ازواج مطہرات اور نبی اکرم ﷺ کا حسن اخلاق
حدیث میں ہے کہ تربوز اورخربوزہ کھانے کے بعد کبھی کبھی ایک دوسرے پر چھلکے بطور مذاق پھینک دیا کرتے
✍️ حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمیؒ بنگلور
زندگی کی اوج گاہوں سے اُتر آتے ہیں ہم
صحبتِ مادر میں طفلِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو! تم اپنے پروردگارسے ڈروجس نے تم کوایک جان سے پیدا کیا اورپھر اس سے بہت سے جوڑے بنائے اورپھران سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پیدا کیا یعنی انسان کوجوڑا بنا کر پیدا فرمایا اور ہر چیزکا جوڑا بنایا ہے، اوراللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ ہے قرآن کریم میں ارشاد فرمایاکہ اے لوگو! ہم نے تم کوپیدا کیاہے تاکہ تم ایک دوسرے سے سکون حاصل کرو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا،جنت کی ساری نعمتیں تمہارے لئے ہیں لیکن حضرت آدم ؑ جنت میں رہ کربھی اداس رہتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے پوچھااے آدم ! تم کیوں اداس رہتے ہو؟ حضرت آدم ؑ نے عرض کیا کہ یااللہ مجھے معلوم نہیں ہے ، آپ علیم وخبیر ہیں، سب کچھ جانتے ہیں تب اللہ نے حضرت آدم ؑ کی بائیں پسلی کے نیچے ایک چھوٹی پھنسی پیدا فرمادی اورپھروہ ایک بڑے پھوڑے کی شکل بن گئی ۔
عورتوں کو تکلیف نہ دو:
روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زینبؓ جوحضور ﷺ کی پھوپی زاد بہن ہیں اورحضورﷺ کی زوجۂ مطہرہ ہیں ان میں اورحضرت عائشہؓ میں کچھ ان بن ہوگئی ، آپ ﷺ دونوں کی باتیں سنتے رہے ، دونوں میں سے کسی کی بھی طرفداری نہیں کی آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ ہاں زینب توہماری پھوپی کی بیٹی ہے کتنی ہوشیارہے اورکبھی فرماتے کہ دیکھوعائشہ صدیق اکبرؓ کی بیٹی ہے ،کتنی عقلمند ہے، آپ ﷺ تفریح بھی لیتے اور بات بھی سنتے جاتے، دونوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں حضورﷺ نے جلدی نہیں فرمائی بلکہ اخیر میں فرمایا کہ بس اب دونوں کے دلوں کی بھڑاس نکل گئی خاموش ہوجاؤ، معلوم ہوا حضورﷺ نے عورتوں کا خاص خیال رکھا ہے فرمایا عورتوں کوتکلیف نہ دو۔
حدیث پاک میں ہے کہ حضرت سودہؓ کے پاس ایک مرتبہ حضورﷺ بیٹھے تھے کہ ایک دوسری زوجہ محترمہ سالن لے کرآئی،حضورﷺ کا معمول تھاکہ باری باری ایک ایک بیوی کے یہاں قیام فرماتے، انہوں نے حضرت سودہؓ کے گال پر سالن لگادیا، حضورﷺ نے فرمایا کہ سودہ تم بھی ان کے گال پرلگا دو، آج ہمارے یہاں ایسا اگر ہوجائے توجھگڑے ہوجائیں گے ۔حضور ﷺ بات کوسمیٹنے والے تھے بڑھانے والے نہیں ایک دوسرے کو سمجھاتے تھے ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم بھی سالن لگادو، برابرہوگیا معاملہ، جھگڑے کی کوئی بات نہیں ، معلوم ہواکہ عورتوں کو سمجھانے کے لئے بہت ہی عجیب و غریب حکمت اورتدبرکی ضرورت ہے ۔
حدیث میں ہے کہ حضورﷺ نے جب حضرت صفیہؓ سے نکاح فرمایا حضرت صفیہؓ حی اخطب کی بیٹی ہیں اورحی اخطب حضورﷺ کا جانی دشمن اوراپنے قبیلہ کاسردار تھا لیکن جب لڑائی ہوئی مسلمانوں سے، توحی اخطب اوراس کے قبیلے کو شکست ہوئی اس زمانے میں دستورتھا کہ جب شکست ہوتی تھی ، فاتح قوم مفتوح کی عورتوں کوباندی بنالیتے تھے اورمردوں اور بچوں کوغلام ،تواس مال غنیمت میں حضرت صفیہؓ ایک صحابی کے حصے میں آئیں ، صحابی حضورﷺ کے پاس گئے اورعرض کیا یہ سردارکی بیٹی ہے اس لئے سردار ہی کے پاس رہے توزیادہ اچھاہے اور درخواست کی یارسول اللہ ﷺ! یہ میرے حصے میں آئی ہیں لیکن میں آپ کوپیش کرتاہوں، حضورﷺنے قبول فرمایا اور ان سے نکاح فرمالیا۔
عورت میں شکوے شکایت زیادہ :
ایک مرتبہ حضرت صفیہؓ کوکسی دوسری ام المومنین نے کہہ دیاکہ صفیہ تو یہودیہ ہے وہ ایمان لاچکی تھیں اوراللہ تعالیٰ نے ان کوامہات المومنین میں شامل فرمایا اورساری امت کی ماں قراردیا، اس سے بڑا اعزاز اورکیا ہوسکتا ہے ؟ حضرت صفیہؓ کوبڑی ناراضگی ہوئی اورصدمہ ہوا، حضور ﷺ نے ان کی دلجوئی کے لئے فرمایا کہ صفیہ! تم کواگر کوئی کہے کہ میں ابوبکروعمرکی بیٹی ہوں توتم بھی کہہ دوکہ میں موسیٰ علیہ السلام کی بیٹی ہوں ، حضور ﷺ ازواج مطہرات کے درمیان رنجش نہیں بڑھاتے تھے بلکہ رنجش گھٹاتے تھے، حضورﷺ کا معمول تھا کہ تمام متعلقین کی اچھی صفت کو ظاہر فرماکران کی دلجوئی فرمایا کرتے تھے ۔
حضور ﷺکی دلجوئی کرنے کا انداز:
روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کواللہ تعالیٰ نے سومردوں کی قوت عطافرمارکھی تھی، اورایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضورﷺکوایک ہزار مردوں کی قوت عطافرمارکھی تھی اس کے باوجودبھی حضورﷺ اپنی مردانگی یا بے جاقوت کامظاہرہ نہیں فرماتے تھے، بلکہ خاص طورپرعورتوں کے ساتھ نہایت نرمی کامعاملہ فرماتے تھے ، روایت میں آتاہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ جب حضورﷺ کے ساتھ کھانا کھاتیں توعائشہؓ جس ہڈی کوچوس کردسترخوان پررکھتی تھیں حضورﷺاس کواٹھاکرادھرسے ہی چوستے جدھر سے حضرت عائشہؓ چوستی تھیں ، یہ حضورﷺ کا وہ نرالا اندازتھا جس کوایک نبی ہی اختیارکرسکتا ہے عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے ۔
تربیت پر خصوصی توجہ: حضورﷺ نے جہاں عورتوں کی اس طرح سے دلجوئی فرمائی وہیں پر حضورﷺ نے تعلیم وتربیت پربھی خصوصی توجہ دی ، حضرت عائشہ بڑی محدثہ ہیں ، ان کو ڈھائی ہزارحدیثیں ازبر یاد تھیں ، حضورﷺ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا کہ ہرامت میں ایک محدث ہے اورمیری امت میں عمرفاروق ؓ محدث ہیں یہ وہ پاک نفوس ہیں کہ انہوں نے حضور ﷺ
کی خدمت میں رہ کرصرف دین سیکھاہی نہیں بلکہ دین کے نمونے بن گئے، حضورﷺ کے تعلق سے فرمایاگیا کہ آپ ﷺ چلتا پھرتا قرآن تھے، قرآن کی بولتی تفسیر تھے ، یعنی آپ ﷺ کا چلنا پھرنا اور بات کرنا سب قرآن کے مطابق تھا۔
صحابہ کرام نے حضورeکی صحبت مبارکہ کے طفیل دین پراتنا عبور حاصل کرلیا تھا کہ ان کی حرکات وسکنات اوربول چال، سوناجاگنا سب کچھ قرآن کریم کے مطابق ہوگیا تھا،اللہ تعالیٰ نے صحابہ کے بارے میں فرمایا کہ صحابہ کرام کفارکے معاملے میں سخت ہیں اوراگردین کے بچانے کا مسئلہ آجائے تو اپنی جان کوقربان کردیتے ہیں ، اپنی بیویوں کو بیوہ اوربچوں کویتیم کردیتے ہیں ، انہوں نے اپنا مال واسباب دین کے لئے قربان کردیا ہے،لیکن دین پرآنچ نہیں آنے دی ، اور ارشاد فرمایا گیا کہ صحابہ آپس میں بے انتہا مہربان تھے اورہنسی مذاق بھی کیا کرتے تھے۔
حدیث میں ہے کہ تربوز اورخربوزہ کھانے کے بعد کبھی کبھی ایک دوسرے پر چھلکے بطور مذاق پھینک دیا کرتے ۔لیکن ہمارا معاملہ بالکل بدل گیا ہے، آج ہماری دوستی غیروں سے رہتی ہے اپنوں سے نہیں ، اپنے گھروالوں کوغضب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور غیروں کومحبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں حضورﷺ نے اس کی تنبیہ فرمائی ہے کہ جس طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کودین پہونچانا ہے اسی طرح حسن اخلاق کے معاملہ میں بھی رشتہ داروں کا خیال رکھنا ہے ۔
حسن اخلاق کا معیار : بہرحال میں عرض کررہا تھا کہ حضورﷺ نے عورتوں کے لئے بہترین نمونہ پیش کیا ہے اورارشاد فرمایا کہ میں تم میں سب سے بہترمیں ہوں اورتم میں بہترشخص وہ ہے جواپنی بیوی اوربچوں کے ساتھ اچھا معاملہ رکھے، یہ وہ چیز ہے جس کے تعلق سے اکثر شوہر اور نوجوان غافل رہتے ہیں، بعض لوگ گھر میں داخل ہوتے ہی قہراورغصہ ظاہرکرتے ہیں تاکہ گھروالوں پررعب پڑے، اس کو حضورﷺ نے بالکل ناپسند فرمایا اورایسے لوگوں پرلعنت فرمائی ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایسا مرد جس کو دیکھ کرگھر والے سہم جائیں اورڈرجائیں ایسے مرد پراللہ تعالیٰ کی لعنت ہے ، حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ گھرمیں سلام کرتے ہوئے اور ہنستے مسکراتے داخل ہوناچاہئے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی آدمی اپنے گھروالوں کا دل لگانے اور خوش کرنے کیلئے بیٹھ کر جائز مذاق کرلے ، جس کوحضرت عبدالرحمان صفویؒ نے نزہۃ المجالس میں نقل کیاہے ایسے آدمی کودو ہزار برس عبادت کرنے کا ثواب ملتا ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ کی دل جوئی: حضرت عائشہ صدیقہؓ کا نکاح 9 سال کی عمر میں ہی ہوگیا تھا، رخصتی 13 سال کی عمرمیں ہوئی ، کبھی کبھی دل بہلانے کے لئے حضورﷺ حضرت عائشہؓ کو اکیلا چھوڑ دیتے تھے، محلے کی لڑکیاں آتیں اورگڑیوں سے ان کا دل بہلاتی تھیں ، ایک مرتبہ حضورﷺ گھرمیں تشریف لائے تومحلے کی لڑکیاں بھی حضرت عائشہ کے ساتھ کھیل رہی تھیں چونکہ عمر کم تھیں، حضورﷺنے دریافت کیا یہ گھوڑا کیسا ہے؟حضرت عائشہ نے جواب دیا، یارسول اللہ ﷺ! یہ حضرت سلیمان کا گھوڑا ہے ، حضورﷺ نے فرمایا اس کے توپر ہیں؟
تو حضرت عائشہ صدیقہؓ نے کہا یارسول اللہﷺ! حضرت سلیمان کے گھوڑے کے پربھی تھے۔ توحضورﷺ مسکرانے لگے، معلوم ہواکہ آپ ﷺ نے ہمیشہ اہل خانہ کی دلجوئی فرمائی، ایسی جلیل القدر اور محدثہ کبیرہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کو ڈھائی ہزاراحادیث یاد تھیں، ان کے شاگردوں میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ ، حضرت عبدالرحمان بن ابوبکروغیرہ ہیں اوربھی نہ معلوم کتنے صحابہ نے ان سے علمی استفادہ کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!



