سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

جادوئی جڑ,ادرک ایک صحت بخش غذا

پیش کش: شبلی فاروق بنگلور

سائنسدانوں کے مطابق ادرک ایک پھولدار پودے سے حاصل ہوتا ہے جس کے رذوم کی ابتدا چین سے ہوئی۔ ہلدی، الائچی اور خوسنجان جیسے سبھی پودوں کا ادرک سے گہرا تعلق ہے۔

ادرک ایک شاندار جڑی بوٹی ہے جسے کھانوں اور دواؤں کے شعبے میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس جڑی بوٹی کی کئی شکلیں ہیں جس میں خشک، تازہ، عرق اور پاؤڈر کی شکلیں شامل ہیں۔ دنیا بھر میں لوگ ادرک کو نہ صرف اس کے ذائقے کے لیے بلکہ اس کے صحت سے متعلق فوائد کے لیے بھی اپنی روز مرہ غذا میں شامل کرتے ہیں۔

دماغی افعال کو بڑھاتا ہے

کیا آپ جانتے ہیں آکسیڈیٹیواسٹریس اور دائمی سوزش بڑھاپے کو تیز کرسکتی ہے، الزائمر کی بیماری اور آکسیڈیٹیواسٹریس سے آپ کی یادداشت مکمل طور پر کھو جانے کا خطرہ بھی بڑھتا ہے لیکن جسم کو پہنچنے والے نقصان دہ اثرات اس سے الگ ہیں۔لیکن ادرک کا استعمال دماغی افعال کو براہ راست بڑھانے اور نسیان کی بیماری کے خطرے کو کم کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتا ہے۔ محققین نے تحقیق کی ہے کہ ادرک کے استعمال سے ایک60 سالہ خاتون میں ردعمل کا وقت اور یادداشت میں بہتری آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ادرک کا استعمال دماغ پر بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات کو بھی کم کرتا ہے۔

پٹھوں کے درد کو کم کرتا ہے

ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ادرک کا استعمال ورزش سے منسلک پٹھوں کے درد کو کم کرتا ہے۔ دو گرام ادرک کو کہنی اور کندھوں کی ورزش کرنے والے افراد نے11 دن تک بلاناغہ کھایا اور درد کے لیول کو کم کیا۔ اگرچہ ان فائدہ مند اثرات کو ظاہر ہونے میں کچھ دن لگیں گے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان میں بتدریج اضافہ ہوتا جائے گا۔ وہ لوگ جو دن بھر ورزش کرتے ہیں یا بھرپور جسمانی سرگرمیوں میں مشغول رہتے ہیں وہ خاص طور پر اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

کولیسٹرول گھٹانے میں مددگار

انسانی جسم میں دل کے مسائل براہ راست لیپو پروٹینز کی بلند سطح کی وجہ سے ہو سکتے ہیں، جسے کولیسٹرول کا برا اثر بھی کہا جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے، آپ کے کھانے کے انتخابات آپ کے جسم میں کولیسٹرول کی پیداوار کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ ایک تحقیق جس میں ہائی کولیسٹرول کی سطح والے 85 افراد نے 45 دنوں تک صرف تین گرام ادرک کا استعمال کیا اس سے معلوم ہوا کہ ان کے کولیسٹرول کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

متلی روکنے میں معاون

یہ بھی ایک حیرت انگیز امر ہے کہ ادرک متلی کا مقابلہ کرنے میں بھی بے انتہا موثر ہے۔ روایتی طور پر یہ ایک طویل عرصے سے متلی اور بیماری کے علاج کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ طبی ماہرین کی جانب سے یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اسے سرجری اور کیموتھراپی کے بعد کھانے سے متلی سے نجات مل سکتی ہے۔ جبکہ صبح میں ہونے والی متلی کو بھی اس کے استعمال سے کم کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ کو مذکورہ بالا امراض میں سے کوئی بیماری لاحق ہے تو اپنے معالج کے مشورہ سے ادرک کا درست استعمال شروع کرسکتے ہیں لیکن بغیر معالج شروع نہ کریں، وہ آپ کا اس کا صحیح استعمال اور مقدار بتاسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button