بین الاقوامی خبریںسرورق

غزہ میں 24 گھنٹوں کے دوران 248 فلسطینی شہید اور زخمی

غزہ میں روزانہ 27 بچے شہید، 83 معصوم روزانہ متاثر

غزہ، ۴؍جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)غزہ کی وزارت صحت نے منگل کے روز جاری کردہ اپنی دل دہلا دینے والی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی نسل کشی کی مہم کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں 40 فلسطینی شہید اور 208 زخمی ہوئے۔ اس طرح اسرائیل کی خونی یلغار نے 20 ماہ میں مجموعی طور پر 1 لاکھ 78 ہزار 856 فلسطینیوں کو یا تو شہید کیا یا شدید زخمی کر دیا ہے۔

وزارت صحت کے مطابق شہید ہونے والوں میں پانچ معصوم شہری بھی شامل ہیں جن کی نعشیں ایک بمباری سے تباہ شدہ گھر کے ملبے سے کئی روز بعد نکالی گئیں۔ یہ مناظر ہر زندہ ضمیر انسان کے لیے دل دہلا دینے والے ہیں۔

بیان میں بتایا گیا کہ یہ وحشیانہ قتل عام 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہوا تھا۔ اس دن سے اب تک 54 ہزار 510 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 24 ہزار 901 ہو چکی ہے۔ 18 مارچ کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد سے اب تک 4 ہزار 240 افراد شہید اور 12 ہزار 860 زخمی ہو چکے ہیں۔

وزارت صحت نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کئی شہداء اور زخمی اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے اور کھلے عام سڑکوں پر پڑے ہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں اور شہری دفاعی اہلکار اسرائیلی نشانے کی وجہ سے ان تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مارچ 2025 کے آغاز میں مصر اور قطر کی ثالثی سے اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کا معاہدہ 19 جنوری 2025 سے نافذ العمل ہوا تھا۔ تاہم 18 مارچ کو اسرائیل نے اس معاہدے کو توڑ کر ایک بار پھر فلسطینیوں پر قیامت ڈھا دی۔

قابض اسرائیل کی یہ درندگی، غزہ کی پٹی کو اجتماعی قبروں میں تبدیل کرتی جا رہی ہے، جبکہ عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی اس انسانی المیے کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ یہ صورت حال پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔


غزہ میں روزانہ 27 بچے شہید، 83 معصوم روزانہ متاثر

غزہ، ۴؍جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال "یونیسف” کے فلسطین میں ترجمان کاظم ابو خلف نے غزہ میں جاری انسانی المیے کی ایک اندوہناک حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کا صحت کا نظام مکمل تباہی کے دہانے پر ہے، اور یہ براہِ راست معصوم بچوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہا ہے۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک روزانہ اوسطاً 27 فلسطینی بچے شہید ہو رہے ہیں، جو انسانی تاریخ میں اپنی نوعیت کی بدترین مثال ہے۔ ان کے بقول، "دنیا کے کسی بھی خطے میں اتنے بچے روزانہ نہیں مارے جا رہے جتنے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں شہید ہو رہے ہیں۔”

یونیسف کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اگر زخمی بچوں کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد روزانہ 83 معصوم بچوں تک پہنچ جاتی ہے، جن میں سے کئی ہمیشہ کے لیے معذور یا ذہنی صدمے کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ابو خلف نے خبردار کیا کہ غزہ میں غذائی قلت، قحط اور ادویات کی کمی سب سے زیادہ بچوں کو متاثر کر رہی ہے۔ ہزاروں بچے شدید بھوک، کمزوری اور بیماریاں جھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہزاروں بچوں کو فوری طبی امداد اور غذائی معاونت درکار ہے، مگر قابض اسرائیل کی طرف سے امدادی سامان روکنے کی وجہ سے حالات جہنم میں تبدیل ہو چکے ہیں۔”

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک 40 ہزار سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ ان بچوں نے اپنے والدین کو اپنی آنکھوں کے سامنے شہید ہوتے دیکھا، اور اب وہ جسمانی و ذہنی صدمات کا شکار ہیں جن کے اثرات برسوں قائم رہیں گے۔

واضح رہے کہ دو مارچ سے اسرائیل نے تمام زمینی گذرگاہیں بند کر رکھی ہیں، جس کے باعث 24 لاکھ فلسطینی شدید بھوک، پیاس اور طبی امداد کی قلت میں مبتلا ہیں۔ امدادی گاڑیاں سرحدوں پر کھڑی ہیں مگر اسرائیلی افواج انہیں داخل ہونے نہیں دے رہیں۔

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کی مکمل حمایت سے 7 اکتوبر 2023ء سے غزہ میں نسل کشی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، اس کے نتیجے میں اب تک 1 لاکھ 79 ہزار سے زائد فلسطینی شہید یا زخمی ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ 11 ہزار سے زائد افراد لاپتہ جبکہ لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

یہ تمام صورتحال انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ مگر عالمی برادری کی خاموشی اور دوغلی پالیسی اس المیے کو مزید گھمبیر بنا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button