اسرائیلی فوج کا غزہ میں شدید حملے کا عندیہ، الشفا ہسپتال سمیت کئی علاقوں کو خالی کرنے کا حکم
غزہ میں قتل عام کا ایک اور خونی دن ، نسل کشی کے586ویں وحشیانہ جنگی جرائم
غزہ، ۱۵ مئی (اردودنیا.اِن/ایجنسیز):اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز غزہ کے متعدد علاقوں کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ جن علاقوں میں انخلاء کی ہدایت دی گئی ہے، ان میں معروف الشفا ہسپتال بھی شامل ہے، جو نہ صرف طبی سہولیات کا مرکز ہے بلکہ ہزاروں بےگھر فلسطینی شہریوں کی پناہ گاہ بھی ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ادرائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر ایک پوسٹ کے ذریعے اعلان کیا کہ جنوبی الرمال کے علاقے میں موجود تمام افراد فوری طور پر علاقہ خالی کر دیں۔ ایک نقشے کے ساتھ جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "حماس شہری علاقوں کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس کے باعث اسرائیلی دفاعی فوج اس علاقے پر شدید حملہ کرے گی۔”
ادھر العربیہ نیوز کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے ان علاقوں پر بمباری شروع کر دی ہے جنہیں خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ بمباری کے نتیجے میں شہریوں میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے جبکہ امدادی کارروائیاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔
80 فلسطینی جاں بحق
غزہ کی سول ڈیفنس نے اطلاع دی ہے کہ بدھ کو فجر کے بعد سے اب تک اسرائیلی فضائی حملوں میں 80 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ حملے اس علاقے پر کیے جا رہے ہیں جو دو مارچ سے اسرائیلی محاصرے میں ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے 19 جنوری کو نافذ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 18 مارچ کو دوبارہ غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔
فوجی منصوبے کی منظوری اور "پوری طاقت” کے ساتھ حملے کی دھمکی
اسرائیلی سکیورٹی کونسل نے رواں ماہ کے آغاز میں غزہ کی پٹی میں فوجی کنٹرول حاصل کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی تھی۔ اس منصوبے کے تحت دسیوں ہزار ریزرو فوجیوں کو متحرک کیا گیا تاکہ کارروائیاں تیز کی جا سکیں اور فلسطینیوں کی "رضاکارانہ ہجرت” کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
کونسل کے مطابق اس مہم کا مقصد حماس کو مکمل طور پر ختم کرنا، اس کے خلاف سخت کارروائی کرنا اور غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کو بازیاب کرانا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملے کس نوعیت کے ہوں گے۔
منگل کو وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا:
"فوج آنے والے دنوں میں پوری طاقت کے ساتھ غزہ کی پٹی میں داخل ہو گی۔”
یہ اعلان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ غزہ میں آنے والے دنوں میں انسانی بحران مزید شدید ہو سکتا ہے۔
غزہ میں قتل عام کا ایک اور خونی دن ، نسل کشی کے586ویں وحشیانہ جنگی جرائم
غزہ،۱۵؍مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ میں جاری اجتماعی نسل کشی کا سلسلہ 586ویں دن بھی نہ تھما۔ گذشتہ 58 روز سے بنجمن نیتن یاھو کی حکومت نے امریکی سیاسی اور عسکری سرپرستی میں جنگی جنون کو مزید ہوا دی ہے، جب کہ عالمی برادری کی خاموشی اور بے حسی نے اس ظلم کو تقویت بخشی ہے۔
قابض اسرائیلی فوج نے درجنوں فضائی حملے کیے، جب کہ مارچ کے آغاز سے غزہ میں بنیادی غذائی اشیا کی ترسیل روک دی گئی ہے، جس سے شہری قحط کی دہلیز پر پہنچ چکے ہیں۔
طبی ذرائع کے مطابق گذشتہ نصف شب سے جاری بمباری میں اب تک 70 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 50 صرف شمالی غزہ میں شہید ہوئے۔
خان یونس میں یورپی ہسپتال پر حملے کے دوران مصطفی الطویل شہید ہو گئے۔ اسی علاقے میں مزید دو شہری شہید اور کئی زخمی ہوئے۔ صحافی حسین ابو خریس اور ایک شہری اس وقت زخمی ہوئے جب اسرائیلی ڈرون نے ملبہ ہٹانے والی مشین کو نشانہ بنایا۔
نصیرات کیمپ میں ڈرون حملے میں چار افراد زخمی ہو کر ہسپتال العودہ منتقل کیے گئے۔ گذشتہ رات اور آج صبح خان یونس پر حملے میں تین شہری باسم ناصر ابو غالی، طارق وادی اور عزالدین معتز سویلم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ یوں صرف یورپی ہسپتال کے آس پاس شہدا کی تعداد 28 ہو چکی ہے۔
خان یونس کے علاقے فخاری میں ابو امونہ خاندان کے گھر پر بمباری میں ایک ہی خاندان کے 9 افراد شہید ہو گئے۔ شہدا میں والد بشیر، والدہ بدور، بچے محمود، منیر، آیہ، ملک، بلال، اور تین کمسن بچے جود، زینب اور بیسان شامل ہیں۔
جبالیہ کیمپ اور جبالیہ البلد پر کی گئی ظالمانہ بمباری میں کم از کم 50 شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ انڈونیشی ہسپتال کے مطابق 50 شہدا میں 22 بچے اور 15 خواتین شامل ہیں۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ جبالیہ پر بمباری میں کم از کم 25 لاشیں نکالی گئیں، جب کہ الجرن محلے میں ایک گھر پر حملے میں 9 شہری شہید ہوئے۔
عمارہ ابو العیش میں عودہ اور خلیل خاندان کے فلیٹس پر بمباری میں بھی کئی شہادتیں ہوئیں۔ جبالیہ کے مغرب میں اسکول ابو حسین اور شارع العجرمہ کے اردگرد گھروں پر بمباری کی گئی۔
خان یونس کے علاقے المواصی میں ابو غنام خاندان کی خیمہ گاہ پر بمباری کے نتیجے میں ایک اور پورا خاندان شہید ہو گیا۔ شہدا میں معتز صبحی الغنام، ان کی اہلیہ دعا یعقوب، اور دو ننھی بیٹیاں جنی اور مریم شامل ہیں۔
فخاری میں بھی ایک اور گھر اسرائیلی حملے کا نشانہ بنا، جب کہ عبسان الکبری میں ڈرون حملے سے تین شہری زخمی ہوئے۔ الزیتون محلے کے الشمعہ علاقے میں اسرائیلی ڈرون (کواڈ کوپٹر) نے شہری گھروں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس سے مزید نقصان ہوا۔
قابض اسرائیل کی جارحیت ہر انسانی اور اخلاقی حد پار کر چکی ہے، جب کہ دنیا تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ غزہ کے مظلوم عوام اپنی بقا، عزت اور زمین کی جنگ لڑ رہے ہیں، جہاں ہر لمحہ موت اور تباہی کا خطرہ ان کے سروں پر منڈلا رہا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی نسل کشی جاری، مزید 215 فلسطینی شہید اور زخمی، مجموعی تعداد 1 لاکھ 72 ہزار سے متجاوز
غزہ ،۱۵؍مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) – غزہ کی وزارت صحت نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج کی جاری نسل کشی کے نتیجے میں آج صبح سے اب تک 70 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 20 مزید شہادتیں اور 124 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت صحت نے یومیہ اعدادوشمار کے مطابق بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کی جانب سے جاری اجتماعی نسل کشی کے باعث شہدا کی مجموعی تعداد 52,928 اور زخمیوں کی تعداد 119,846 تک پہنچ چکی ہے۔
وزارت صحت نے مزید کہا ہے کہ 18 مارچ 2024 کو جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 2,799 فلسطینی شہید اور 7,805 زخمی ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران مجموعی شہدا و زخمیوں کی تعداد 1,72,774 تک جا پہنچی ہے۔ کئی شہدا اب بھی تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے اور سڑکوں پر پڑے ہوئے ہیں جہاں امدادی ٹیموں اور سول ڈیفنس کا پہنچنا ممکن نہیں ہو پا رہا۔
واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی سے 19 جنوری 2025 کو نافذ ہونے والے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی پہلی مدت مکمل ہوئی، لیکن 18 مارچ کو قابض اسرائیل نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی۔ اس کے باوجود تحریک حماس نے معاہدے کی تمام شقوں کی مکمل پاسداری کی تھی۔
معاہدے سے منحرف ہونے کے فوری بعد اسرائیلی افواج نے غزہ پر اجتماعی نسل کشی کی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ ان حملوں میں نہ صرف انسانی جانوں کا بڑا نقصان ہو رہا ہے بلکہ فلسطینیوں پر انسانیت سوز مظالم کی انتہا بھی ہو گئی ہے۔



