پھل اور سبزیاں بہتر یا جوس-ڈاکٹر امۃ المعیز فرزانہ افضل بنگلور
عام طور پر پھلوں یا سبزیوں کو جوس کی شکل میں استعمال 2 مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے
سبزیاں اور پھل صحت کے لئے بہت فائدہ مند ہوتے ہیں اور ان کے استعمال سے دائمی امراض جیسے امراض قلب اور کینسر کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔مگر کچھ افراد پھلوں اور سبزیوں کو جوس کی شکل میں پینا پسند کرتے ہیں تاکہ جسم کی اندر سے صفائی ہوسکے یا غذا میں زیادہ غذائیت کا اضافہ ہو۔ جوس کے حامی افراد کا دعویٰ ہے کہ اس سے پھلوں اور سبزیوں میں موجود اجزا کو جذب کرنے کا عمل بہتر ہوتا ہے جبکہ مخالفین کا ماننا ہے کہ جوسز سے اہم غذائی اجزا جیسے فائبر وغیرہ نکل جاتے ہیں۔ لہٰذا پھلوں اور سبزیوں کو ان کی ٹھوس شکل میں کھانا بہتر ہے۔
جوس کے فوائد
عام طور پر پھلوں یا سبزیوں کو جوس کی شکل میں استعمال 2 مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔کچھ افراد کا ماننا ہے کہ جوس کا استعمال جسم کے اندر سے زہریلے مواد کے اخراج کو یقینی بناتا ہے مگر اس خیال کو سپورٹ کرنے کے لیے کوئی شواہد موجود نہیں۔دوسرا مقصد پھلوں کو روزمرہ کی غذا میں سپلیمنٹ کے طور پر استعمال کرنا ہوتا ہے تاکہ پھلوں اور سبزیوں میں موجود غذائی اجزا کا استعمال بڑھ سکے۔
زیادہ غذائیت کیلئے
یہ حقیقت ہے کہ بیشتر افراد کو پھلوں اور بالخصوص سبزیاں کچھ زیادہ پسند نہیں ہوتیں، تو مناسب مقدار میں غذائی اجزا کا حصول بھی مشکل ہوتا ہے۔آلودہ ماحول اور تناؤ بھی مخصوص غذائی اجزا کی ضرورت کو بڑھا دیتے ہیں۔ پھل اور سبزیاں وٹامنز، منرلز، اینٹی آکسائیڈنٹس اور نباتاتی مرکبات سے بھرپور ہوتے ہیں جو مختلف امراض سے تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔اگر آپ کے لیے غذا میں روزانہ پھلوں اور سبزیوں کی تجویز کردہ مقدار کا استعمال مشکل ہے تو جوس اس کے حصول کا باسہولت ذریعہ ہوسکتا ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 14 ہفتوں تک پھلوں اور سبزیوں کے جوسز کے استعمال سے لوگوں میں بیٹا کیروٹین، وٹامن سی، ای، سلینیم اور فولیٹ کی سطح میں اضافہ ہوا۔ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تازہ پھلوں و سبزیوں کا جوس پینے سے فولیٹ اور اینٹی آکسائیڈنٹس کی سطح بہتر ہوئی۔
امراض سے تحفظ
ایسے تو متعدد شواہد موجود ہیں کہ پھلوں اور سبزیوں کو کھانے سے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے مگر اس حوالے سے پھلوں اور سبزیوں کے جوسز کے فوائد کو ظاہر کرنے والی تحقیقی رپورٹس کو تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔پھلوں اور سبزیوں کے فوائد کا جزوی حصہ ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار ہوتی ہے مگر فائبر بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔بیشتر اینٹی آکسائیڈنٹس فائبر سے جڑ جاتے ہیں اور نظام ہاضمہ میں ریلیز ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ زیادہ مقدار میں پھلوں اور سبزیوں کا استعمال صحت کے بیشتر پہلوؤں کے لیے مفید ہوتا ہے۔ لہٰذا جوسز سے ممکن ہے کہ امراض قلب کا خطرہ کسی حد تک کم ہوجائے، سیب اور انار کے جوس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاتے ہیں۔
مزید براں پھلوں اور سبزیوں کے جوس سیال شکل میں پینا ممکنہ طور پر تکسیدی تناؤ کے عناصر میں کمی لاتے ہیں جس سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔مگر ان نتائج کے باوجود جوسز کے طبی اثرات کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
وزن میں کمی کیلئے
بیشتر افراد جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے جوسز کو ترجیح دیتے ہیں۔ ڈائٹ میں زیادہ تر دن بھر میں 600 سے ایک ہزار کیلوریز جوسز کی شکل میں استعمال کی جاتی ہیں جس سے جسم کو کیلوریز کی شدید کمی کا سامنا ہوتا ہے اور وزن تیزی سے کم ہوتا ہے۔مگر جسمانی وزن میں اس کمی کو کچھ دنوں سے زیادہ برقرار رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں طویل المیعاد بنیادوں پر میٹابولزم سست ہوجاتا ہے جبکہ غذائی اجزا کی کمی کا بھی سامنا ہوتا ہے۔یعنی جوس غذا کا متبادل نہیں اور جسم کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
زیادہ استعمال نقصاندہ
فروٹ جوسز زیادہ مقدار میں استعمال معمول بنانے کو میٹابولک سینڈروم اور موٹاپے کے خطرے میں اضافے سے منسلک کیا جاتا ہے۔اسی طرح ایسے شواہد بھی موجود نہیں کہ ہمارے جسم کی اندرونی صفائی کے لیے سیال غذا کی ضرورت ہوتی ہے، ہمارا جسم زہریلے مواد کی صفائی خودکار طریقے سے کرنے کے لیے ڈیزائن ہوا ہے۔گردوں کے مسائل کا سامنا کرنے والے افراد اگر زیادہ مقدار میں جوسز کا استعمال کریں تو گردے فیل ہونے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
جوس میں مٹھاس زیادہ
جوس کا درست انتخاب اہمیت رکھتا ہے اور پھلوں میں سبزیوں سے زیادہ شکر ہوتی ہے۔بہت زیادہ مقدار میں قدرتی شکر کا استعمال بھی ہائی بلڈ شوگر، جسمانی وزن میں اضافے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر 114 ملی گرام سیب کے 100 فیصد خالص جوس میں فائبر کی مقدار لگ بھگ صفر ہوتی ہے مگر 13 گرام قدرتی شکر اور 60 کیلوریز ہوتی ہیں۔انگوروں کے 100 فیصد خالص جوس کی اتنی ہی مقدار میں 20 گرام شکر ہوتی ہے۔تو شکر کی مقدار کم رکھنے کے لیے سبزیوں کے جوس کو آزمایا جاسکتا ہے۔ سالم پھلوں اور سبزیوں کا استعمال جوسز کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتا ہے، جوسز سے عموماً پھلوں اور سبزیوں میں موجود فائبر غائب ہوجاتی ہے اور یہ غذائی جز جسم کے لئے بہت اہم ہوتا ہے۔ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس جو قدرتی طور پر عموماً نباتاتی فائبرز سے جڑتے ہیں، جوس بنانے کے عمل میں گم ہوجاتے ہیں، یہی وہ ہے کہ سالم پھلوں اور سبزیوں کا استعمال صحت کے لیے زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔اسی طرح جوس بنانے کے دوران فائبر کی 90 فیصد مقدار غائب ہوجاتی ہے۔
فائبر کی ضرورت
فائبر کی زیادہ مقدار کا استعمال امراض قلب، موٹاپے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کے خطرے میں کمی لاتا ہے۔تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ حل پذیر فائبر کا استعمال بڑھانے سے بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کی سطح بہتر ہوتی ہے۔ایک تحقیق میں سیب کھانے والے افراد کے گروپ کا موازنہ ایپل جوس پینے والوں سے کیا گیا۔تحقیق میں دریافت ہوا کہ ایپل جوس پینے والے افراد میں اس پھل کو کھانے والوں کے مقابلے میں نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں 6.9 فیصد اضافہ ہوگیا، اس کی وجہ پھل میں موجود فائبر تھا۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فروٹ جوس پینے والوں میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جبکہ پھلوں کو کھانے سے یہ خطرہ کم ہوتا ہے۔



