بین الاقوامی خبریںسرورق

’ایلون مسک‘ کی تنقید کے بعد جرمن وزارت دفاع نے ’ایکس‘ کا کیا بائیکاٹ

جرمن وزارت دفاع نے اپنا ’ایکس‘سابقہ ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل کر دیا ہے

برلن، 17جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) جرمن چانسلر اولاف شولز اور امریکی ارب پتی ایلون مسک کے درمیان تناؤ کے درمیان جرمن وزارت دفاع نے اپنا ’ایکس‘سابقہ ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل کر دیا ہے۔ جرمن وزارت دفاع نے یہ اقدام ایلون مسک کی طرف سے موجودہ جرمن حکومت پر تنقید اور دائیں بازو کی اپوزیشن جماعت ’اے ایف ڈی‘ کی حمایت کے رد عمل میں کیا ہے۔شولز کے سوشل ڈیموکریٹک اتحادی بورس پسٹوریئس کی سربراہی میں وزارت دفاع نے کہا کہ ٹوئٹر ایکس پلیٹ فارم حقیقت پسندانہ، منطقی اور پرسکون بات چیت کی اجازت دینے کے لیے موزوں نہیں رہا۔لیکن اس فیصلے کے وقت نے کئی سولات بھی جنم دیے ہیں۔ مسک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے جرمنی کی الٹرنیٹ پارٹی فار جرمنی کی 23 فروری کے ہونے والے وائس چانسلر کی امیدوار ایلس ویڈل کے ساتھ ایکس پر براہ راست بات چیت کی۔اس بحث نے خود جرمن حکومت کے اندر بھی تنازعے کو جنم دیا۔ سوال یہ ہے کہ آیا دیگر جرمن وزارتیں بھی ’ایکس‘ کا بائیکاٹ کریں گی یا نہیں۔ اس لیے کہ شولز نے دو دن قبل X پر ایک ٹویٹ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ پلیٹ فارم کا استعمال ترک نہیں کریں گے۔

دریں اثنا جرمن چانسلری کے ترجمان نے برلن میں صحافیوں کو بتایا کہ وزارت دفاع نے اپنا موقف اختیار کر لیا ہے، لیکن پولیٹیکو کے مطابق حکومت فی الحال اسے شائع کرنے پر قائم ہے۔مسک جنہیں ٹرمپ نے حکومت اور وزارتوں کی کارکردگی کو بڑھانے اور فضول خرچی اور غیر ضروری ملازمتوں کو روکنے کے لیے ایک نئی وزارت کا قلم دان سونپا ہے حال ہی میں شولز اور ان کی پارٹی پر ایک سے زیادہ مرتبہ تنقید کر چکے ہیں۔انہوں نے جرمنوں سے جرمنی کی (AfD) پارٹی کو منتخب کرنے کا بھی مطالبہ کیا، جسے بہت سے جرمن انتہائی دائیں بازو کی جماعت سمجھتے ہیں۔

ایلون مسک کی طرح بہت سے جرمن یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ واحد جماعت ہے جو ملک کو بچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ایلو مسک نے اکیلے شولز پر تنقید نہیں کی اور نہ ہی صرف جرمن انتخابات میں مداخلت کی بلکہ انہوں نے برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر پر بھی کئی تنقید کی ہے۔انہوں نے اسپین سمیت دیگر یورپی ممالک کے سیاسی معاملات میں بھی مبینہ طور پر مداخلت کی جس میں اس پر نازیوں کی حمایت کا الزام لگایا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button