بین ریاستی خبریںجرائم و حادثاتسرورق

دسویں جماعت کی طالبہ کی 3 اساتذہ نے اجتماعی عصمت دری،متاثرہ کے رشتہ دار سمیت چار گرفتار

دسویں جماعت کی نابالغ طالبہ کے ساتھ کالج کے تین اساتذہ کے ذریعہ گینگ ریپ

چترکوٹ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دسویں جماعت کی نابالغ طالبہ کے ساتھ کالج کے تین اساتذہ کے ذریعہ گینگ ریپ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد چترکوٹ میں ہلچل مچ گئی ہے۔ الزام ہے کہ طالبہ کے ساتھ گزشتہ پانچ ماہ میں مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ پولیس نے اس معاملے میں تین اساتذہ اور متاثرہ طالبہ کے ایک 25 سالہ رشتہ دار کو بھی گرفتار کیا ہے۔ گرفتار اساتذہ میں سے دو اسی کالج میں ہیں جہاں متاثرہ لڑکی پڑھتی تھی، جبکہ ایک اور ٹیچرکاتعلق دوسرے کالج سے ہے۔یہ معاملہ چترکوٹ کے مانک پور قصبہ سے متعلق ہے۔ متاثرہ کے والد نے اس معاملے میں شکایت درج کرائی تھی کہ اس کے ساتھ اس کالج میں اجتماعی عصمت دری کی گئی جہاں اس کی بیٹی پڑھتی ہے۔ والد نے کالج کے پرنسپل اور ٹیچر پر گینگ ریپ کا الزام لگایا۔ اس نے اپنی شکایت میں کہا کہ اساتذہ نے اس کے ساتھ یہ گھناؤنا واقعہ اسکول سے اس کا نام نکالنے کی دھمکی دے کر انجام دیا۔ یوپی کی ایس آئی ٹی اور کرائم برانچ کی ٹیم اس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔

متاثرہ لڑکی نے پولیس اور مجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان بھی ریکارڈ کرایا ہے اور کالج کے پرنسپل اور اساتذہ پر عصمت دری کا الزام لگایا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کالج کے پرنسپل کے کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں متاثرہ کے ایک رشتہ دار کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ موبائل فون کی کال ڈیٹیل میں انکشاف ہوا ہے کہ لڑکی کا کزن بھی اس سے رابطے میں تھا۔ وہ اس وقت ایک پرائیویٹ فرم میں کام کر رہے ہیں۔اس معاملے پر مزید معلومات دیتے ہوئے سی او چترکوٹ نشتہ اپادھیائے نے کہا، "لڑکی نے اپنے گینگ ریپ کے پیچھے جو وجہ بتائی تھی اس کی جانچ کی جا رہی ہے۔” پولیس ذرائع کے مطابق کالج کے دیگر عملے اور اسکول میں زیر تعلیم اس کے دوستوں سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ تحقیقات کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button