
جنیوا ، 28اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ تشدد زدہ افغانستان سے رواں برس کے اواخر تک مزید 5 لاکھ پناہ گزین سامنے آسکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس وقت افغانستان کی سرحدوں سے ہجرت کرنے والے لوگوں کا سیلاب نہیں ہے لیکن ملک میں بحران کی صورت پیدا ہونے سے قبل ہی ہنگامی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
یو این ایچ سی آر UNHCR کی ڈپٹی ہائی کمشنر کیلی کلیمنٹس نے صحافیوں کو بتایا کہ اس وقت انسانی ایمرجنسی افغانستان کے اندر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واضح طور پر ایک متحرک صورتحال ہے، یو این ایچ سی آر بڑے پیمانے پر ہجرت سمیت مختلف امور کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم خطے میں تقریباً 5 لاکھ نئے مہاجرین کی تیاری کر رہے ہیں، یہ ایک بدترین صورت حال ہے۔کیلی کلیمنٹس نے پڑوسی ممالک کے لیے مدد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جو پہلے ہی 22 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں اور جو جلد ہی نئی آمد کو دیکھ سکتے ہیں۔دو ہفتے قبل افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی ملک میں انسانی صورت حال ڈرامائی طور پر بگڑ چکی تھی۔نصف آبادی پہلے ہی انسانی امداد کی محتاج تھی اور 5 سال سے کم عمر کے تمام بچوں میں سے نصف شدید غذائی قلت کا شکار تھے۔
اقوام متحدہ نے اپنی ایجنسیوں اور شراکت دار این جی اوز کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا تاکہ وہ افغانستان اور پڑوسی ممالک کے سامنے آنے والے بحران کی تیاری اور جواب دے سکیں۔اقوام متحدہ نے فوری طور پر منصوبے کے لیے تقریباً 30 کروڑ ڈالر کی اپیل کی تھی۔
یو این ایچ سی آر کی ڈپٹی ہائی کمشنر کیلی کلیمنٹس UNHCR Deputy High Commissioner Kelly T. Clements نے کہا کہ ہم افغانستان کے پڑوسی ممالک سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اپنی سرحدیں کھلی رکھیں تاکہ حفاظت کے خواہاں افراد کی مدد کی جاسکے۔خیال رہے کہ ایران اور پاکستان مشترکہ طور پر خطے میں 90 فیصد افغان مہاجرین کی میزبانی کرتے ہیں اور تقریباً 30 لاکھ افغانیوں کی مدد کر رے ہیں۔



