ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کے لیے رشتے ملنا ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جارہا ہے
دوسری شادی، جھوٹ اور فریب کے عام واقعات
’’ارے جہاں آرا اس بار میں بہت اچھا رشتہ لے کر آئی ہوں، لڑکا بہت بڑی فیکٹری میں کام کرتا ہے۔ شکل و صورت بھی اچھی ہے۔ گھر میں صرف ایک بوڑھی ماں اور بیوہ بہن ہے۔ اگر ہماری ہما کی اس گھر میں شادی ہوگئی تو سمجھو نصیب کھل جائیں گے بچی کے!‘‘ رحمت بوا اپنا برقع سنبھالے، پان منہ میں دبائے جلدی جلدی بول رہی تھیں۔
’’سچ بوا؟ اگر اپنی ہما کا یہاں بیاہ ہوگیا تو میں تمہیں نیا جوڑا اور ایک کلو مٹھائی کا ڈبا دوں گی‘‘ — جہاں آرا خوش ہوکر بولیں۔
اگلے وقتوں میں یہی طریقہ عام تھا کہ محلے کی کوئی خالہ یا بوا جگہ جگہ اپنی جوتیاں چٹخاتی پھرتیں اور اِدھر اُدھر رشتوں کی خبر دیتی تھیں۔ اس طرح کبھی کسی کا رشتہ طے پا جاتا اور یوں شادی ہوجاتی تھی۔
آج بھی ہمارے ہاں اکثر رشتے اسی انداز میں طے پاتے ہیں۔ اخبارات میں روز یہ اشتہارات دیکھنے کو ملتے ہیں:
’’ضرورت رشتہ: نیک، ہینڈسم کنوارے لڑکے کے لیے 25 سال کی لڑکی درکار ہے‘‘
یا
’’گرین کارڈ ہولڈر لڑکی کے لیے رشتہ مطلوب، طلاق یافتہ بھی رجوع کرسکتے ہیں، لالچی نہ ہوں‘‘۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اشتہار دینے والا خود لڑکی کی مالی حیثیت کا چرچا کرتا ہے اور ساتھ ہی لکھ دیتا ہے: ’’لڑکا لالچی نہ ہو‘‘۔
💠 میرج بیورو کا بڑھتا کاروبار
آج کے دور میں یہ کام بھی ایک باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ کئی اشتہارات میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ’’ہمارے ہاں فی سبیل اللہ رشتے کرائے جاتے ہیں‘‘، مگر حقیقت میں وہاں پہنچنے پر فیس اور کمیشن کا طویل چکر شروع ہوجاتا ہے۔
رشتہ تلاش کرنے والے والدین اپنی بیٹیوں کا اندراج میرج بیوروز میں کرواتے ہیں، فیس ادا کرتے ہیں، اور پھر ان کے گھروں میں لڑکوں کی قطار لگ جاتی ہے۔
ان لڑکوں میں سے اکثر دوسری یا تیسری شادی کے خواہش مند ہوتے ہیں، یا ساٹھ سال کے ہونے کے باوجود کہتے ہیں ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘۔
کئی والدین جھوٹ اور فریب سے کام لیتے ہیں — تعلیم، آمدنی، کردار یا ازدواجی حیثیت چھپاتے ہیں۔ دوسری طرف، کئی لڑکیوں کے والدین بھی حقیقت چھپانے سے نہیں ہچکچاتے۔ نتیجہ؟ کوئی ایک فریق فراڈ ثابت ہوتا ہے۔
💠 محلے کی خواتین بطور "سفارت کار”
اب گھریلو سطح پر بھی بعض خواتین نے رشتہ کرانے کا کاروبار شروع کر رکھا ہے۔ وہ فیس کے عوض محلے اور رشتہ داروں میں جوڑیاں ملاتی ہیں۔
اگر رشتہ بیرونِ ملک یا امیر گھرانے کا ہو تو فیس دوگنی ہوجاتی ہے۔
گلی محلوں میں ہونے والے یہ رشتے اکثر کامیاب رہتے ہیں، لیکن اگر ’’سفارت کار‘‘ خاتون فیس کے لالچ میں کسی کی خامیاں چھپادے تو شادی کے بعد مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں۔
ایسے میں دونوں گھرانے اُسی خاتون کو بددعائیں دیتے ہیں اور حالات کو ’’نصیب کا لکھا‘‘ سمجھ کر صبر کرلیتے ہیں — یا پھر رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔
💠 سماجی رویے اور خاندانی انا
ہمیں اپنے سماجی طرزِ عمل پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اب بھی کئی گھرانے اپنی برادری، زبان یا نسل سے باہر رشتہ کرنے کو معیوب سمجھتے ہیں۔
رنگ، نسل اور ذات سے بڑھ کر اگر اخلاقی اقدار اور شرافتِ نفس کو معیار بنایا جائے تو کئی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
بدقسمتی سے بہت سے والدین مال و دولت کی ہوس میں اپنے بچوں کی خوشیاں قربان کردیتے ہیں۔
شادی کو کاروبار یا انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے اسے انسانی بنیادوں پر دیکھنا چاہیے۔
اگر ہم اپنی سوچ بدل لیں، تو میرج بیوروز کے فراڈ خود بخود ختم ہوجائیں گے، اور ایک صحت مند اور دیانت دار معاشرہ تشکیل پائے گا۔



