بین الاقوامی خبریںسرورق

غزہ میں 20 لاکھ افراد پوشیدہ زخموں کا شکار ہیں اور زندگی بقا کی جدوجہد کر رہے ہیں: لازارینی

اسرائیل قتل عام اور آہستہ آہستہ فلسطینیوں کا گلا گھونٹ رہا ہے: یو این ماہرین

نیویارک، ۸؍اپریل(اردو دنیا۔اِن/ایجنسیز)اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (اَنروا) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے عالمی یوم صحت کے موقع پر اپنے پیغام میں غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی، ناکہ بندی اور صحت کی تباہ کن صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے ایکس پلیٹ فارم (سابقہ ٹویٹر) پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ دن، جو عام طور پر صحت اور بحالی کا جشن ہوتا ہے، غزہ میں تباہی اور انسانی المیے کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘

لازارینی نے کہا کہ غزہ کا صحت کا نظام مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ صحت کی سہولیات مسلسل نشانے پر ہیں، جبکہ طبی عملہ بھی شہید و زخمی ہو رہا ہے۔ مسلسل بمباری، محاصرہ، طبی سامان کی کمی، اور مہینوں سے جاری تھکن نے طبی اہلکاروں کو ایسے تباہ کن حالات میں چھوڑ دیا ہے جہاں وہ روز یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کس کو بچایا جائے اور کس کو نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں تقریباً 20 لاکھ افراد شدید نفسیاتی صدمے کا شکار ہو چکے ہیں، جن کی ذہنی صحت پر پوشیدہ مگر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اس کے باوجود، لازارینی نے بتایا کہ اَنروا کے ہیلتھ ورکرز نے جنگ کے آغاز سے اب تک 80 لاکھ سے زائد طبی مشورے فراہم کیے ہیں۔ بمباری اور محاصرے کے باوجود، ہمارے صحت کے مراکز، موبائل کلینکس اور میڈیکل پوائنٹس چوبیس گھنٹے عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔

اپنے بیان کے اختتام پر لازارینی نے عالمی برادری سے فوری جنگ بندی اور محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا: ’’اب بہت تباہی ہوچکی ہے، جنگ کا خونی کھیل بند ہونا چاہیے۔‘‘

واضح رہے کہ اسرائیل، امریکی و یورپی حمایت کے ساتھ، 7 اکتوبر 2023 سے غزہ پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان حملوں میں اب تک 1,66,000 سے زائد فلسطینی شہید و زخمی ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے، جبکہ 14,000 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔


اسرائیل قتل عام اور آہستہ آہستہ فلسطینیوں کا گلا گھونٹ رہا ہے: یو این ماہرین

جنیوا، ۸؍اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)انسانی حقوق کے اقوام متحدہ کے آزاد ماہرین کے ایک گروپ نے غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی جارحیت کو "نسل کشی” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فلسطینیوں کو دانستہ طور پر زندگی کے بنیادی وسائل سے محروم کیا جا رہا ہے۔

ماہرین نے کہا کہ ’’ہم فلسطینیوں کی زندگیوں کی بتدریج تباہی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اگر وہ بموں یا گولیوں سے نہیں مارے جا رہے تو خوراک، پانی اور دوا کی قلت سے آہستہ آہستہ دم گھٹنے سے جان دے رہے ہیں۔‘‘

فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق، ماہرین نے بتایا کہ 18 مارچ کو اسرائیلی فوج کی جانب سے نازک سیز فائر کی کھلی خلاف ورزی کے بعد ایک مرتبہ پھر شدید بمباری اور توپ خانے سے فائرنگ شروع ہو چکی ہے، جو پہلے سے کہیں زیادہ جارحانہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی ماورائے عدالت ہلاکتیں، اجتماعی قبریں اور افراتفری کی پالیسی اس کے نسل کشی کے ارادے کو واضح کرتی ہیں۔ بین الاقوامی تفتیش کاروں کو ان علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی جہاں ان مظالم کا خدشہ ہے۔

ماہرین نے مزید کہا کہ اسرائیل کی پالیسیاں 7 اکتوبر 2023 کے بعد مزید سخت ہو گئی ہیں اور مقبوضہ مغربی کنارے تک بھی نسل کشی کے حملے بڑھا دیے گئے ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو یقینی بنائے، اسرائیل کو نسل کشی اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں سے روکے، اور اس کی مسلسل عسکری و سیاسی حمایت بند کرے۔

ماہرین نے تنبیہ کی کہ ’’اسرائیل کے لیے ہتھیاروں اور ایندھن کی مسلسل منتقلی نسل کشی میں شراکت کے مترادف ہے۔ جتنا زیادہ استثنیٰ دیا جائے گا، اتنا ہی بین الاقوامی قانون اور جنیوا کنونشنز بے اثر ہو جائیں گے۔‘‘

انہوں نے آخر میں کہا کہ اس صورتِ حال میں ناکامی مزید افراتفری، جارحیت اور تصادم کو جنم دے گی، اور اس کی قیمت بے گناہ عام شہریوں کو ادا کرنی پڑے گی۔


نیدرلینڈز کا اسرائیل کے خلاف اہم قدم: فوجی برآمدات پر سخت پابندیاں عائد

ایمسٹرڈیم، ۸؍اپریل(اردو دنیا.اِن/ایجنسیز)ہالینڈ کی حکومت نے قابض اسرائیل کے لیے تمام فوجی مصنوعات اور دوہری استعمال (یعنی شہری اور فوجی) اشیا کی برآمد پر پابندیاں سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈچ حکومت نے پارلیمنٹ کو لکھے گئے ایک خط میں واضح کیا ہے کہ اب اسرائیل کو بھیجی جانے والی تمام براہ راست برآمدات اور ٹرانزٹ مصنوعات کو یورپی ضوابط کی مکمل تعمیل کے تحت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب اسرائیل کے لیے کوئی بھی برآمدی مصنوعات عام برآمدی لائسنس کے تحت کور نہیں کی جائیں گی۔

وزیر خارجہ کیسپر فیلڈکیمپ اور وزیر تجارت رینیٹ کلیور نے اپنے مشترکہ خط میں لکھا کہ ’’اس اقدام کا مقصد اسرائیل، فلسطینی علاقوں اور پورے خطے میں بدتر ہوتی سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں برآمدات پر نظرثانی کرنا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’برآمد کنندگان اب بھی مخصوص مصنوعات کے لیے برآمدی لائسنس کے حصول کی درخواست دے سکتے ہیں، تاہم ان کی منظوری یورپی ضوابط کی سخت روشنی میں دی جائے گی۔‘‘

ڈچ حکومت نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں اپنی تباہ کن جنگ کے آغاز کے بعد سے، ہالینڈ سے عام لائسنس کے تحت کوئی فوجی مصنوعات برآمد نہیں کی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل ’’کم رسک انفارمیشن سیکیورٹی پروڈکٹس‘‘ جیسے کہ نیٹ ورک سیکیورٹی راٹرز کو عمومی لائسنس کے تحت اسرائیل برآمد کیا جاتا تھا، لیکن اب ان اشیا کو بھی انفرادی بنیادوں پر برآمدی اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا، جس کی تعداد 50 سے 100 کے درمیان ہو سکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مکمل امریکی حمایت کے ساتھ، اسرائیل 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 166,000 سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے، جب کہ 11,000 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button