
برلن 3جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) #جرمن #صدر #فرانک والٹر اشٹائن مائرنے اسرائیل کے اپنے تین روزہ سرکاری دورے کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے برسوں کے سیاسی جمود کے بعد ایک ’’نئے آغاز‘‘ کے لیے #یہودی #مملکت کی تعریف کی۔پچھلے دو برسوں کے دوران چار انتخابات کے باوجود #اسرائیل ایک مستحکم حکومت کے قیام میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا اور گزشتہ ماہ آٹھ سیاسی جماعتوں پرمشتمل ایک اتحادی حکومت قائم ہوسکی۔
جس کے بعد بارہ برس تک اقتدار میں رہنے کے بعد سابق #وزیراعظم بینجمن نیتن #یاہو کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔جرمن صدراشٹائن مائرکا کہنا تھاکہ بلاشبہ آٹھ جماعتوں پر مشتمل حکومت کے ذریعہ ملک کا نظم و نسق سنبھالنا آسان کام نہیں ہے اور وہ بھی ایک ایسے ملک میں جسے بہت سارے مسائل موجود ہیں۔اسرائیل سیاسی، مذہبی اور ثقافتی تقسیم سمیت متعدد مسائل سے دوچار ہے۔
دائیں بازو اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے درمیان رسہ کشی چلتی رہتی ہے، مذہبی اور سیکولر گروپوں کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں اور یہودیوں اور عربوں کے درمیان نسلی کشیدگی اکثر تشدد کوبھڑکا دینے کا سبب بن جاتی ہے۔اتحادی حکومت کے قیام کے باوجود اس بات پر اب بھی سوالیہ نشان لگا ہوا ہے کہ آیا اتحاد میں شامل مختلف نظریات کی حامل سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرسکیں گی؟
جرمن صدر اشٹائن مائر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی رہنماؤں کے ساتھ تبادلہ خیال کے بعد ان کا تاثر ہے کہ اتحادی حکومت حکمرانی کے روزمرہ کے کاموں کے تئیں پورے جذبے اورلگن کے ساتھ مل کر کام کرنے کے حوالے سے پرامید ہے۔اشٹائن مائر کو گزشتہ برس ہی اسرائیل کا دورہ کرنا تھا لیکن کووڈ انیس کی وبا کی وجہ سے اسے ملتوی کرنا پڑا۔ یہ کورونا وائرس کا بحران شروع ہونے کے بعد ان کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔
اشٹائن مائر نے جمعے کے روز اسرائیل کے سبک دوش صدر ریوین ریولین سے ملاقات کی اور ملک کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گورین کے نجیو ریگستان میں قبر پر گلہائے عقیدت پیش کیے۔اشٹائن مائر نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ اپنے اسرائیلی ہم منصب کوملک کے بانی کی قبر پر رخصت کر رہے ہیں۔
ریولین سات جولائی کو صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے والے ہیں۔اسرائیل کے یادواشیم ہولوکاسٹ میموریل کے اپنے پہلے دورے کے دوران جرمن صدر نے کہا کہ جرمنی کے نام پر جو ناقابل بیان تکالیف اٹھانی پڑی ہیں اس سے ہمیں تکلیف اورشرمندگی ہے۔



