بنگلورو15فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرناٹک میں ایک یونیورسٹی کالج کے کھلنے سے ایک دن قبل، جو کہ کلاس رومز کے اندر حجاب پہننے پر احتجاج کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا، ریاست کے وزیر داخلہ آراگا گیانندرا نے کہاہے کہ حکام سے کہا جانا چاہیے کہ وہ مذہبی تنظیموں کی شناخت کریں۔ اور معاشرے کو توڑنے اور طلبہ کو گمراہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔
ایک بیان میں وزیر نے الزام لگایاہے کہ کچھ مذہبی تنظیمیں طلبہ کو معاشرے کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ ان کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیاہے کہ سبھی نہیں بلکہ کچھ طالبات اس بات پر اصرار کررہی ہیں کہ انہیں حجاب پہن کر اسکول جانے کی اجازت دی جائے۔
گیانندرا نے دعویٰ کیاہے کہ مجھے یقین ہے کہ یہ (حجاب پہننے کا مطالبہ) ان کی (لڑکیوں کی) اپنی سوچ نہیں ہے۔ ہمیں کرناٹک ہائی کورٹ کے عبوری حکم کا احترام کرنا چاہئے اور اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
کرناٹک ہائی کورٹ نے حجاب تنازعہ سے متعلق اپنے عبوری حکم میں طلبہ کو حجاب یا زعفرانی گامچھہ پہن کر کلاس میں جانے سے روک دیا ہے۔
گیانیندر نے کہا کہ ریاست میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ طلبہ بغیر کسی رکاوٹ کے کلاسوں میں بیٹھ سکیں۔انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ کسی خوف اور عدم تحفظ کے احساس کے بغیر تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔



