اسرائیل کی حمایت کا اعلان،جی سیون-جنگ بندی کا مناسب وقت نہیں آیا،سیز فائر سے حماس مضبوط ہوگی، امریکہ
جی سیون اجلاس میں فلسطین کے دو ریاستی حل اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ,غزہ پر حملے جاری، مزید 214 شہید
ٹوکیو:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں فلسطین کے دو ریاستی حل اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق جاپانی دارالحکومت ٹوکیو میں ہونے والے جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں شرکا نے فلسطین کے دو ریاستی حل پر زور دیتے ہوئے انسانی بنیادوں پر غزہ پر ہونے والی بمباری کو فوری طور پر روکنے اور جنگ بند کرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔جاپانی وزیر خارجہ یوکو کامیکاوا نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات کا حل دو ریاستوں کا قیام ہے۔ جی-7 کے تمام رکن ممالک بھی فلسطین کے دو ریاستی حل کو درست سمجھتے ہیں اور اسی سے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ہوگا۔
بعد ازاں مشترکہ بیان جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ جی سیون ممالک غزہ میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر امداد، شہریوں کی نقل و حرکت اور سہولت فراہم کرنے کے لیے جنگ بندی اور راہداریاں کھولنے کی حمایت کرتے ہیں۔ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے یرغمال بنائے گئے تمام اسرائیلی و غیر ملکیوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔اجلاس کے اعلامیے میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ ایران حماس اور حزب اللہ کی فوجی اور مالی مدد کرنا بند کرے۔جی سیون ممالک نے ایرانی حکومت پر زور دیا سے ہے کہ وہ حماس اور لبنانی حزب اللہ کی حمایت ترک کرے۔ قبل ازیں جی سیون اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ رکن ممالک حماس کو فنڈز کی فراہمی روکنے سمیت دیگر اقدامات پر بھی کام کر رہے ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے گروپ G7 نے اسرائیل کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صہیونی ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے تاہم اسے عالمی قانون کا خیال رکھنا ہوگا، غزہ پر اسرائیلی فورسز کے حملوں کا سلسلہ جاری، مزید 214 فلسطینی شہید ہوگئے، شہداء کی مجموعی تعداد 10ہزار 569 ہوگئی، انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ کے 20 لاکھ سے زائد شہریوں کو بھوک کا سامنا ہے، اسرائیلی افواج نے غزہ کے شمال سے ہزاروں افراد کو زبردستی گھروں سے نکال دیا، القسام بریگیڈ نے کہا ہے کہ غزہ میں زمینی جنگ کے بعد سے اب تک صہیونی افواج کی 136 گاڑیاں تباہ کی جاچکی ہیں جن میں فوجی ٹینکس اور بکتر بند گاڑیاں بھی شامل ہیں، القسام کے مطابق ان تباہ شدہ گاڑیوں کے ثبوت بھی جاری کرچکے ہیں، صہیونی فورسز پر گھات لگا کر حملے کررہے ہیں جس میں دشمن افواج کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے
جنگ بندی کا مناسب وقت نہیں آیا، سیز فائر سے حماس مضبوط ہوگی، امریکہ
امریکہ نےفلسطین اور غزہ پر بمباری کرکے 10 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور لاکھوں کو بے گھر کرنے والی صہیونی ریاست کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی جنگ بندی کرنے کا وقت مناسب نہیں ہے۔ اگر قبل از وقت سیز فائر ہوا تو اس سے حماس مضبوط ہوگی۔بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق جی سیون اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی ویر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ غزہ میں جنگ کے بعد عبوری حکومت بن سکتی ہے، وہاں اسرائیلی انتظام ہوگا نہ حماس کی حکومت۔واضح رہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں غزہ میں سیز فائر سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ فوری جنگ بندی کے حامی نہیں۔ اس وقت جنگ بندی سب سے زیادہ فائدہ حماس کو ہوگا۔ امریکہ مخصوص مدت اور مقاصد کے حصول تک جنگ بندی کا خواہاں ہے۔
دوسری جانب غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں مزید 214 فلسطینی شہید ہوگئے جن میں بڑی تعداد میں بچے اور خواتین شامل ہیں، اسرائیلی افواج نے مزید تین مساجد بھی شہید کردیں، 33روز میں اب تک 50سے زائد مساجد کو بمباری سے شہید کیا جاچکا ہے۔
صہیونی افواج نے جبالیہ، بوریج اور نصیرت کے کیمپوں پر بھی بم برسائے، القدس اسپتال کے احاطے اور اطراف میں بھی شدید بمباری جاری رہی جس کے باعث اسپتال کا عملہ اور ایمبولنسز زخمیوں کو لانے اور لے جانے سے قاصر ہے، صہیونی افواج نے شمالی غزہ میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام اسکول پر بھی بمباری کردی جہاں ہزاروں پناہ گزین موجود ہیں، القدس اسپتال جانے والی تمام سڑکیں بند ہوگئی ہیں، انسانی حقوق کی تنظیم المیزان سینٹر فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ غزہ میں 20 لاکھ سے زائد کی آبادی کو کھانے کیلئے صرف روٹی کا ٹکڑا بھی میسر نہیں ہے، فلسطینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ القدس اسپتال ایندھن ختم ہونے پر مکمل بند ہوجائے گا جہاں ہزاروں شدید زخمی اور دیگر مریض زیر علاج ہیں، اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ سے ہزاروں افراد کو زبردستی گھروں سے نکال دیا۔



