غزہ جنگ بندی: رہائی پانے والی پہلی تین اسرائیلی خواتین کون ہیں؟
۔حماس نے جب نووا میوزک فیسٹیول پر حملہ کیا...
دبئی،20جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں حماس نے جن تین اسرائیلی قیدی خواتین کا نام رہائی کے لیے سب سے پہلے اسرائیل کو بھجوایا ہے، ان کے نام بالترتیب یہ ہیں رومی جونین، دورون شطنبرخر اور ایمیلی دماری۔اسرائیل کی طرف سے چار بجے سہ پہر تک ان تینوں قیدی خواتین کے ناموں کی یا ان کی حوالگی کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔حکام کے مطابق ان کے نام اس وقت تک ظاہر نہیں کریں گے جب تک وہ حوالے نہیں ہوجاتیں۔
دوسری جانب ان قیدیوں کے اہل خانہ اور قیدیوں سے بنے اسرائیلی فورم نے یہ نام ظاہر کر دیے ہیں۔اتوار کے روز کئی گھنٹے تک اسرائیلی حکومت اعلیٰ ترین سطح سے حماس کو اس سلسلے میں مورد الزام ٹھہرا کر جنگ بندی پر عمل کو مؤخر کرتے رہے کہ حماس نے رہا کی جانے والی خواتین کی فہرست کا اعلان نہیں کیا ہے۔
رومی جونین: 23 سالہ رقاصہ ہیں۔حماس نے جب نووا میوزک فیسٹیول پر حملہ کیا تھا تو انہیں وہاں سے حراست میں لیا گیا تھا۔ وہ حملے کے بعد کئی گھنٹے تک چھپی رہی تھیں۔ جبکہ کئی اسرائیلی ان کے سامنے ہلاک ہوئے۔ اس دوران رومی جونین نے فون پر اپنے اہل خانہ کو کہا میں آج ماری جاو?ں گی۔ آخری بات جو اس موقع پر سنی گئی وہ عربی زبان میں حملہ آوروں کی تھی جو یہ کہہ رہے تھے کہ یہ لڑکی زندہ ہے۔ ہمیں اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہیے۔ بعد میں اس کا فون غزہ میں ایک جگہ سے مل گیا۔
دورون شطنبرخر: 30 سالہ شطنبرخر جانوروں کے صحت کے شعبے میں نرس کے طور پر کام کرتی تھیں۔ وہ غزہ سے متصل کبوتز کفرازا نامی علاقے سے حراست میں لی گئیں۔ یہ وہی علاقہ ہے جو حماس کے القسام بریگیڈ کے حملے کا سب سے زیادہ نشانہ بنا تھا۔اپنے حراست میں لیے جانے سے پہلے اس نے فون پر اپنے والدین کو بتایا تھا کہ وہ خوفزدہ ہے اور اسے مسلح حملہ آور گرفتار کر سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ بلڈنگ کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ پھر اس نے اپنی دوستوں کو ایک وائس میسج بھیجا کہ حملہ آور پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے مجھے گرفتار کر لیا ہے۔
ایمیلی دماری: 28 سالہ برطانوی نژاد اسرائیلی ہیں۔ ان کو کبوتز کفرازا سے ہی گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی پرورش لندن میں ہوئی اور وہ فٹبال ٹیم کے کھلاڑیوں کی فین ہیں۔ ان کی والدہ کے مطابق اس کا ہاتھ زخمی ہوا تھا اور ٹانگ بھی زخمی ہوئی تھی۔ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی تھی اور اسے اسی کی کار میں غزہ تک لے جایا گیا تھا۔
کیا حماس نے خواتین کو ایک سال تک اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقے میں یرغمال رکھا؟
غزہ،20جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)فلسطینی کی تحریک مزاحمت حماس کی جانب سے تین اسرائیلی خواتین قیدیوں کو رہا کیے جانے کے بعد اتوار کے روز اس علاقے کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے ہیں جس کے اندر حماس نے خواتین قیدیوں کو غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے رکھا تھا۔اس تناظر میں خبروں میں اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حلقے اس خبر کے گردش کرنے کے بعد صدمے میں ہیں کہ حماس نے ’’نٹزاریم کوریڈور‘‘ کے شمالی علاقے میں خواتین قیدیوں کو حراست میں رکھا تھا۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں ایک سال سے زیادہ عرصے سے اسرائیل کا کنٹرول تھا۔اسرائیل نے ’’نٹزاریم محور‘‘ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ وہاں فوجی مقام بنایا۔
اسے غزہ کی پٹی میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے ایک فوجی زون کے طور پر استعمال کیا تھا۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کی ٹیموں نے حماس سے تین مغوی خواتین کو ”نیٹزاریم” کے محور میں حاصل کیا تاکہ انہیں اسرائیلی فوج کے حوالے کیا جائے۔ تینوں خواتین کے کے اہل خانہ کبوتزرعیم کے اندر ڈیلیوری ایریا میں ان کی آمد کے منتظر تھے۔اسرائیلی چینل 12 کے صحافی امیت سیگل نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زیر حراست خواتین زیتون کے علاقے یا غزہ شہر میں تھیں۔
یہ خواتین درحقیقت نیٹزاریم محور کے قریب تھیں۔ اسرائیلی صحافی نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج نے وہاں کئی چھاپے مارے۔ اسرائیل نے غزہ معاہدے میں اب تک بہت بڑی قیمت ادا کی ہے۔غزہ شہر کے وسط میں واقع السرایا کے علاقے میں حماس کے عسکریت پسندوں کے ایک بڑے پھیلاؤ کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ اس علاقے درجنوں نقاب پوش اپنے ہتھیار اٹھائے ہوئے رہائشیوں کے درمیان نمودار ہوئے ہیں۔ اسرائیلی چینل 12 نے تصدیق کی کہ حماس بریگیڈز نے اپنی طاقت برقرار رکھی ہے۔ اب جو کچھ ہو رہا ہے اس سے ہر جگہ ان کی موجودگی اور طویل جنگ کے باوجود غزہ کی پٹی پر ان کے کنٹرول کی تصدیق ہوتی ہے۔



