قومی خبریں

گجرات :نعرۂ شبیر ’یا حسین‘ بلند کرنے پر ہندو تنظیمیں سیخ پا،شکایت پر 4 اساتذہ معطل

کھیڑا؍احمد آباد ، 2اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گجرات کے کھیڑا ضلع کے ہاتھاج پرائمری اسکول کے چار اساتذہ کو محض اس لئے معطل کر دیا گیا کہ ان کی موجودگی میں اسکول کی ایک تقریب کے دوران بچوں نے نعرۂ شبیر’یا حسین‘ کی صدا بلند کردی۔ الزام یہ لگایا گیا ہے کہ نعرۂ شبیر سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں، تاہم دوہرا رویہ یہ ہے کہ ہندوانہ نعرے بلا تردد قبول کئے جاتے ہیں ، لیکن نعرۂ شبیر’یاحسین‘ سے انہیں خدا واسطے کا بیر ہے۔ اس سلسلے میں ضلع پرائمری تعلیم کے افسر کے ایل پٹیل نے خبر رساں کو بتایا کہ اتوار کی صبح، میں نے دیگر عہدیداروں اور پولیس ٹیم کے ہمراہ گاؤں کا دورہ کیا اور اسکول کے لوگوں سے بات چیت کے بعد چار اساتذہ کو فوری اثر سے معطل کر دیا ہے۔خیال رہے کہ اسکول میں جمعہ کے روز گربا کی تقریب منعقد کی گئی تھی۔ جس میں طلبا کے ایک گروپ نے ’یا حسین‘ کی صدا بلند کی۔

جس کے بعد اسکول کے دوسرے طلبا نے بھی ان کی تقلید میں ویسا ہی کیا۔ ہندو دھرم سینا کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسکولی طلبا کے اس طرح اسلامی نعرہ لگانے سے اکثریتی طبقہ یعنی ہندؤں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ضلع پرائمری تعلیم کے افسر نے اس معاملہ کی جانچ کر پرائمری تعلیمی دفتر کو پیر تک رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔ معطل اساتذہ میں جاگرتی ساگر، سبرا بین وورا، ایکتا بین آکاشی اور سولن بین واگھیلا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ کے روز ہندو دھرم سینا کے لیڈران نے میری توجہ اس جانب مبذول کرائی تھی، جس کے بعد ہاتھاج پرائمری اسکول کے اساتذہ کے خلاف کارروائی کی گئی۔

ہندو دھرم سینا کے راجن ترپاٹھی نے کہا گربا ہندو تہوار ہے، جس میں دوسرے مذہب کو فروغ دیا گیا، اس سے اکثریتی طبقہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، لہٰذا ہماری تنظیم نے اساتذہ پر فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ والدین کو اس کا علم تب ہوا جب طلبا نے گھر لوٹنے کے بعد یہ بتایا۔ مسلم گروپ کی ٹی شرٹ پہنے تقریباً 30 طلبا نے ’یا حسین‘ کی صدا بلند کی، جس کے بعد دیگر طلبا نے بھی ان کے ساتھ نعرے لگانا شروع کر دیئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button