بین الاقوامی خبریںسرورق

الشفا اسپتال سے ریسکیو کیا جانے والا ’انس ‘ماں کی آغوش میں واپس آگیا

فلسطینی ماں نے کہا تھا کہ اتنے دن گزر جانے کے بعد میں اپنے بچے کو زندہ دیکھنے کی امید کھو رہی تھی۔

غزہ ،23نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)غزہ کے الشفا اسپتال پر اسرائیلی بمباری کے بعد وہاں سے ریسکیو کیے جانے والے 31 بچوں کو جنوبی غزہ پہنچانے کے بعد ایک فلسطینی ماں اپنے بچے کو نہیں ڈھونڈ سکی تھی۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق رفح کے اسپتال میں پہنچائے جانے والے نوزائیدہ انس کو اس کی ماں وردہ سبیتا نے گود میں لیتے ہوئے شکر ادا کیا۔روئٹرز ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے فلسطینی ماں نے کہا تھا کہ اتنے دن گزر جانے کے بعد میں اپنے بچے کو زندہ دیکھنے کی امید کھو رہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ میرے شوہر نے رفح کے ایک اسپتال میں نوزائیدہ یونٹ کے سربراہ کی طرف سے فراہم کردہ ناموں کی فہرست دیکھی، اس اسپتال میں بچوں کی دیکھ بھال کی جا رہی تھی اور فہرست میں انس کا نام تھا۔فرط جذبات سے لبریز ماں نے اسپتال میں اپنے بیٹے کو زندہ دیکھتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمارا بچہ محفوظ ہے اور ہمیں مل گیا ہے۔والدین کے اسپتال پہنچتے وقت انس ہلکے نیلے رنگ کے رومپر میں ملبوس انکیوبیٹر میں پرسکون انداز میں سو رہا تھا۔

32 سالہ وردہ سبیتا نے بتایا کہ غزہ سٹی میں ہمارا گھر جنگ کی نذر ہونے کے بعد وہ اور ان کا خاندان جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس کے ایک سکول میں رہ رہے ہیں۔شمالی غزہ سے بے گھر ہونے والے سینکڑوں خاندان اس وقت خان یونس کے سکول میں پناہ گزین بنے ہوئے ہیں۔اس موقع پر وردہ نے بتایا کہ انس کو مصر لے جا کر مزید طبی امداد کی پیشکش ہوئی ہے لیکن اپنے شوہر اور دوسرے بچوں کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی اس لیے پیشکش مسترد کر دی ہے۔رفح اسپتال کے ڈاکٹروں کے مطابق انس غزہ کے الشفا اسپتال میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں شامل تھا۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ایک اہلکار نے منگل کو بتایا تھا کہ الشفا اسپتال سے قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے انخلاء سے ایک رات قبل ہی دو بچے انتقال کر گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button