غزہ کی صورت حال دن بہ دن بدتر ہوتی جا رہی ہے: برطانوی وزیر اعظم
بین الاقوامی سطح پر غزہ کے انسانی بحران پر تشویش میں اضافہ
لندن، ۳؍ جون (اردو دنیا.اِن/ایجنسیز)برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹامر نے اسکاٹ لینڈ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "غزہ میں حالات ناقابل برداشت ہو چکے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔” انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی علاقے کو فوری اور بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی ضرورت ہے، کیونکہ فی الحال جو امداد فراہم کی جا رہی ہے وہ شدید حد تک ناکافی ہے اور اس کی قلت کے باعث علاقے میں تباہی کا دائرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آج صبح اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں امداد لینے والے فلسطینی شہریوں پر گولیاں چلائیں۔ العربیہ ٹی وی کے نمائندے کے مطابق، یہ فائرنگ "غزہ ہیومینیٹرین فانڈیشن” کے امدادی مرکز کے باہر ہوئی جہاں درجنوں افراد خوراک لینے کے لیے جمع تھے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کم از کم تین فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جن میں اکثریت ان افراد کی تھی جو مغربی رفح میں امداد وصول کر رہے تھے۔
اسی دوران، اسرائیلی جنگی کشتیوں نے غزہ کے ساحل پر موجود ماہی گیروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ مزید برآں، اسرائیلی فضائیہ نے خان یونس کے شمال مغربی علاقوں پر متعدد فضائی حملے کیے، جبکہ توپ خانے نے مشرقی غزہ کے التفاح علاقے کو شدید گولہ باری کا نشانہ بنایا۔ غزہ کے شمالی حصے میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں چار شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔
اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم "انروا” نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 20 ماہ کے دوران غزہ میں تقریباً 50 ہزار بچے یا تو شہید ہوئے یا زخمی، جو اس انسانی المیے کی شدت کو واضح کرتا ہے۔ ادارے نے کہا کہ شہری آبادی، طبی و امدادی کارکنان اور صحافیوں تک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور اسرائیلی کارروائیاں غیر معمولی حد تک شدت اختیار کر چکی ہیں۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزارت دفاع نے فائرنگ کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ رفح میں ہونے والی فائرنگ نقاب پوش مسلح افراد کی طرف سے کی گئی تھی، اور اسرائیلی فوج اس میں ملوث نہیں تھی۔ "غزہ ہیومینیٹرین فانڈیشن” نے بھی اس واقعے کی تردید کرتے ہوئے ان رپورٹوں کو من گھڑت قرار دیا۔ تاہم، زخمیوں اور موقع پر موجود عینی شاہدین نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ اسرائیلی فورسز کی جانب سے کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آغاز سے اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کے امدادی ٹرکوں کو کِرم ابو سالم گزرگاہ کے ذریعے محدود تعداد میں داخلے کی اجازت دی ہے، لیکن یہ عمل بہت سست رفتاری سے جاری ہے۔ "غزہ ہیومینیٹرین فانڈیشن” نے 26 مئی سے کھانے کی تقسیم کا آغاز کیا تھا اور اب تک 47 لاکھ سے زائد غذائی پیکٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ تاہم اقوامِ متحدہ نے اس ادارے سے تعاون کرنے سے انکار کر دیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ ادارہ بنیادی انسانی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹامر کا حالیہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر غزہ کے انسانی بحران پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اس بحران کے حل کے لیے عالمی برادری کو فوری، منظم اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔



