بین الاقوامی خبریں

جرمنی میں موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی خواہش، نعشوں کو محفوظ کرنے کی نئی سائنسی پیشکش

مستقبل میں دوبارہ زندگی کی امید پیش کر دی گئی

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسلامی تعلیمات کے مطابق موت کے بعد دوبارہ زندگی کا تصور موجود ہے اور روزِ قیامت دوبارہ اٹھائے جانے پر ہر مسلمان کا ایمان ہے، لیکن سائنسی تحقیق کی بنیاد پر جرمنی کے ایک ادارے نے عوام میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ مستقبل میں ترقی یافتہ سائنس کے ذریعے انسان کے مردہ جسم کو دوبارہ زندہ کیا جاسکتا ہے۔

جرمنی کی ایک کمپنی نے انسانی نعشوں کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کی خصوصی خدمات پیش کی ہیں، جن کے لیے دو لاکھ ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ انسانی جسم کو انتہائی کم درجہ حرارت پر اس طرح محفوظ کرتی ہے کہ اہم اعضاء اور خلیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، اور آنے والی سائنسی ترقی ایسی ادویات یا ٹیکنالوجی ایجاد کر سکتی ہے جو مردہ جسم کو دوبارہ زندہ کرنے میں معاون ثابت ہو۔

سائنسی ترقی اور جدید تحقیق کے نام پر یہ خانگی کمپنی عوام کو قائل کر رہی ہے کہ جسم کو محفوظ کروا کر مستقبل میں دوبارہ زندگی پانے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے طریقۂ کار میں جسم کی مکمل حفاظت کی جاتی ہے اور محفوظ شدہ نعش کئی دہائیوں تک بغیر خراب ہوئے برقرار رہ سکتی ہے۔

دلچسپی رکھنے والے افراد اور سرمایہ کار اس بات کا یقین ظاہر کر رہے ہیں کہ آنے والے برسوں میں وہ ٹیکنالوجیاں ممکن ہوسکتی ہیں جو موجودہ دور کے تمام امراض کا علاج اور مردہ جسم کی بحالی ممکن بنائیں گی۔ تاہم یہ نظریہ اسلامی عقائد سے متصادم ہے، جہاں دوبارہ زندگی کا تصور صرف قیامت کے دن سے وابستہ ہے۔

باوجود اس کے، دوبارہ زندگی کی خواہش میں لوگ دو لاکھ ڈالر تک خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ موت کے بعد محفوظ کیے گئے جسم واقعی کبھی زندہ ہو سکیں گے یا یہ تمام تر خواب صرف ایک سائنسی تجارتی تجربہ ثابت ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button