چائے اور گردے کی پتھری: سبز اور لیموں والی چائے پینے سے بڑھ سکتا ہے خطرہ؟
لیموں کی چائے اور اس کے اثرات
ناقص خوراک اور غیر متوازن طرزِ زندگی کی وجہ سے آج کل گردے کے مسائل عام ہوتے جا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ گردے میں پتھری کی تکلیف سے دوچار ہیں، جو نہ صرف شدید درد کا باعث بنتی ہے بلکہ روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہ مسئلہ عام طور پر اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب گردوں میں چھوٹی چھوٹی پتھریاں (Crystals) بننے لگتی ہیں۔ ان پتھریوں کی ایک بڑی وجہ جسم میں پانی کی کمی اور ایسی غذاؤں کا استعمال ہے جن میں کیلشیم آکسیلیٹ (Calcium Oxalate) کی مقدار زیادہ ہو۔
اسی دوران اکثر لوگوں کے ذہن میں ایک سوال اُبھرتا ہے:
کیا سبز چائے (Green Tea) اور لیموں والی چائے (Lemon Tea) پینے سے گردے میں پتھری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے؟
آئیے اس پر تفصیل سے بات کرتے ہیں۔
کیا سبز اور لیموں کی چائے پتھری کا باعث بن سکتی ہے؟
سبز چائے اور گردے کی پتھری
صحت مند طرزِ زندگی اپنانے والے افراد عام طور پر سبز چائے کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ میٹابولزم کو تیز کرتی ہے، نظامِ ہضم کو بہتر بناتی ہے، اور جسم سے زہریلے مادے خارج کرنے میں مدد دیتی ہے۔
تاہم، اگر اس کا استعمال ضرورت سے زیادہ کیا جائے تو یہ فائدے کے بجائے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
سبز چائے میں آکسیلیٹ (Oxalate) نامی جز پایا جاتا ہے، جو گردے کی پتھری بننے کا ایک بنیادی سبب ہے۔ جب سبز یا کالی چائے حد سے زیادہ پی جائے، تو جسم میں آکسیلیٹ کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو بالآخر کیلشیم کے ساتھ مل کر پتھری کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
لیموں کی چائے اور اس کے اثرات
لیموں کی چائے بظاہر ہلکی اور تازگی بخش لگتی ہے، لیکن اگر آپ اسے روزانہ کی بنیاد پر زیادہ مقدار میں پیتے ہیں، تو یہ گردوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ وٹامن سی (Vitamin C) جسم میں ٹوٹ کر آکسیلیٹ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جب آکسیلیٹ کی سطح بڑھتی ہے تو جسم میں کیلشیم آکسیلیٹ کرسٹل بننے لگتے ہیں، جو گردے کی پتھری کی ایک عام قسم ہے۔
اگر آپ پہلے سے ہی گردے کی پتھری، گٹھیا یا جگر کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں تو لیموں والی چائے سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔
احتیاطی تدابیر
-
روزانہ 8 سے 10 گلاس پانی پینے کی عادت ڈالیں۔
-
چائے، خاص طور پر سبز اور لیموں والی چائے، دن میں ایک یا دو کپ سے زیادہ نہ پیئیں۔
-
کیلشیم سے بھرپور غذاؤں کا متوازن استعمال کریں۔
-
اگر گردے میں درد، جلن یا دیگر علامات محسوس ہوں تو فوراً ماہرِ امراضِ گردہ سے رجوع کریں۔
اگرچہ سبز اور لیموں والی چائے اعتدال میں پینے سے صحت کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن اس کا زیادہ استعمال گردوں میں آکسیلیٹ جمع ہونے اور پتھری بننے کا باعث بن سکتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ان چائے کی اقسام کو محدود مقدار میں استعمال کریں، پانی کی مقدار بڑھائیں اور صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں۔



