تلنگانہ کی خبریں

گورنر کے خطبہ میں سیاسی رنگ ، سابق کے سی آر حکومت پر سخت حملے

ریونت ریڈی حکومت کی تعریفوں کے پُل، 10 سالہ ڈکٹیٹرشپ اور ظلم سے آزادی کا دعویٰ

حیدرآباد:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن کا اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں خطبہ سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ گورنر کے خطبہ میں سابق کے سی آر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور سابقہ حکومت کی ناکامیوں کے بارے میں خطبہ میں کئی پیراگراف شامل کئے گئے۔ گورنر سوندرا راجن جن کے سابقہ حکومت سے تعلقات کشیدہ تھے، انہوں نے نئی کانگریس حکومت کے خطبہ کو من و عن پڑھتے ہوئے اپوزیشن کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ گورنر کے خطبہ کو حکومت کی جانب سے تیار کیا جاتا ہے اور گورنر کو اختیار ہے کہ اس میں ضروری ترمیم کرے۔ تلنگانہ کی تیسری اسمبلی کی تشکیل کے بعد کانگریس کی ریونت ریڈی حکومت نے گورنر کا جو خطبہ تیار کیا ، اس میں حکومت کی دل کھول کر تعریف کی گئی جبکہ سابقہ حکومت کو نشانہ بنانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا گیا ۔

گورنر نے حکومت اور چیف منسٹر دونوں کی بھرپور تعریف کی اور کہا کہ ریاستی کابینہ کی قیادت ایک نوجوان لیڈر کر رہے ہیں اور کابینہ تجربہ کار اور نئے چہروں کا معقول امتزاج ہے ۔ گورنر نے عوام کو بھروسہ دلایا کہ نئے سال میں تبدیلی کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے ۔ گورنر نے کانگریس کی کامیابی کو جبر و استبداد سے آزادی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے اسمبلی انتخابات میں خود کو آزاد کرنے کا فیصلہ دیا ہے۔ میں عوام کی اجتماعی سونچ کی تعریف کرتی ہوں۔ تلنگانہ آزادی کی تازہ ہوا میں سانس لے رہا ہے ۔ ریاست کو ڈکٹیٹرشپ اور اس کے رجحانات سے آزاد کرایا گیا ہے۔ تلنگانہ کی عوام نے واضح کردیا کہ وہ اس قسم کا ظلم برداشت نہیں کریں گے۔ گورنر نے کہا کہ مجھے یہ کہتے ہوئے فخر ہورہا ہے کہ شیشے کے گھر اور رکاوٹیں ہٹاکر حقیقی عوامی حکمرانی کا آغاز ہوچکا ہے ۔

ریونت ریڈی کی ستائش کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ ریونت ریڈی نے واضح کیا کہ جمہوریت میں حکمراں عوام کے خادم ہوتے ہیں اور وہ جاگیردار نہیں ہوتے۔ تلنگانہ حکومت جلد ہی ملک کیلئے رول ماڈل ہوگی اور سماج کا ہر فرد فخر سے یہ اعلان کرسکتا ہے کہ یہ ان کی حکومت ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل چار کروڑ عوام کی امنگوں ، نوجوانوں کی قربانیوں اور طلبہ کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ گورنر نے 2014 ء میں علحدہ تلنگانہ کی تشکیل میں اس وقت کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور یو پی اے کی چیر پرسن سونیا گاندھی کے رول پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ میں اندراماں راجیم قائم ہوگا اور حکومت میں کسی طرح کا جبر اور ڈکٹیٹرشپ نہیں ہوگی۔

گورنر نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے نو برسوں میں تمام ادارے تباہ ہوچکے ہیں۔ جن اداروں کو جمہوری انداز میں کام کرنا چاہئے، وہ بد قسمتی سے انفرادی خدمت کے لئے تنزلی کا شکار ہوچکے ہیں۔ جمہوریت میں ادارے شخصی مفاد کی تکمیل میں مصروف ہوجائیں تو یہ جمہوریت نہیں ہے۔ گورنر نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے تعمیری تنقیدوں کا خیرمقدم کیا جائے گا اور کسی بھی پارٹی کے ارکان اپنے اسمبلی حلقوں کے لئے مدد اور تعاون حاصل کرسکتے ہیں۔ سکریٹریٹ کی عالیشان عمارت کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ سکریٹریٹ محض آرائشی علامت نہیں رہے گی اور حکومت تمام دستوری اداروں کا احترام کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button