں۔
١٩٢٥ میں قائم جماعت آر ایس ایس اپنی طے شدہ عزائم و مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو چکی اسے تقویت ٤٦٥ سالہ بابری مسجد کو شہید کر کے حاصل ہوئی، آج یہی آر ایس ایس کی سیاسی جماعت حکمرانی کا شرف لئے بھارت میں رہنے والے اقلیت کو پہ در پہ ایذا پہچانے میں کوئی قصر نہیں چھوڑتے۔
کانگریس کی نااہل کارکردگی گویا یہ پیغام دے رہی ہے کہ کانگریس بھی آر ایس ایس ہی کے نظریات کو اپنے اندر زم کر چکی ہے۔
شہادت بابری مسجد کے دس سال بعد سانحہ گودھرا وقوع پذیر ہوا یا کروایا گیا، مزید اس کو جواز بنا کر گجرات میں ہولناک فسادات کا سلسلہ شروع کیا گیا، ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا زندہ نظر آتش کیا گیا، مسلمانوں کے املاک کو پھونک کر راکھ کر دیا گیا۔
وفاقی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی اس وقت بھی تھی آج بھی ہیں، ان ہولناک فسادات پر انسو بہانے والا کوئی نہیں، بہر کیف ٩٠ کی دہائی میں کشمیر علحیدگی پسند تحریکوں سے پھل پھول رہا تھا، حکومت اپنے تمام وسائل ہونے کے باوجود انہیں روکنے میں ناکام تھی، ان علحیدگی پسند عناصر میں قدر شدت آئ ہزاروں کی تعداد میں کشمیری پنڈت نقل مکانی کرگئے۔
آج بھی کشمیری پنڈت اپنے گھروں کو لوٹ نہیں پائے، تیس سال سے زائد عرصہ گذر چکا بھارت کی وفاقی حکومت ازخود نہیں چاہتی کہ دوبارہ کشمیری پنڈت اپنے گھروں کو لوٹیں، چند ہزار پر مشتمل کشمیری پنڈت کو وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت بازآباد کاری نہیں کراسکی یہ حکومت کی نااہل ہونے کے لئے کافی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل الاعلان پوری دنیا میں بسنے والے اتاروں کو اسرائیل میں فلسطین کی غضب کی زمینوں پر نئی بستیاں تعمیر کرنے پر دنیا کے نقشے رائی کے وجود رکھنے والا ملک اسرائیل باز آباد کاری کا کام آسانی سے چلاتا ہے۔ جا رہا ہے، اسی اثناء میں بھارت کا ایک بڑا ملک برہ اعظم رقبہ میں اسرائیل سے بہت بڑا عسکری لحاظ سے ملک مہز چند ہزار کشمیری پنڈت کو دوبارہ بازآباد کرنے میں ٣٢ سال ناکام رہا۔
گزشتہ 3 سال سے کشمیری پنڈت کا مدعا بھارت کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے، انتخابات میں پنڈت کو مظلوم پیش کر کے انتخابات میں فتح یاب کا کام حکمران جماعت بخوبی کرتی چلی آرہی ہے، مزید تخریبی اپوزیشن کسی کو نہ کسی طرح سے فوقتًا وقتًا دیا گیا۔
حال ہی میں جاری کی گئی فلم "کشمیر فائل” اس سمت میں بڑھتے ہوئے ایک اور قدم دیکھے گئے، اس فلم نے معاشرے میں نفرت کو بڑھانے میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے، "کشمیر فائل” فلم نے معاشرے میں محبت و اخوت کا شیر ریزہ بکھر کر رکھ دیا، وفاقی حکومت کی رہنمائی و مزید پشت پناہی نے فلم کو معاشرے میں زہر پھیلانے میں کافی مدد دی۔
اقلیتی دشمنی پر مبنی فلمیں معاشرے کو صرف تقسیم کرسکتی ہے یکجا نہیں نیز ایسی فلموں میں کوئی خیر کا پہلو نہیں ہوتا، بہر کیف تخریبی صلاحیتوں کا استعمال حکمران جماعت بخوبی کرکے خود کو کامیاب تصور کرنے لگتی ہے جتنی خلیج اکثریتی طبقہ اور اقلیتی طبقہ میں بڑھے گی اتنا ہی تخریب کاروں کے مقاصد کامیاب ہونگے۔
"مغل اعظم” سے محبت کا سفر شروع ہوا تاہم 62 سال گزرنے کے بعد محبت کہ ناپید خوشی اب "کشمیر فائل” کو دشمن کے لیے سینما کی زینت بنی ہوئی ہے، بہر کیف وہ آگ سے کھیلنے والے خود آگئے۔ نظر
وماعالینا الاالبلاغ المبین



