
نیویارک:(اردودنیا/ایجنسیاں)کنّڑ زبان بولنے والے کئی ملین افراد اس وقت کافی مشتعل ہوگئے جب سرچ انجن گوگل نے اسے بھارت کی غلیظ ترین زبان بتانا شروع کر دیا۔جنوبی بھارتی ریاست کرناٹک کے اکثریتی آبادی کی زبان کنّڑ کو جمعرات کے روز سرچ انجن گوگل نے بھارت کی غلیظ ترین زبان بتانا شروع کر دیا۔ اس پر کنّڑ بولنے والوں میں اتنی سخت ناراضگی پیدا ہو گئی کہ ریاستی حکومت نے گوگل کو قانونی نوٹس جاری کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔
تاہم گوگل نے بعد میں اس غلطی پر معافی مانگ لی۔یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب گوگل سے ’بھارت کی سب سے واہیات زبان‘ کے بارے میں سوال پوچھنے پر اس کا جواب ملا’ کنڑ‘ اور کسی نے اس جواب کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا، جو وائرل ہو گیا۔ گوگل کی اس فاش غلطی کی تمام حلقوں کی جانب سے مذمت شروع ہوئی۔ کرناٹک میں گوکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے تاہم تمام سیاسی جماعتوں نے پارٹی خطوط سے اوپر اٹھ کر بیک آواز اس امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کی مذمت کی۔
کرناٹک کے وزیر برائے کنٹر اور ثقافت اروند لیمباولی نے کہا کہ اس خوبصورت زبان کا امیج خراب کرنے کے لیے گوگل کو قانونی نوٹس بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ کنڑ زبان کی اپنی ایک قابل فخر تاریخ ہے۔ یہ ڈھائی ہزار برس سے زیادہ عرصے سے موجود ہے۔ یہ زبان صدیوں سے کنڑا عوام کے لیے باعث فخر رہی ہے۔
لیمباولی نے ایک ٹویٹ کرکے ‘کنڑا وقار کی توہین کرنے پر‘ گوگل سے فوراً معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا۔اپوزیشن جماعت جنتا دل سیکولر کے رہنما اور سابق ریاستی وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی نے بھی متعدد ٹویٹس کر کے کنّڑ زبان سے متعلق ‘اہانت آمیز‘ جواب پر گوگل پر تنقید کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس زبان کے حوالے سے گوگل کا رویہ اتنا غیر ذمہ دارانہ کیوں ہے۔کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو کے سینٹرل پارلیمانی حلقے سے بی جے پی کے رکن پارلیمان پی سی موہن نے بھی گوگل پر تنقید کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر گوگل کے جواب کا ایک اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کرناٹک عظیم وجیا نگر سلطنت کا پایہ تخت رہا ہے اور کنّڑ زبان کی عظیم ثقافتی روایات رہی ہیں۔ اس کا ماضی شاندار اور کلچر منفرد ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ کنڑ دنیا کی قدیم ترین زبانوں میں سے ایک ہے۔ اس کے عظیم دانشوروں نے، جو چودہویں صدی میں پیدا ہوئے، جیفری چَوسر سے بھی بہت پہلے تاریخی رزمیہ نظمیں لکھی تھیں۔



