برلن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جرمنی میں مسیحیت قبول کرنے والے مسلمان پناہ گزینوں کی ملک بدری پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب وفاقی جرمن دفتر برائے ترک وطن و مہاجرین اپنے اس عمل کا دفاع کر رہا ہے۔کیا جرمنی ایسے پناہ گزین ایرانیوں کو ملک بدر کر سکتا ہے، جنہوں نے جرمنی میں اسلام ترک کر کے مسیحیت قبول کر لی ہو؟
اس بات پر جرمنی میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ برلن کے آزاد پروٹسٹنٹ لوتھیرین چرچ کے پادری گوٹفریڈ مارٹنز نے وفاقی جرمن دفتر برائے ترک وطن و مہاجرین BAMF پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے سطحی اور ترش رو قرار دیا۔
ادھر BAMF (بامف) کی نائب صدر ارزولا گریفن پراشما نے پادری گوٹفریڈ مارٹنز کی تنقید رد کرتے اور اپنے ادارے کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ہمارے اس دفتر میں ہر ملک سے متعلق اعداد و شمار اور معلومات موجود ہوتی ہیں، جو ہمارے فیصلہ سازی کے عمل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
ہمارا یہ ماننا ہے کہ ایران میں مسیحی عقیدے کی پیروی کرتے ہوئی مذہبی سرگرمیاں اور مذہب کی تبدیلی دونوں ہی ظلم و تعاقب کا باعث بن سکتے ہیں۔ لیکن اس میں بھی ایک کیس کسی دوسرے سے مختلف ہو سکتا ہے۔ شہروں کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں خطرات کہں زیادہ ہیں۔ وہاں مسیحی مبلغین کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں۔
لہٰذا ایران میں مسیحیوں پر ظلم و ستم ہوتا ہے مگر ہر مسیحی باشندے کو اس کا شکار نہیں بنایا جاتا۔بامف کی نائب صدر کے مطابق ایران میں تسلیم شدہ گرجا گھروں کے اراکین، جیسے کہ آرمینیائی نسل کے باشندے، بمشکل ان مسائل کا شکار ہیں۔ اس صورتحال کا انحصار متعلقہ انسانوں کی انفرادی صورت حال پر ہوتا ہے۔بہت سے ایرانی باشندے جرمنی بطور مہاجرین آتے ہیں اور یہاں آکر مسیحی بن کر بپتسمہ لے لیتے ہیں۔
اس بارے میں بامف کی نائب صدر ارزُولا گریفن پراشما کا کہنا ہے کہ تبدیلی مذہب یقیناسیاسی پناہ کے حصول کے طریقہ کار کے لیے ایک اہم عنصر ہے اور پناہ کی درخواست پر فیصلے میں بھی اس کا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ لیکن یہ سارے معاملات انفرادی کیسز میں علیحدہ علیحدہ طریقے سے نمٹائے جاتے ہیں۔



