بین الاقوامی خبریں

گوگل نے افغان حکومتی عہدیداروں، وزارتوں کے ای میل اکاؤنٹس بلاک کر دیئے

نیویارک ، ۴؍ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گوگل Google نے افغانستان کی حکومت کے متعدد ای میل اکاؤنٹس کو عارضی طور پر بلاک کر دیا ہے۔رائٹرز کے مطابق امریکی پشت پناہی سے قائم افغان حکومت کو طالبان کی جانب سے گرانے کے بعد مختلف رپورٹس میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بائیو میٹرک اور افغان پے رول ڈیٹا بیس کو نئے حکمران اپنے مخالفین کی تلاش کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

ایک بیان میں گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ نے افغان حکومت کے اکاؤنٹس لاک ڈاؤن کرنے کی تصدیق نہیں کی ،تاہم بتایا کہ کمپنی افغانستان میں صورت حال کی نگرانی کر رہی تھی کہ اور ’متعلقہ اکاؤنٹس کو محفوظ بنانے کے لیے عارضی اقدامات کیے ہیں‘۔سابق حکومت کے ایک ملازم نے ر ائٹرز کو بتایا کہ طالبان سابق حکومتی عہدیداروں کے ای میل اکاؤنٹس حاصل کرنا چاہ رہے تھے۔

سرکاری ملازم کا کہنا تھا کہ گذشتہ ماہ کے اواخر میں طالبان نے ان سے کہا کہ جس وزارت کے لیے وہ کام کر رہے تھے اس کا ڈیٹا سرور میں محفوظ رکھا جائے۔سابق افغان سرکاری ملازم کے مطابق اگر میں ایسا کرتا ہوں تو وہ وزارت کے سابق عہدیداروں کی سرکاری خط و کتابت کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرلیں گے۔

روئٹرز نے لاحق سکیورٹی خدشات کے باعث سابق سرکاری ملازم اور ان کی وزارت کا نام سامنے نہیں لایا۔افغانستان میں وزارتیں اور سابق حکومت کے عہدیدار سرکاری رابطوں کے لیے گوگل سرور اور ای میل سروس استعمال کرتے تھے۔گوگل کی سروس استعمال کرنے والی وزارتوں میں خزانہ، صنعت، ہائر ایجوکیشن اور معدنیات شامل ہیں۔

افغانستان کا صدارتی دفتر بھی گوگل استعمال کرتا تھا۔انٹرنیٹ سکیورٹی انٹیلی جنس فرم ڈومین ٹولز کے ریسرچر چاڈ اینڈرسن نے روئٹرز کو بتایا کہ صرف سرکاری ملازمین کی گوگل شیٹ ہی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ یہ معلومات کا ایک خزانہ فراہم کر دے گی۔ای میلز کے تبادلوں کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی افغان حکومتی محکمے اور وزارتیں جن میں وزارت خارجہ اور صدارتی دفتر شامل ہیں ،مائیکروسافٹ کارپوریشن کی ای میل سروسز بھی استعمال کرتے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button