حزب اللہ کے مرحوم رہنما نصراللہ کی تدفین؛ نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت
بیروت کے مضافات میں دسیوں ہزار لوگ جمع
بیروت:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) حزب اللہ کے مقتول رہنما حسن نصراللہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اتوار کے روز بیروت کے مضافات میں دسیوں ہزار لوگ جمع ہوئے۔ وہ تقریباً 5 ماہ قبل اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے جس سے ایران کے حمایت یافتہ گروپ کو زبردست دھچکا لگا۔نصراللہ نے اسرائیل کے ساتھ کئی عشروں کے تنازعے میں شیعہ مسلم گروپ کی قیادت کی اور اسے علاقائی طاقت کی حامل ایک فوجی قوت میں تبدیل کر دیا تھا۔ اسرائیل نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک طاقتور اور غیر متوقع حملے میں نصر اللہ کو زیر کیا جس سے حزب اللہ بری طرح کمزور ہو گئی۔
نصراللہ اور گروپ کے دیگر مقتول رہنماؤں کی اجتماعی تدفین کے لیے بیروت میں اتوار کو ہزاروں حامی حزب اللہ کے زیرِ قبضہ جنوبی مضافاتی علاقے میں ایک اسٹیڈیم میں جمع ہوئے جنہوں نے نصراللہ اور حزب اللہ کے پرچم کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔تقریب شروع ہونے سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے 55,000 نشستوں پر مشتمل کیمل شمعون اسپورٹس سٹی اسٹیڈیم بھر چکا تھا۔
لبنان کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی طیارے بیروت پر کم بلندی پر پرواز کر رہے تھے اور صحافیوں نے جنازے کے دوران گڑگڑاہٹ کی آوازیں سنیں۔وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ بیروت میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کے جنازے پر اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں کی پرواز اسرائیل کو دھمکی دینے والے ہر شخص کے لیے ایک "واضح پیغام” تھی۔کاٹز نے ایک بیان میں کہا، ”جو بھی اسرائیل کو تباہ کرنے کی دھمکی دے گا اور اسرائیل پر حملہ کرے گا، اس کا یہی انجام ہو گا۔”
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، شیعہ سیاستدانوں اور ملیشیا کمانڈروں سمیت عراقی وفد اور یمنی حوثیوں کے ایک وفد کی شرکت متوقع تھی۔اجتماعی جنازے کا مقصد حزب اللہ کی جانب سے طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا جسے اسرائیل کے ساتھ گذشتہ سال کی جنگ میں شکست ہوئی، اس کی زیادہ تر قیادت اور ہزاروں مزاحمت کار ہلاک ہو گئے اور جنوبی لبنان میں تباہی مچ گئی۔
حزب اللہ پر مزید شدید اثر ہوا جب شام میں اس کے اتحادی بشار الاسد کی معزولی سے ایک اہم سپلائی روٹ منقطع ہو گیا۔نصراللہ کی موت کے بعد ایک ہفتے تک حزب اللہ کی قیادت کرنے والے ہاشم صفی الدین کی تدفین بھی ہو رہی تھی۔ نصراللہ کے جانشین کے طور پر ان کے نام کا اعلان ہونے سے پہلے وہ اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
موت کے بعد نصراللہ کو عارضی طور پر ان کے بیٹے ہادی کے پہلو میں دفن کر دیا گیا جو 1997 میں حزب اللہ کے لیے لڑتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے۔امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی کی شرائط کے تحت جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے لیے جو وقت درکار تھا، اس کے لیے نصر اللہ کی سرکاری تدفین مؤخر کر دی گئی۔
اگرچہ اسرائیل بڑے پیمانے پر جنوب سے دستبردار ہو گیا ہے لیکن اس کے فوجی علاقے میں پانچ پہاڑی مقامات پر موجود ہیں اور اسرائیل نے اتوار کے روز جنوبی لبنان پر یہ کہہ کر فضائی حملے کیے کہ اس نے حزب اللہ کی سرگرمیوں کی نشاندہی کی تھی۔اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز پر حزب اللہ کی طرف سے اپنے فلسطینی اتحادی حماس کی حمایت میں فائرنگ کے بعد تنازعہ بڑھ گیا تھا۔



