سرورقگوشہ خواتین و اطفال

بے پردگی کا بھیا نک انجام-حضرت رحمۃ اللہ علیہ

عورت کی سب سے اچھی صفت

عورت کی سب سے اچھی صفت

حضور سرور کائنات ﷺ نے اپنی مجلس میں صحابہ سے دریافت فرمایا بتاؤ عورت کے اندر کون سی خوبی سب سے زیادہ عمدہ ہے؟صحابہ کرام ؓنے مختلف جواب دیئے کسی نے کہا کہ وہ عورت زیادہ اچھی ہے جو شوہر کی خدمت زیادہ کرے ، کسی نے کہا کہ وہ عورت اچھی ہے جو بچوں کی دیکھ بھال کرے، اس کے مال کی حفاظت کرے۔ کسی نے کہا رشتہ داروں کی ، دوستوں کی ،آنے والوں کی تواضع کرے ، جس کے دل میں جو با ت آئی اس نے وہ کہی، ابھی یہ گفتگو چل رہی تھی کہ حضرت علی رضی الله عنه مجلس سے اٹھ کر گھر آئے اور اپنی زوجہ محترمہ (حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا جو جگر گوشۂ رسول ہیں اور جنت کی عورتوں کی سردار ہیں ان سے فرمایا) میں ایک سوال لیکر آیا ہوں ابھی سرکار کی مجلس میں یہ بات چل رہی تھی کہ عورتوں میں سب سے اچھی صفت کونسی ہے ؟میں تم سے پوچھنے آیا ہوں ،حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا میرے سرتاج عورت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کو کسی نامحرم نے نہ دیکھا ہو،اوراس نے بھی کسی نامحرم کو نہ دیکھا ہو،یہ صفت سب سے زیادہ احسن ہے، ایسی عورت سب سے زیادہ محبوب ہے ۔ اور سب سے زیادہ قابل احترام ہے اللہ کے نزدیک۔

اللہ تعالیٰ کا سلام

حضرت علیؓ مجلس میں حاضر ہوتے ہیں اور عرض کرتے ہیں یارسول اللہ ﷺ میں ابھی گھر پرگیا تھا اور پوچھ کر آیا ہوں، حسن وحسین ؓکی ماں نے تو یہ بات کہی ہے !جبرئیل ؑ تشریف لائے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا  نے جو جواب دیا وہ اللہ کو ایسا پسند آیا کہ اللہ نے فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا  کو سلام بھیجا ہے ۔سُبْحَانَ اللّٰہ!ہم اور آپ اپنے گھروں کے حالات دیکھیں کہ ہمارے اپنے گھروں کے حالات کیا ہیں؟

بعض عورتیں غیر مسلم مرد سے پردہ نہیں کرتیں

ہمارے پاس سب کچھ ہے لیکن حیاء و شرم نہیں ،اللہ کے نبی کی بیٹی اور حضرت علیؓ کی بیوی نے اور جنت کی عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا  نے جو بات کہی وہ آج ہمارے گھروں میں نہیں ہے ۔آج ہمارے یہاںبے حیائی ، بے پردگی اور پھر اس بے پردگی او ربے حیائی کو گناہ نہ سمجھنا ،اللہ کی ناراضگی کا باعث ہے ۔ اور اس کو گناہ نہ جاننا بھے ایک بڑا گناہ ہے،ہمارے یہاں جنوبی ہند کے دیہاتوں میں مسلمان عورتیں غیر مسلم مردوں سے پردہ ہی نہیں کرتیں کیا غیرمسلم مرد نہیں ہوتے؟غیرمسلم کے اندر شیطانیت زیادہ ہوتی ہے اور ایمان والے کے اندر کم ہوتی ہے ۔ لیکن جو رسم ورواج جو حالات ہم نے بنائے ہیں خدا کی قسم اس کے نتائج اور اسکا رزلٹ نہایت خراب ہے، واقعات اتنے ہیں کہ اگر بیان کئے جائیں توبہت سارا وقت چاہئے ۔

ایک عورت پر عذاب کا مشاہدہ

ایک مولانا نے بیان کیا کہ ہمارے ایک دوست مردوں کے غسل دینے پر حکومت کی طرف سے مامور تھے ایک عورت کی میت لائی گئی جو غسل دینے والی عورت تھی اس نے غسل دینے والے شخص سے کہا کہ میت اتنی بھاری ہے کہ مجھ سے اکیلے غسل دینا مشکل ہورہا ہے۔ لہٰذا اگر تم ساتھ دو تو اچھا ہے تو اس غسل دینے والے نے کہا کہ یہ میت تو عورت کی ہے ،مرد ہوتا تو میں ضرور آپ کی مدد کرتا۔ لہٰذا میں اس عورت کو ہاتھ بھی نہیں لگاسکتا۔ یہ عورت پھر اندر چلی گئی اور جیسے تیسے کرکے اس کو غسل دے کر کفن پہنا دیا ۔ انہوںنے بیان کیا کہ ہم دس آدمیوں نے مل کر جنازہ اٹھایا تو ہم سے بمشکل جنازہ اٹھا ۔

جنازے کی نماز پڑھی گئی ، نماز کے بعد وہیں قریب ہی میں میت کو بڑی احتیاط کے ساتھ اندر کمرے میں لے گئے جہاں اس کا تابوت رکھنا تھا ۔ ابھی میت کو تابوت میں رکھ بھی نہیں پائے تھے کہ وہ تابوت ٹوٹ گیا اور میت کا جسم پھول گیا اور اتنا بڑا ہوگیا کہ ہر آدمی حیران رہ گیا او ربہت زیادہ ڈر لگنے لگا اورمیت کی جو آنکھیں تھی وہ باہر آگئیں ۔ میت کے اہل خانہ میں سے ایک شخص آئے اور انہوں نے کہا کہ ہماری والدہ کو کس حالت میں دیکھا ہے وہ بیان کرو ، یہ خاموش رہے ، انہوں نے کہا کہ نہیں بیان کرو، عذاب قبر برحق ہے، سچا ہے اس میں کسی کو شبہ ہو تو وہ مسلمان ہی نہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے عذاب قبر کے متعلق بہت سی آیات نازل فرمائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے آخرت کے عذاب کا ذکر فرمایا ہے تو انہوں نے بیان کیا کہ جسم اتنا بڑا ہوگیا کہ دس آدمیوں سے بھی نہیں اٹھ رہاتھا ، پھر تابوت خود بخودٹوٹ گیا، میت کا جسم پھول کر کئی آدمیوں سے بڑا ہوگیا ، انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ ہماری والدہ پر رحم فرمائے،ہم ان کی مغفرت کے لئے دعا کرتے ہیں، ہم نے ان کو بہت سمجھایا۔لیکن انہوں نے ہماری بات نہیں مانی ، پوچھا کہ کیا گناہ تھا ان کا جس کی وجہ سے یہ عذاب ہوا تو انہوں نے کہا کہ نماز کی پابند تھیں لیکن گھر میں کوئی بھی مہمان آیا چاہے وہ محرم ہو یاغیر محرم ہو چاہے اس سے رشتہ ہو یا نہ ہو چاہے جانتی ہوں یا نہ جانتی ہو ںسب کے سامنے آتی تھیں، زینت بہت زیادہ کرتی تھیں اور فیشن زیادہ کرتی تھیں میں نے ان کو سمجھایا کہ امی جان زیب وزینت سے اپنے شوہر اور اپنے بھائی، اپنے باپ کے سامنے رہ سکتی ہیں لیکن غیر محرم کے سامنے جائز نہیں ہے،انہوں نے بات نہیںمانی یہاں تک کہ جب ان کاانتقال ہوگیا ہم سب گھروالوں نے دیکھا وہ اتنی حسین و جمیل تھیں لیکن ان کا چہرہ کالا ہونا شروع ہوگیا تھا ، ایک طرف سے چہرہ سیا ہ ہونا شروع ہوا جیسے کوئی سیاہی لیپ رہا ہو، اس وقت ہم نے سمجھ لیا کہ والدہ پر عذاب ہونے والا ہے۔ الامان الحفیظ، یہ ابھی چندسال پہلے کی بات ہے ، بہت زیادہ دن کی بات نہیں ہے۔

ایک لڑکی پر عذابِ الٰہی

پڑوسی ملک کا شہر گجرانوالہ بہت مشہور ہے وہاں ایک واقعہ پیش آیا کہ ایک لڑکی کو دفنا کر جب واپس آئے تو معلوم ہوا کہ لڑکی کے والد کے جو ضروری کاغذات تھے وہ وہیں لحد میں گرگئے ۔ انہوں نے سوچا کہ ابھی اٹھا لیں گے لیکن میت کو دفنا بھی دیا ، جب گھر آئے تو یاد آیا کہ ضروری کاغدات جو قبر میں گرے تھے وہ اندر رہ گئے تھے۔ اس نے اپنے نوکر کو ساتھ لیا اور کہا کہ چلو انہوں نے آکر قبر کھودی اور پتھر کو ہٹایا پتھر ہٹاتے ہی ایک چیخ نکل گئی، انہوں نے جو منظر دیکھا تو تبایا کہ میں نے دیکھا کہ لڑکی بیٹھی ہوئی ہے اور اس کے بالوں سے اس کی دونوں ٹانگیں باندھی ہوئی ہیں اور ایک سانپ کی طرح کا کوئی جانور اس کے سر پر بیٹھا ہوا ہے ،جلدی جلدی انہوں نے قبر کو بند کیا اور واپس گھر آنے پر ان کو اتنی ہیبت ہوئی کہ چند ہی دنوں میں ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔

گھر والوں سے معلوم کیا گیا کہ لڑکی کا کون سا گناہ تھا جس کی وجہ سے اتنا بڑا عذاب دیا گیا ،کہا کہ کوئی ایسے بڑے گناہ کے کام تو نہیں کرتی تھی، ابھی چند مہینے پہلے شادی ہوئی ہمارے خاندان میں تو اس نے فیشنی بال کٹوا کر اور فیشنی کپڑے پہن کر بے پردہ ہوکر شاد ی میں شرکت کی او رجتنے بھی ہم عمر ماموں زاد، چچا زاد، خالہ زاد جتنے بھی رشتے کے بھائی ہوتے ہیں سب کے سامنے بے پردہ رہی ، اس کے بھائیوں نے منع بھی کیا کہ یہ اس طرح سے ملنا جائز نہیں، اس کے چند دن کے بعد اس کا انتقال ہوگیاتو اللہ نے اس کو یہ عذاب دیا ہے۔

میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ آج دور ایسا ہے کہ آپ اپنی بچیوں اوربچوں کو اسکول اورکالج نہ بھیجیں ؟بھیجئے لیکن دوستو اللہ سے آپ جیسا مانگیں گے ویسا ہی ملے گا،آپ اگر پردے والی ملازمت چاہیں تو اللہ تعالیٰ دیں گے ، اگر آپ بے حیائی والی ملازمت چاہیں تو بے حیائی والی ملازمت ملے گی، یہ تو ہم کو طے کرنا ہے کہ ہم کو کس حساب سے رہنا ہے، ہم کو اسلامی احکامات کے ساتھ رہناہے، یا شیطانی احکامات کے ساتھ رہناہے، آج جو عورتوں کا خلط ملط ہے یہ مغربی تہذیب ہے کہ لڑکے اورلڑکیاں ایک ہی کلاس میںایک دوسرے سے مل کر بیٹھتے ہیں۔

آج امریکہ اور برطانیہ میں خاص طور سے ابھی تقریباً دو یا ڈھائی مہینے پہلے ایک خبر آئی کہ برٹش گورنمنٹ باضابطہ اس بات پر غور کررہی ہے کہ مخلوط تعلیم نے ہمارے ملک کا ستیا ناس کردیا ہے ، اسلئے لڑکیوں کی کلاس الگ ہونی چاہئے او رلڑکوں کی الگ ہونی چاہئے ، اسلام یہی توکہتا ہے ،لیکن جب ناجائز حمل ٹہرجاتے ہیں او رحرام کی اولاد پیدا ہوجاتی ہے تولوگ پھرتے ہیں کہ ناک کٹ گئی، امریکہ میں ہر سال چھ لاکھ ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کو اپنے ماں باپ کا پتہ ہی نہیں ،یہ اسی بے راہ روی اوراسی بے حیائی کا نتیجہ ہے ، دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حددود اسلام میں رہنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہماری عورتوں میں شرم وحیا پیدا فرما ئے، اللہ اور اس کے رسول نے جوایک حد مقرر کی ہے اس میں رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین!

متعلقہ خبریں

Back to top button