گجرات انتخابات 2022: پہلے مرحلے کی ووٹنگ ختم، 89 سیٹوں پر شام 5 بجے تک 57 فیصد ووٹنگ
سائیکل پر ایل پی جی سلنڈر کے ساتھ ووٹ ڈالنے پہنچے کانگریس امیدوار
احمد آباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گجرات کے پہلے مرحلے کے لیے ووٹنگ ختم ہو گئی ہے۔ ووٹنگ کا وقت شام 5 بجے تک تھا۔ جمعرات (یکم دسمبر) کو گجرات قانون ساز اسمبلی کی کل 182 نشستوں میں سے 89 نشستوں پر پہلے مرحلے کے تحت ووٹنگ ہوئی۔ اس میں سوراشٹرا-کچھ اور جنوبی حصے کے 19 اضلاع شامل ہیں۔ پہلے مرحلے میں 788 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ پولنگ کے حتمی اعداد و شمار کا انتظار ہے اور شام 5 بجے تک 57 فیصد ووٹنگ درج ہو چکی ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) میں خرابی کی چند الگ الگ واقعات اور شکایات کو چھوڑ کر پولنگ کا عمل جو صبح 8 بجے شروع ہوا، مکمل طور پر پرامن رہا۔
اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 5 دسمبر کو ہوگی اور ووٹوں کی گنتی 8 دسمبر کو ہوگی۔جمعرات کو 14,382 پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ شروع ہوئی، جن میں سے 3,311 شہری اور 11,071 دیہی علاقوں میں ہیں۔ ووٹنگ کی نگرانی کے لیے 13,065 پولنگ اسٹیشنوں سے لائیو ویب کاسٹ کیا گیا۔ بی جے پی گجرات میں 27 سال سے اقتدار میں ہے، اور پارٹی مسلسل ساتویں بار اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس بار بی جے پی نہ صرف کانگریس بلکہ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کیخلاف بھی ہے، جو خود کو اہم اپوزیشن پارٹی ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اگر ہم گجرات میں 2017 کے اسمبلی انتخابات کی بات کریں ،تو بی جے پی نے 182 میں سے 99 سیٹیں جیت کر اکثریت حاصل کی تھی۔ کانگریس کو 77 سیٹیں ملی تھیں۔ آزاد امیدواروں نے 3 نشستیں حاصل کیں۔ 2 سیٹیں بی ٹی پی اور ایک سیٹ این سی پی کے حصے میں آئی تھی۔
سائیکل پر ایل پی جی سلنڈر کے ساتھ ووٹ ڈالنے پہنچے کانگریس امیدوار
گجرات اسمبلی انتخابات کے دوران امریلی میں کانگریس امیدوار پریش دھانانی Congress MLA Paresh Dhanani کا الگ انداز دیکھنے کو ملا۔ دراصل وہ سائیکل پر گیس سلنڈر لے کر ووٹ ڈالنے گھر سے بوتھ پر پہنچے اور پھر اپنا ووٹ ڈالا۔ اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد کانگریس امیدوار پریش دھانانی نے کہا کہ گزشتہ 27 سالوں میں بی جے پی نے ریاست کو خوف اور خود غرضی کی دیوار کے درمیان غلام بنانے کی سازش کی ہے۔ حکومتی ناکامیوں کی وجہ سے گجرات میں کساد بازاری، مہنگائی، بے روزگاری روز بروز بڑھ رہی ہے۔کانگریس امیدوار پریش دھانانی نے کہا کہ ان مسائل سے نجات پانے کے لیے میں نے آج ووٹ دیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ پورا گجرات بھی ووٹ دے گا اور حکومت کی تبدیلی آئے گی۔
کانگریس آئے گی اور پھر سے خوشحالی چھائے گی۔خیال رہے کہ انتخابات کے پہلے مرحلے میں 39 سیاسی جماعتوں کے 788 امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں 70 خواتین بھی شامل ہیں۔ اس مرحلے میں کل 2 کروڑ 39 لاکھ 76 ہزار 670 ووٹرز اپنے حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ ان میں سے 12433362 مرد، 11542811 خواتین اور 497 خواجہ سرا ووٹرز ہیں۔ اس الیکشن میں پہلی بار ووٹ ڈالنے والے 18 سے 19 سال کے نوجوان ووٹرز کی تعداد 574560 ہے، جبکہ 99 سال سے زیادہ عمر کے ووٹرز کی تعداد 4945 ہے۔گجرات میں دو مرحلوں میں ووٹنگ ہونی ہے۔ پہلے مرحلے کی پولنگ یکم دسمبر یعنی آج ہو رہی ہے جبکہ دوسرے مرحلے کی پولنگ 5 دسمبر کو ہونی ہے۔ دوسرے مرحلے میں 83 نشستوں کے لیے 833 امیدواروں کی مہم 3 دسمبر تک جاری رہے گی۔ جبکہ نتائج کا اعلان 8 دسمبر کو کیا جائے گا۔



