غزہ میں اسرائیلی بربریت کا 725واں دن، نسل کشی اور جبری نقل مکانی جاری
قابض اسرائیلی فضائی اور توپ خانے کے حملے، شہری خون میں لت پت
غزہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)غزہ میں قابض اسرائیلی فوج کی نسل کشی کی جنگ آج اپنے 725ویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ فضائی حملے، توپ خانے کی گولہ باری، بھوک اور قحط کے ذریعے فلسطینی عوام شدید نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ سب امریکی فوجی و سیاسی پشت پناہی اور عالمی برادری کی خاموشی کے سائے میں ہو رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قابض فوج نے درجنوں فضائی حملے کیے اور متعدد شہری علاقوں میں قتل عام جاری رکھا۔ دو ملین سے زائد فلسطینی شدید قحط اور جبری بے دخلی کا شکار ہیں۔ شہر غزہ پر حملوں میں شدت بڑھا دی گئی ہے تاکہ اسے خالی کروا کر ملبے کا ڈھیر بنایا جا سکے۔
طبی ذرائع کے مطابق منگل کی صبح سے اب تک خانیونس اور دیگر علاقوں میں حملوں میں متعدد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ المواصی علاقے میں ایک خیمہ نشانہ بنایا گیا، جس میں عبداللہ عوض النجار، ان کی سات ماہ حاملہ اہلیہ آیہ یاسر ابو دقہ اور ان کا بیٹا احمد شہید ہو گئے۔قابض طیاروں نے دیر البلح میں ایک گھر کو ملبے کا ڈھیر بنایا، اور ڈرون حملوں کے ذریعے غزہ شہر کے جنوب مشرقی علاقے الشمعہ میں شہری گھروں کو نشانہ بنایا۔
امریکی پشت پناہی میں قابض اسرائیلی فوج کی اس نسل کشی نے اب تک 66,055 فلسطینیوں کو شہید اور 168,346 کو زخمی کر دیا ہے۔ 9,000 سے زائد افراد لاپتہ ہیں اور بھوک و قحط کے باعث دو ملین سے زائد فلسطینی جبری ہجرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔معصوم بچوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے، جہاں 20,000 سے زائد بچے، 12,500 خواتین اور ایک ہزار سے زائد شیر خوار ہلاک ہو چکے ہیں۔
27 مئی 2025ء کے بعد امدادی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 2,571 فلسطینی شہید اور 18,817 زخمی ہوئے۔طبی عملے کے 1,670 اراکین، 139 سول ڈیفنس اہلکار، 248 صحافی، 173 بلدیاتی ملازمین، 780 امدادی پولیس اہلکار اور 860 کھلاڑی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔قابض فوج نے اب تک 15,000 سے زائد فلسطینی خاندانوں کو نشانہ بنایا، جن میں 2,700 خاندان مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ 88 فیصد عمارتیں تباہ، 163 سکول، 833 مساجد اور 19 قبرستان مٹادیے گئے ہیں۔



