غزہ میں نومولود بچوں میں خطرناک جینیاتی تبدیلیاں، انسانی المیہ شدت اختیار کر گیا: انروا
نومولود بچوں میں ایسے خطرناک جینیاتی تغیرات سامنے آ رہے ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔
نیویارک، ۱۴؍جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم "انروا” نے ایک ہولناک انکشاف کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ غزہ میں قبل از وقت پیدا ہونے والے نومولود بچوں میں ایسے خطرناک جینیاتی تغیرات سامنے آ رہے ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ یہ افسوسناک اور الم ناک صورتحال قابض اسرائیل کے ظالمانہ محاصرے اور مسلسل فضائی و زمینی بمباری کا براہ راست نتیجہ قرار دی جا رہی ہے، جس نے نہ صرف فلسطینی عوام کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی صحت اور بقا کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔انروا کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے فیلڈ ورکرز غزہ کی پٹی میں بدترین حالات کے باوجود انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں، اگرچہ بنیادی طبی سامان اور علاج معالجے کی اشیاء کی شدید قلت نے ان کے کام کو نہایت مشکل بنا دیا ہے۔
قابض اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ مسلسل اور مزید سخت محاصرہ غذائی قلت، بیماریوں اور انسانی تباہی کی شدت میں بے پناہ اضافہ کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق انروا کی کلینکس میں بچوں اور دیگر کمزور طبقات میں غذائی قلت کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس نے اب ایک ناقابل برداشت انسانی المیے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ غذائی اشیاء اور ادویات سمیت دیگر انسانی امداد کی فراہمی پر اسرائیل کی طرف سے عائد پابندیاں مقامی آبادی کی صحت اور بقا کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہیں۔انروا نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ فوری مداخلت کی جائے اور ضروری سامان کی ترسیل یقینی بنائی جائے تاکہ اس بڑھتی ہوئی اذیت کو روکا جا سکے۔ادھر انروا کے میڈیا مشیر عدنان ابو حسنہ نے العربی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ غزہ میں اس وقت 70 ہزار سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "غزہ کے ہسپتالوں میں ادویات دستیاب نہیں اور طبی عملہ حد درجہ تھکاوٹ اور ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ کے 90 فیصد سے زیادہ شہری غذائی قلت سے متاثر ہو چکے ہیں۔
"ابو حسنہ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اسرائیلی فوج کی جاری بمباری کے نتیجے میں حالیہ دنوں میں روزانہ کی بنیاد پر قتل و غارت گری کی تعداد 110 سے تجاوز کر چکی ہے، جو کہ انسانیت سوز درندگی کی انتہا ہے۔ قابض اسرائیل کی طرف سے جاری اجتماعی سزا غزہ کی معصوم اور نہتی آبادی کو جسمانی، ذہنی اور جینیاتی سطح پر تباہ کر رہی ہے۔ یہ ظلم محض موجودہ نسل تک محدود نہیں بلکہ اس کے مہلک اثرات آنے والی نسلوں کی زندگیوں کو بھی تاریک کر رہے ہیں۔انروا نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ خاموشی ترک کرے اور فوری اقدامات کرے تاکہ فلسطینی عوام کو اسرائیل کے ظلم، قحط اور بیماریوں سے نجات دلائی جا سکے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر دنیا نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔



