قومی خبریں

حکومت عوامی مسائل پر بحث نہیں چاہتی،لداخ اورپیگاسس کا مسئلہ اٹھانے نہیں دیا گیا-راہل گاندھی

راہل گاندھی نے کہا،ایوان چلانے کی ذمہ داری حکومت کی،اپوزیشن کی نہیں

نئی دہلی20دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے پیر کو حکومت پر پارلیمنٹ میں عوامی مسائل پر بحث نہ کرنے کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا ہے کہ لداخ کو انہیں اٹھانے کی اجازت نہیں ہے۔انہوں نے لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے اور سرحدی علاقوں کی چرائی زمینوں تک مقامی لوگوں کی رسائی کو یقینی بنانے کے موضوع پر التوا کا نوٹس دیا تھا۔

راہل گاندھی نے پارلیمنٹ کے احاطے میں صحافیوں سے کہاہے کہ اگر ہم لداخ کا مسئلہ اٹھانا چاہتے ہیں تو حکومت اس کی اجازت نہیں دیتی، کسانوں کا مسئلہ اٹھانا چاہتے تھے، حکومت اسے اٹھانے نہیں دیتی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت عوام سے متعلق موضوعات پر بحث کی اجازت نہیں دیتی۔

کانگریسی لیڈرنے کہاہے کہ میں نے لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے اور وہاں کے لوگوں کے بہت سے مطالبات پر التوا کا نوٹس دیا تھا۔ لیکن اس مسئلے کو اٹھانے نہیں دیا گیا۔

میں لداخ کے لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ایک سوال کے جواب میں راہل گاندھی نے کہاہے کہ ایوان چلانے کی ذمہ داری اپوزیشن کی نہیں، حکومت کی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہاہے کہ وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار مشرا کو برطرف کیا جانا چاہیے اور لکھیم پور کھیری مسئلہ پر ایوان میں بحث ہونی چاہیے۔سماج وادی پارٹی کے صدر اور لوک سبھاممبراکھلیش یادو کے اتر پردیش کی بی جے پی حکومت پر فون ٹیپنگ کا الزام لگانے سے متعلق سوال پر راہل گاندھی نے دعویٰ کیاہے کہ حکومت مسلسل جمہوریت پر حملہ کر رہی ہے۔

پیگاسس کا موضوع ایک بین الاقوامی معاملہ تھا۔ ہندوستان کا ڈیٹا کسی اور ملک میں رکھا گیا تھا۔ حکومت نے یہاں تک اس پر بات نہیں ہونے دی۔ جمہوریت مسلسل حملوں کی زدمیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button