صحت اور سائنس کی دنیا

انگور بھی آنکھوں کیلئے مفید

آنکھوں کی صلاحیت میں کمی آکسی ڈیٹو تناؤ کی وجہ سے ہوتی ہے

ایک تحقیق سے چار ماہ تک روزانہ صرف مٹھی بھر انگور کھانے سے آنکھوں کی صحت کی اہم علامات بہتر ہوئیں۔ راز اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ آنکھوں کی صلاحیت میں کمی آکسی ڈیٹو تناؤ کی وجہ سے ہوتی ہے اور انگور میں اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف سنگا پور کی ٹیم نے 34 بالغ افراد کا مشاہدہ کیا جنہوں نے 16 ہفتوں تک روزانہ ڈیڑھ کپ انگور کا استعمال کیا۔ انگور کھانے والوں میں پلازما اینٹی آکسیڈنٹ کی کل مقدار میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ جن لوگوں نے انگور کا استعمال نہیں کیا ان میں جلد کے اندر پیمائش کے مطابق نقصان دہ او کیولر ایڈوانسڈ گلا کمیشن اینڈ پروڈکٹس (اے جی ای) میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

جرنل فوڈ اینڈ فنکشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ آنکھوں کی بیماری کے اہم خطرے کے عوامل میں آکسیڈیٹو تناؤ اور اے جی ای کی بلند سطح شامل ہیں۔ محققین نے دریافت کیا کہ انگور، جو اینٹی آکسائیڈ نٹس اور دیگر پولی فینولز کا قدرتی ذریعہ ہیں، آکسیڈیٹو تناؤ کو کم اور اے جی ای کی تشکیل کو روک سکتے ہیں۔

تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر جنگ ایون کم کا کہنا تھا ہماری تحقیق، پہلی تحقیق ہے جس سے یہ بات سامنے آئی کہ انگور کا استعمال انسانوں میں آنکھوں کی صحت پر فائدہ مند اثرات مرتب کرتا ہے جو خاص طور پر بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے معاملے میں بہت دلچسپ ہے۔

انگور ایک آسان، قابل رسائی پھل ہے، مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ روزانہ صرف ڈیڑھ کپ کی عام مقدار فائدہ مند اثر ڈال سکتا ہے۔ انگوروں کا باقاعدگی سے استعمال ادھیڑ عمر افراد میں آنکھوں کی صحت کو بہتر بنا سکتا ہے، خاص طور پر ایم پی اوڈی کو بڑھانے میں، جس کی وضاحت پلازما کی مجموعی اینٹی آکسیڈنٹ صلاحیت اور فینولک کا نٹینٹ میں اضافے اور اے جی ای کو کم کر کے کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button