گوا فارورڈ پارٹی کے لیڈر نے ممتابنرجی کا موازنہ درگاسے کردیا ، وزیراعلیٰ پرمود ساونت برہم
گوا ، 17اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گوا فارورڈ پارٹی (جی ایف پی) کے ورکنگ صدر کرن کنڈولکر کے سیاسی بیان نے ایک تنازع جنم دے دیا ہے۔ کنڈولکر نے ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کو دیوی درگا اور ریاست کی بی جے پی حکومت کو ’بھسماسور‘ قرار دیا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت ان کے اس بیان پر برہم ہیں۔
جی ایف پی لیڈر کنڈولکر نے ہفتہ کو کہا تھا کہ گوا کے عوم چاہتے ہیں کہ مغربی بنگال سے درگایہاں لائی جائیں اور یہ بھسماسور بی جے پی حکومت کودھڑن تختہ کردیں ۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کی پارٹی ممتا بنرجی کی قیادت والی ٹی ایم سی سے اتحاد کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ وہ ٹی ایم سی کے ساتھ اتحاد کرکے اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات لڑنا چاہتی ہے۔
گوا کے سی ایم پرمود ساونت نے کنڈولکر کے بیان پر سخت تنقید کی ہے۔انہوں نے کہا کہ گوا کے لوگ دیوی درگا کا موازنہ کسی ایسے شخص سے برداشت نہیں کریں گے جس نے مغربی بنگال کے انتخابات کے نتائج کے بعد مبنیہ طور پر خواتین پر تشدد کیا تھا۔
ممتا بنرجی کا نام لیے بغیر ساونت نے کہا کہ لوگوں نے دیکھا ہے کہ بنگال انتخابات کے بعد انہوں نے اور ان کی پارٹی (ٹی ایم سی) نے لوگوں پر کس طرح ظلم ڈھایا ہے۔
چیف منسٹر نے کہا کہ بی جے پی نے ہم خیال جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے دروازے کھلے رکھے ہیں ،تاکہ نئی جماعتوں کو سماج دشمن ایجنڈے کے ساتھ آئندہ انتخابات کے ذریعے گوا میں داخل ہونے کی کوشش نہ کرے۔
گوا اسمبلی انتخابات 2022 میں کئی پارٹیاں اس بار میدان میں اترنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اگر حکمراں بی جے پی واپسی چاہتی ہے تو شیو سینا ، کانگریس ، این سی پی ، آپ ، ترنمول اور دیگر علاقائی پارٹیاں بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی پوری کوشش میں ہے ۔



