بین الاقوامی خبریں

غزہ میں زندہ رہنے کے لیے جان کا نذرانہ وصول کرنا ناقابل قبول ہے:یو این سیکرٹری جنرل

غزہ میں روٹی لینے نکلو، کفن پہن کر واپس آؤ: اقوام متحدہ کا اسرائیلی مظالم پر شدید ردعمل

نیویارک، 3 جون (اردو دنیا/ایجنسیز):اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں امدادی سامان حاصل کرنے کی کوشش کے دوران فلسطینیوں کے شہید اور زخمی ہونے کی دل دہلا دینے والی خبروں پر گہرے صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے ان المناک واقعات کی فوری اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ یہ حقیقت سامنے آ سکے کہ مظلوم فلسطینیوں کو صرف خوراک کے ایک نوالے کے لیے اپنی جان کیوں دینی پڑ رہی ہے۔

انتونیو گوتریس نے زور دے کر کہا کہ یہ قابض اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ غزہ میں امدادی سامان کی بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنائے اور اقوامِ متحدہ کے اداروں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کرے تاکہ وہ اپنا انسانی فریضہ بخوبی انجام دے سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی بھی مہذب دنیا میں قابلِ قبول نہیں کہ لوگ زندہ رہنے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالیں۔

انہوں نے اس خونی تنازع کے عسکری حل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے فوری اور مستقل جنگ بندی کی اپیل کی۔ گوتریس نے کہا کہ اس وقت انسانی المیہ سنگین ترین مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور مزید خاموشی مجرمانہ غفلت کے مترادف ہوگی۔

اسی روز غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر نے اطلاع دی کہ 27 مئی 2025 سے اب تک رفح اور جسر وادی غزہ کے علاقوں میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں کم از کم 52 فلسطینی شہید اور 340 زخمی ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کا نشانہ امدادی مراکز اور خوراک کے حصول کے لیے جمع ہونے والے عام شہری بنے۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے ایک اور لرزہ خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ہر شہید فلسطینی کے جسم پر صرف ایک ہی گولی پائی گئی، جو یا تو سر میں لگی تھی یا سینے میں۔ یہ اس بات کا واضح اور ناقابل تردید ثبوت ہے کہ اسرائیلی فورسز نے نہایت بے رحمانہ اور مجرمانہ نیت سے براہِ راست شہریوں کو نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ 18 مارچ 2025 کو اسرائیل نے ایک بار پھر غزہ پر حملے اور محاصرے کا سلسلہ شروع کر دیا، حالانکہ 19 جنوری کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت دو ماہ تک حملے بند رہنے تھے۔ تاہم، اس پورے عرصے میں اسرائیل نے جنگ بندی کے کسی اصول کا پاس نہیں رکھا۔

قابض اسرائیل، امریکہ اور یورپی طاقتوں کی پشت پناہی سے 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں منظم نسل کشی کر رہا ہے۔ اس عرصے کے دوران 1 لاکھ 78 ہزار سے زائد فلسطینی شہید و زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔ مزید برآں، 14 ہزار سے زائد افراد اب تک لاپتہ ہیں جن کا آج تک کوئی سراغ نہیں ملا۔

انتونیو گوتریس کی آواز دراصل اس اجتماعی درد اور چیخ کی بازگشت ہے جو غزہ کی گلیوں میں سنائی دیتی ہے۔ ایک ایسا المیہ، جس میں ایک ماں اگر اپنے بچے کے لیے روٹی لینے نکلے تو وہ جنازہ بن کر واپس آتی ہے۔ ایک ایسا محاصرہ، جس میں زندہ رہنے کے لیے انسان کو موت سے لڑنا پڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button