غزہ جنگ:سات ماہ، سات دن کی جنگ میں 35091 فلسطینی شہید
رفح پر حملے کے بعد غزہ کے متأثرین آخر کہاں جائیں گے؟
غزہ ، 14مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران فلسطینی عوام کی مجموعی طور پر 35091 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ اس امر کا اعلان غزہ میں قائم فلسطینی وزارت صحت کے 13 مئی کو جاری کردہ اعداد و شمار میں کیا گیا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی جنگ کا آغاز پچھلے سال سات اکتوبر کو ہوا تھا۔اس دوران صرف ماہ نومبر کے آخری سات دنوں کے لیے جنگ بند رہی۔ یہ مختصر جنگی وقفے بھی بار بار کیے گئے اور مجموعی طور پر 7 دن جنگ بند رہی۔ علاوہ ازیں اسرائیلی جنگ ہے کہ مسلسل غزہ میں جاری رکھی گئی ہے۔ امریکہ نے اس جنگ کو مذہبی انداز کی کمٹمنٹ کے انداز میں جاری رکھنے کے لیے اسرائیل کی حمایت کی اور کم از کم تین بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرار داد کو ویٹو کیا۔
وزارت صحت غزہ کے مطابق اب تک اسرائیلی فوج نے اس جنگ میں سب سے زیادہ فلسطینی خواتین اور فلسطینی بچے مارے ہیں۔ ان فلسطینی ہلاکتوں میں دو تہائی تعداد انہی عورتوں اور فلسطینی بچوں کی ہے۔ جبکہ اعداد و شمار میں شامل کیے گئے آخری چوبیس گھنٹوں کی ہلاکتوں کی تعداد 57 بتائی گئی ہے۔ان اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اس جنگی عرصے میں اب تک 78827 فلسطینیوں کو زخمی کیا ہے۔ نیز اسرائیلی فوج نے جس طرح جنگ میں ہسپتالوں کو بھی بمباری کا چن چن کر نشانہ بنایا ہے اس کے نتیجے میں غزہ میں موجود ہسپتال تقریباً تباہ ہو چکے ہیں اور نظام صحت اپنی آخری سانس لے رہا ہے۔ کیونکہ اسرائیل نے ہسپتالوں پر نہ صرف بمباری اور ٹینکوں سے گولہ باری کی۔ بلکہ کئی کئی دن تک ہستالوں پر جاری رکھے گئے فوجی حملوں کے بعد ہلاک کیے گئے ڈاکٹروں، طبی عملے کے ارکان، زخمیوں اور مریضوں کو کئی ہسپتالوں میں ہی اجتماعی قبروں کی نذر کر دیا۔
رفح پر حملے کے بعد غزہ کے متأثرین آخر کہاں جائیں گے؟
دبئی ، 14مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)گذشتہ سال سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے غزہ میں جارحیت بڑھنے پر اسرائیل کی جانب سے بارہا یہ دعویٰ کیا گیا کہ اگر عرب ممالک کو واقعتا غزہ کا خیال ہوتا تو وہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اپنی سرحدیں کھول دیتے۔عرب لیگ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل حسام ذکی کے مطابق ’یہ دلیل بالکل ناقص ہے جس میں اس حقیقت کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے کہ عرب ممالک پہلے ہی لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہے ہیں۔
حسام ذکی سمجھتے ہیں کہ دعوے میں اس حقیقت کو نظرانداز کیا گیا ہے کہ ایک بار جب غزہ کے عوام بے گھر ہو جائیں گے تو اسرائیلی حکومت ان کی واپسی کی اجازت نہیں دے گی۔انہوں نے عرب نیوز کے کرنٹ افیئرز کے پروگرام ’فرینکلی سپیکنگ‘ کی میزبان کیٹی جینسن کو بتایا کہ اگر ہم واقعی سچ جاننا چاہتے ہیں تو اسرائیل کی خواہش ہے کہ فلسطینی آبادی مقبوضہ علاقوں سے غائب ہو جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ فلسطینیوں کو مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ سے غائب ہوتے دیکھنا پسند کریں گے۔ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ وہ زمین چاہتے ہیں۔ وہ علاقے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس علاقے کو اپنی ریاست سے جوڑنا چاہتے ہیں۔انہوں نے اپنے انٹرویو میں 16 مئی کو بحرین میں ہونے والے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس، رفح پر اسرائیل کے حملے کو روکنے کی کوششوں اور دو ریاستی حل کے کم ہوتے امکانات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کی طرح بڑے پیمانے پر نقل مکانی نہیں دہرائی جائے گی۔
فلسطینیوں نے ماضی کی غلطیوں، 1948 اور 1967 کی جنگ سے سبق سیکھا ہے کہ اگر ایک بار وہ اپنی سرزمین سے باہر نکل گئے تو یہ علاقہ اسرائیل کے قبضے میں چلا جائے گا۔ اور ایسا لگتا ہے کہ اسے دوبارہ حاصل کرنا ایک مشکل جنگ ہو گی۔حسام ذکی نے کہا کہ لہٰذا، ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم فلسطینیوں کی مدد کر رہے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پر قائم رہیں، اپنی زمین پر ڈٹے رہیں، اور سرزمین چھوڑ کر باہر نہ جائیں کیونکہ وہ باہر جانے کے نتائج جانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’وہ (اسرائیلی) ہم پر جتنی چاہیں تنقید کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس تمام عرب ممالک میں فلسطینی رہ رہے ہیں، کچھ بہت کم تعداد میں پناہ گزین کیمپوں میں لیکن زیادہ تر ان ممالک کے عام شہریوں کی طرح رہتے ہیں۔
مصر اور خلیجی ممالک میں، اردن، شمالی افریقہ، تمام عرب ممالک میں فلسطینی رہتے ہیں۔حسام ذکی نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسی تنقید ہے جو ہم اس لیے سُن لیتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ کہا جا رہا ہے اس کا مقصد صرف اسرائیلیوں کے فائدے کے لیے علاقے کو خالی کرنا ہے جو اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’عرب لیگ اور مصر، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن سمیت اس کے ہیوی ویٹ ممبران عرب امن اقدام کا فروغ جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی پہلی بار 20 سال قبل نقاب کشائی کی گئی تھی اور قتل کے جنون کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک کچھ بھی کامیاب نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ جنگ روکنے اور سیز فائر کے لیے اقوام متحدہ کی واحد قرارداد پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔حسام ذکی کا خیال ہے کہ امریکہ کی حمایت کی وجہ سے اسرائیل کو استثنیٰ کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل بنیادی طور پر ایک ایسا ملک ہے جسے امریکہ، اس کے بہت سے اتحادیوں، ساتھیوں اور مغرب میں نام نہاد دوستوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ وہ اس پاگل پن کو نہیں روک سکتے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا عرب لیگ کسی حد تک تنازع کو ختم کرنے میں ناکامی کی ذمہ دار ہے تو حسام ذکی نے ساری ذمہ داری واشنگٹن پر عائد کی۔ہم کیوں اور کیسے عرب لیگ کو مورود الزام ٹھہرائیں گے؟
عرب لیگ اس میں شریک نہیں ہے۔ عرب لیگ اسرائیل کو بم نہیں دے رہی۔ عرب لیگ اسرائیل کو گولہ بارود نہیں دے رہی۔ عرب لیگ اسرائیلی جارحیت کی مالی معاونت نہیں کر رہی۔ان کا کہنا تھا کہ عرب لیگ ایک علاقائی تنظیم ہے جو امن کی خواہاں ہے، جو سیاست پر بات کر رہی ہے۔ یہ ایک سفارتی ادارہ ہے۔ جو بھی امن چاہتے ہیں ہم اس کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔



