گجرات کے امریلی میں مدرسے پر بلڈوزر کی کارروائی
مولانا فضل عبدالعزیز شیخ کے مدرسے کی مسماری،
امریلی، 13 مئی (اردو دنیا/ایجنسیز):گجرات کے امریلی ضلع کے دھاری علاقے میں واقع مولانا محمد فضل عبدالعزیز شیخ کے زیر انتظام ایک مدرسے پر انتظامیہ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بلڈوزر چلا دیا۔ یہ مدرسہ ہمکھادیپارا علاقے میں قائم تھا، جہاں کی زمین ریاستی حکومت کی جانب سے غریب و مستحقین کو الاٹ کی گئی تھی۔
انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ مولانا نے مدرسے کی قانونی ملکیت سے متعلق کوئی مستند دستاویز پیش نہیں کی۔ پولیس تفتیش کے دوران مولانا کے واٹس ایپ اکاؤنٹ میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے کئی مشتبہ گروپس کا انکشاف ہوا، جس کے بعد مدرسے کی سرگرمیوں پر سوالات اٹھنے لگے۔
ڈپٹی ایس پی پی آر راٹھور نے میڈیا کو بتایا کہ "تحقیقات کے دوران مدرسے سے متعلق کوئی بھی قانونی کاغذ سامنے نہیں آیا۔ ایسے میں انتظامیہ نے مدرسہ گرانے کا حکم جاری کیا اور کارروائی جاری ہے۔”
صوبائی افسر ہرش وردھن سنگھ جڈیجہ نے واضح کیا کہ جس زمین پر مدرسہ قائم تھا، وہ دراصل غریبوں کو الاٹ کی گئی تھی۔ اس غیرقانونی قبضے اور مشکوک سرگرمیوں کی بنیاد پر ہی کارروائی کی گئی ہے۔
پولیس کی بھاری نفری موقع پر تعینات ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر علاقے میں کسی قسم کا تناؤ پیدا ہوا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی تناؤ جاری ہے۔ حال ہی میں بھارتی فوج نے "آپریشن سندور” کے تحت پاکستان کے اندر کئی دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے ردعمل میں پاکستان نے بھارت کے فوجی اور سویلین اہداف پر حملے کیے، جنہیں بھارتی دفاعی نظام نے بڑی حد تک ناکام بنا دیا۔ فی الوقت دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی قائم ہے، لیکن حالات کشیدہ ہیں۔



