بین الاقوامی خبریںسرورق

غزہ: اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی خواتین کی رہائی، آنسوؤں کے ساتھ اظہار مسرت

ایک بڑے استقبالی ہجوم کے درمیان سے گذرتے ہوئے پہنچیں

غزہ ،20جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی خواتین سمیت 90 اسیران کو لے کر دو بسیں رات دو بجے مقبوضہ مغربی کنارے سے ایک بڑے استقبالی ہجوم کے درمیان سے گذرتے ہوئے پہنچیں۔ یہ پیر کی صبح سے پہلے کا وقت تھا جب ایک نئی صبح کی نوید مل رہی تھی۔اسرائیلی جیلوں میں بد ترین حالات میں نظر بند رہنے والی فلسطینی خواتین بسوں کے رکنے اور دروازے کھلنے کے بعد باہر آئیں تو ان کے اہل خانہ، بچے اور دوسرے رشتہ دار جمع تھے۔ یہ ایک آنسوؤں سے بھرا ہوا خوشی کا منظر تھا جب یہ اسیر فلسطینی مائیں اور بیٹیاں اپنے رشتہ داروں سے گلے مل رہی تھیں۔فلسطینی بچوں نے اس وقت بھی مزاحمتی تحریک حماس کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔ ان کی زبان پر نعرے تھے، ہاتھوں میں پرچم اور وہ پر جوش انداز میں بسوں کی چھتوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ دوسری جانب فلسطینی خوشی میں آتش بازی کر رہے تھے۔

عام طور پر بیتونیا کے مضافات خاموش نظر آتے ہیں۔ لیکن پیر کے روز علی الصبح بھی خوب رونق بلکہ جشن کا سماں تھا۔ان رہائی پانے والی فلسطینی بیٹیوں میں ایک خاتون صحافی بھی شامل تھیں۔ انہیں مارچ 2024 میں اسرائیلی فورسز نے گرفتار کیا تھا۔ اب فلسطینی اسیران کی پہلی کھیپ میں انہیں بھی رہائی ملی ہے۔جنگ بندی معاہدے کے تحت پہلا مرحلہ 42 دنوں پر مشتمل ہوگا۔اس عرصے میں کل 33 اسرائیلی قیدی رہا کیے جائیں گے اور ان کے بدلے میں 1900 کے قریب فلسطینی اسیران رہائی پائیں گے۔رہائی پانے والی فلسطینی خاتون تاویل کے رہائی کے اس سفر کا آغاز ہفتے کی صبح 3 بجے ہوا تھا۔ جب انہیں پہلے ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔ تاکہ فلسطینیوں کی رہائیوں پر ان کے خاندانوں، رشتہ داروں اور عام فلسطینیوں کے خوش ہونے کا امکان روکا جا سکے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی حکومت نے باقاعدہ احکامات جاری کیے تھے کہ دیکھنا فلسطینی خوش نہ نظر آئیں۔خوشی کے فلسطینی اظہار کو روکنے کے لیے اسیران کے گھروں پر اسرائیلی فوج نے دو دن سے ریڈ بھی شروع کر دی تھے۔ گھروں پر پرچم اور جمع ہونے کو زبردستی روک گئے تھے۔

تاویل کو ایک جیل سے دوسری جیل لے جایا گیا جہاں دوسری رہائی پانے والی فلسطینی اسیران کی بی ایک تعداد موجود تھی۔ تاویل نے کہا یہ انتظار بڑا کٹھن تھا مگر شکر ہے رہائی کا یہ لمحہ آگیا۔انہیں وکیل کی طرف سے بتایا گیا تھا ‘ جنگ بندی معاہدہ ہو گیا ہے اور اس پر عمل درآمد کا مرحلہ ہے۔ تاویل کے والد بھی اسرائیل کی ایک جیل میں ہیں۔ اسے اپنے والد کے بارے اب بھی فکر مندی ہے کہ انہیں کب رہائی ملے گی۔ تاہم اسے رہا ہونے کے بعد خوشخبری ملی ہے کہ اس کے والد کو بھی رہائی مل سکے گی۔تاویل اور دوسرے 89 رہائی پانے والے اسیران سینکڑوں رشتہ دار فلسطینیوں کے استقبالی ہجوم میں گھرے تھے۔ مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے رام اللہ کے مضافات میں بیتونیا میں یہ ہجوم آنسوؤں اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ موجود تھا۔

اس دو بسوں پر آنے والے قافلے سے پہلے ہی بہت سے استقبالی فلسطینی بیتونیا کی ایک پہاڑی پر موجود تھے تاکہ اوفر جیل کے منظر پر نگاہ رکھیں اور جیل سے رہا ہونے والوں کو سب سے پہلے دیکھیں۔23 سالہ آمندا ابو شارخ نے کہا ‘ میں یہاں رہائی پانے والوں کے خاندانوں کے جذبات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے آئی ہوں۔ لیکن یہاں آیا ہوا ہر فرد ہی اس خاندان کاحصہ ہے۔ یہ سب ایک ہی تو ہیں۔رہائی پانے والوں کا انتظار سردی کی رات میں جاری تھا۔ فلسطینیوں نے انتظار کے ان لمحات کو گزارنے کے لیے مختلف جگہوں پر آگ جلا رکھی تھی جس سے پہاڑی روشن ہوگئی۔ اس خبر کے بعد کہ تین اسرائیلی قیدی خواتین کو رہائی مل گئی ہے، استقبال میں جوش و خروش اور بڑھ گیا۔20 سالہ محمد نے بتایا کہ وہ رام اللہ سے اپنے دوستوں کے ساتھ آیا ہے۔ محمد کو حال ہی میں اوفر جیل سے رہائی ملی ہے۔ اسے اس بات کی بہت خوشی تھی کہ فلسطینی قیدی اپنے خاندان والوں سے مل سکیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button