سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

مفردات,خارخسک-حکیم محمد عدنان حبان نوادر صاحب رحیمی شفا خانہ بنگلور

گوکھرو کے فوائد اور استعمال: گردے، پتھری، شوگر اور کمزوری کا قدرتی علاج

نام: مشہور نام گوکھرو، عربی: خسک، فارسی: خار خسک، سندھی: بکھڑو، پنجابی: بھکہڑا، بنگالی: گوکھری، مرہٹی: سرائے، تمل: نرانجی، سنسکرت: گوکھرو، تلگو: پلّیرو، انگریزی: Small Caltrops۔

پہچان: ایک بیل دار بوٹی کا خاردار سہ گوشہ پھل ہے، اس کے پتے چنے کے پتوں سے مشابہ ہوتے ہیں، میدانی گوکھرو پہاڑی گوکھرو کی نسبت چھوٹا ہوتا ہے، اس میں ایک ایلکلائیڈ اور فراری تیل خفیف مقدار میں جبکہ نائٹریٹس کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ انہیں اجزاء کی بدولت یہ مدر بول تاثیر کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی دو قسم ہوتی ہیں، ایک چھوٹا گوکھرو اور دوسرا بڑا گوکھرو۔ چھوٹا گوکھرو ہی زیادہ استعمال میں آتا ہے۔ اس کا پودا زمین پر پھیلا ہوتا ہے، پتے چنوں کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے ہلکے زرد رنگ کے پھول لگتے ہیں۔ ایک ایک پھل میں تین تین کانٹے ہوتے ہیں۔ پھل دو دو جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ کانٹے بہت نوک دار ہوتے ہیں۔ اگر چبھ جائے تو کئی دو دن تکلیف رہتی ہے۔

بڑے گوکھرو کی جھاڑ دار بیل ہوتی ہے، پتے سفیدی مائل لمبے، قدرے گول اور کنگرے دار ہوتے ہیں۔ خام پھل کا رنگ ہرا ہوتا ہے، پکنے پر پیلا ہو جاتا ہے اور خشک ہو کر مٹیالے رنگ کا ہو جاتا ہے۔

رنگ: سبز، زرد، مٹیالا، پھول زرد۔ ذائقہ: پھیکا۔
مزاج: گرم خشک درجہ اول۔ لیکن آیوروید میں سرد بتلایا جاتا ہے، تجربہ سے بھی سرد ہی معلوم ہوتا ہے۔
مقدار خوراک: 5 سے 7 گرام تک۔

مقامِ پیدائش: ویسے تو تمام ہندوستان میں پایا جاتا ہے لیکن شمالی ہند خصوصاً مدھیہ پردیش، راجستھان، بہار، یوپی میں زیادہ پیداوار ہوتی ہے، پڑوسی ممالک میں پاک وایران تک پیدا ہوتا ہے۔ ریتیلی اور پتھریلی زمین پر بکثرت پیدا ہوتا ہے۔ مصلح: شیر گاؤ۔

افعال و استعمال: مدر حیض ومدر بول اور گردہ ومثانہ کی پتھری کو توڑتا ہے، مقویٔ باہ ہے۔ جریان، عسر البول، احتباس بول اور سوزاک میں کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔ سوزش بول اور سوزاک میں تخم خیارین اور تخم خرپزہ کے ہمراہ دیا جاتا ہے، گردہ ومثانہ کی چھوٹی چھوٹی کنکریوں کے اخراج کے لئے آلو بالو کے ساتھ پلایا جاتا ہے۔ بعض جگہوں پر اس کی نرم ٹہنیوں کا ساگ بنا کر کھایا جاتا ہے۔ ورمِ گردہ مزمن میں پیشاب کے ہمراہ البومین آنے لگے یا استسقا ہو تو گوکھرو بہت مفید ہے۔ آگ سے پیدا شدہ ورم کو زائل کرنے کے لئے اس کو گھوٹ کر باندھتے ہیں، بمنزلہ تریاق ہے۔ پیشاب جل کر آتا ہو تو گوکھرو جواکھار کے ہمراہ استعمال کرنا چاہئے۔ انگریزی ادویات جو فوری اثر کرتی ہیں، ان کا بہترین نعم البدل ہے۔ دشمول کی دس دواؤں میں شامل ہے، اس لئے ویدوں کے یہاں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

مفید نسخہ جات

دل کی کمزوری: ایک چمچ کوٹا ہوا گوکھرو لے کر ایک کپ پانی میں جوش دیں، جب اچھی طرح عرق نکل جائے تو چھان کر پلائیں، ذائقہ کے لئے مصری ملا سکتے ہیں، ضعفِ قلب، حول، وحشت، گھبراہٹ، بلند فشار خون میں بے حد مفید ہے۔

وال بلاکج: یہی جوشاندہ ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو مستقل پلانا نہایت مجرب ہے، صبح وشام تازہ پکا کر چھان کر پلائیں، وال بلاکج، دورانِ خون کی کمی، خون میں مضر اجزاء کی زیادہ اور سینہ کے درد کو نافع ہے۔
کمزوری: گوکھرو جسمانی کمزوری اور تھکاوٹ کو دور کرتا ہے، ہڈیوں کی کثافت کو بڑھاتا ہے، گوکھرو کو باریک سفوف بنا کر ایک چمچ دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔

ٹوٹی ہڈی: جس کسی کی ہڈی ٹوٹ گئی ہو اور جڑ نہ رہی ہو تو اُس کے لئے گوکھرو قدرت کا انمول تحفہ ہے، گوکھرو سو گرام، زنجبیل سو گرام، کمرکس سو گرام، مغز اخروٹ سو گرام لے کر سب کو باریک سفوف بنا لیں، پھر ڈیڑھ کلو گڑ کا قوام تیار کریں، جب اچھی طرح پک جائے تو اس سفوف کو اُس میں ڈال کر ڈابی سے ملالیں، اوپر سے پچاس گرام اصلی گھی شامل کریں، بہترین معجون تیار ہے، صبح وشام ایک ایک چمچ نیم گرم دودھ کے ہمراہ دیں، پرانی سے پرانی ہڈی جو جڑ نہ رہی ہو، بفضلہ تعالیٰ چند ہفتوں میں جڑ جائے گی۔ جن لوگوں کو ہڈی کی کمزوری کی شکایت ہو ان کے لئے بھی مفید ہے۔

پتھری: گوکھرو 20 گرام لیکر 250 گرام پانی میں جوش دے کر اچھی طرح جوشاندہ بنالیں، صبح وشام پلائیں، گردہ ومثانہ کی پتھری ٹوٹ کر نکل جائے گی، پیشاب کھل کر آئے گا، پیشاب کی نالی کے زخم وپیپ بھی رفع ہو جائے گا۔

پروسٹیٹ: مذکورہ جوشاندہ صبح وشام پلانا درد گردہ میں نہایت مفید ہے۔ پروسٹیٹ کے مریض کو پیشاب کی سوزش اور رکاوٹ ختم ہو جاتی ہے، پیشاب کھل کر آتا ہے۔

پیشاب کی بندش: گوکھرو پیشاب آور ہے اور عام طور پر جس قدر پیشاب آور ادویات ہوتی ہیں وہ سب ویرج کی کمزور کا سبب بنتی ہیں، جس سے قوت میں کمی آجاتی ہے، لیکن گوکھرو میں یہ نقص نہیں ہے، بلکہ گوکھرو کے استعمال سے قوتِ باہ میں اضافہ ہوتا ہے۔

ایک چمچ کوٹا ہوا گوکھرو لے کر ایک کپ پانی میں اچھی طرح پکائیں، جب عرق اچھی طرح نکل جائے تو پیشاب کی بندش کے مریض کو پلائیں، یاد رکھیں اگر ٹھنڈ ہے تو نیم گرم اور اگر موسم گرم ہے تو ٹھنڈا کرکے پلائیں، پیشاب کی رکاوٹ ختم ہو جائے گی۔ اگر خون آتا ہو تو بھی رُک جائے گا۔

جریان: کوٹا ہوا گوکھرو لے کر دس گرام ایک گلاس پانی میں جوش دیں، جب آدھا رہ جائے۔ تب چھان کر ٹھنڈا کر کے صبح و شام پلائیں مفید ہے، گوکھرو کا سفوف مصری کے ہمراہ بنا کر بھی آدھا چمچ کھا سکتے ہیں۔ جریان، احتلام اور احتلام کے بعد عضو خاص کے درد میں مفید ہے۔

روغن بواسیر: آدھی کلو گوکھرو کوٹ کر چھ کلو پانی میں رات کے وقت بھگودیں۔ صبح آگ پر پکائیں، جب ایک کلو پانی رہ جائے تو اتار کر چھان لیں اور تل کے آدھی تیل میں کمیلہ سو گرام ملا کر وہ پانی ہلکی آنچ پر جلالیں، یاد رکھیں تیل پکانے میں استعمال ہونے والا برتن بڑا ہونا چاہئے، ورنہ آگ لگنے کا ڈر رہتا ہے۔ جب تمام پانی جل کر ختم ہو جائے اور صرف تیل باقی رہ جائے تو اتار کر ٹھنڈا کرکے رکھ لیں، صبح وشام ہر قسم کے بواسیری مسوں پر لگائیں، نہایت مجرب روغن ہے۔

خناق: جنہیں مرض خناق لائق ہو، ایک چمچ گوکھرو اور تین عدد عناب ملا کر جوشاندہ بنائیں، صبح وشام پلائیں، نلی کی سوجن اتر کر آواز کھل جائے گی۔ منھ، زبان اور حلق کا پکنا، منھ کے چھالے سب ختم ہو جائیں گے۔ اگر گلے میں سوزش ہو تو مصری ملا کر استعمال کریں۔

بالوں کا جھڑنا: گوکھرو آدھا کلو اور آملہ تازہ پاؤ کلو لے کر کوٹ لیں، چھ کلو پانی میں رات کو بھگو دیں، صبح نرم آنچ پر پکائیں، جب ایک کلو پانی رہ جائے تو اُسے تلوں کے آدھا کلو تیل میں ملا کر نہایت ہلکی آنچ پر پکائیں۔ جب پانی جل کر صرف تیل باقی رہ جائے تو اتار کر ٹھنڈا کرکے چھان کر رکھ لیں۔ اس تیل کے مستقل استعمال سے سر کے بال مضبوط ہو جاتے ہیں، بال لمبے، گھنے، سیاہ اور چمکدار ہو جاتے ہیں، بالوں کی سفیدی ختم ہو جاتی ہے، سردرد کو بھی نافع ہے۔

شوگر: گوکھرو خون میں بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں نہایت مددگار ہے، ذیابیطس کے مریضوں کو گوکھرو سو گرام، میتھی دانہ سو گرام، تخم جامن سو گرام لے کر سفوف بنا کر رکھنا چاہئے، صبح وشام نصف چمچ پانی یا دودھ کے ہمراہ استعمال کریں، لیکن اپنی شوگر کی دوا نہ چھوڑیں، چند ہفتوں کے استعمال سے جو شوگر کنٹرول نہ ہوتی ہو وہ کنٹرول میں آجائے گی، رات کو بار بار پیشاب کی حاجت کم ہو جائے گی اور ہاتھوں پیروں کی چبھن دور ہو جائے گی۔

قوتِ باہ: گوکھرو سو گرام، مغز پستہ سو گرام، بہمن سرخ سو گرام، تودری سرخ سو گرام، جائفل پچاس گرام، تخم کونچ پچاس گرام، پیپل کلاں پچاس گرام، ثعلب مصری پچاس گرام، کباب چینی پچاس گرام، آملہ پچاس گرام لے کر تمام ادویات کو صاف کرکے باریک پیس کر چھان لیں، دو سو گرام منقعہ کو پانی میں پیس کر عرق نکال لیں، اس عرق کیساتھ اور پانی پلا کر تین کلو کھانڈ کا قوام تیار کریں، جب قوام تیار ہو جائے تو تمام سفوف کو اچھی طرح ملا کر شیشی میں بھر کر رکھیں، صبح وشام ایک ایک چمچ دودھ کیساتھ کھائیں، ضعفِ باہ کو دور کرکے امساک پیدا کرنے میں بے حد مفید ہے، مؤلد کرم ومنی ہے۔

ایام میں تاخیر: جن خواتین کو ایام میں تاخیر ہوتی ہے، یا زچگی کے بعد ایام نہ ہو رہے ہوں ان کے لئے گوکھرو کا جوشاندہ دن میں ایک یا دو مرتبہ پینا نہایت مفید ہے، چند دنوں میں ہی ایام کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے،

متعلقہ خبریں

Back to top button