قومی خبریں

احسان جعفری کیس :سپریم کورٹ سے بھی پی ایم مودی کو کلین چٹ مل گئی

نئی دہلی، 24جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے جمعہ کو 2002 کے گجرات فسادات میں ریاست کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ اور موجودہ وقت کے پی ایم نریندر مودی کو کلین چٹ دینے والی ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔سماعت کے دوران عدالت نے ریاست کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو دی گئی کلین چٹ کو برقرار رکھا۔ ایس آئی ٹی کی کلین چٹ کو سپریم کورٹ کی منظوری مل گئی۔ عدالت نے 2002 کے فسادات کے پیچھے بڑی سازش کی تحقیقات سے انکار کرتے ہوئے سابق کانگریس لیڈر ذکیہ جعفری کی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔

فیصلہ سنانے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ذکیہ کی اپیل میں کوئی میرٹ نہیں ہے۔آپ کو بتا دیں کہ 9 دسمبر 2021 کو سپریم کورٹ نے پورے معاملے میں میراتھن سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔دراصل، 2002 کے گجرات فسادات کے دوران گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی قتل عام میں جاں بحق کانگریس لیڈر احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری نے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔رپورٹ میں گودھرا قتل عام کے بعد فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کے لیے ریاست کے اعلیٰ عہدیداروں کی طرف سے کسی بڑی سازش کو مسترد کیا گیا تھا۔

2017 میں گجرات ہائی کورٹ نے مجسٹریٹ کی طرف سے ایس آئی ٹی کی بندش کی رپورٹ کے خلاف اپنی احتجاجی شکایت کو برخاست کرنے کے خلاف ذکیہ کے چیلنج کو مسترد کر دیا۔اس کے ساتھ ہی ایس آئی ٹی اور گجرات حکومت نے مذکورہ فسادات میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو دی گئی کلین چٹ کے خلاف عرضی کی مخالفت کی۔ فسادات کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی نے ذکیہ جعفری کی طرف سے بڑی سازش کے الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔ایس آئی ٹی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آر یا چارج شیٹ درج کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ملی۔

ذکیہ کی شکایت پر مکمل چھان بین کی گئی لیکن کوئی مواد نہیں ملا۔ یہاں تک کہ اسٹنگ کے مواد کو بھی عدالت نے مسترد کر دیا۔دراصل ذکیہ جعفری نے ایس آئی ٹی پر ملزمین کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگایا تھا۔ گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے اس پر اعتراض کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ملی بھگت سپریم کورٹ کی طرف سے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کے لیے سخت لفظ ہے۔ یہ وہی ایس آئی ٹی ہے جس نے دیگر معاملات میں چارج شیٹ داخل کی تھی اور ملزمین کو سزا سنائی تھی۔ان کاروائیوں میں ایسی کوئی شکایت نہیں ملی۔

یہاں، ذکیہ جعفری کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا تھا کہ جب بات ایس آئی ٹی کی آتی ہے، تو اس میں ملزم کے ساتھ ملی بھگت کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ سیاسی طبقہ بھی اتحادی بن چکا ہے۔ ایس آئی ٹی نے اہم دستاویزات کی جانچ نہیں کی۔غور طلب ہے کہ یہ پورا معاملہ 28 فروری 2002 کو احمد آباد کی گلبرگہ سوسائٹی میں ہوئے فسادات سے جڑا ہے۔ یہاں کے اپارٹمنٹ میں آتشزدگی میں کانگریس ایم پی احسان جعفری سمیت 68 لوگ زندہ جلا کر شہید کردیئے گئے تھے۔ایس آئی ٹی نے فسادات کی جانچ کی تھی۔

تحقیقات کے بعد گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو کلین چٹ دے دی گئی تھی۔احمد آباد سمیت گجرات کے کئی شہروں اور قصبوں میں فسادات پھوٹ پڑے تھے، کیونکہ دو روز قبل گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس کی کوچ کو آگ لگا دی گئی تھی، جس میں 59 افراد زندہ جل گئے تھے۔یہ لوگ ایودھیا سے کار سیوا کرکے واپس آرہے تھے۔ 2012 میں فسادات کے دس سال بعد ایس آئی ٹی نے تحقیقاتی رپورٹ داخل کی تھی۔رپورٹ میں نریندر مودی سمیت 64 لوگوں کو کلین چٹ دی گئی۔ درخواست میں اس رپورٹ کو چیلنج کیا گیا تھا اور فسادات میں بڑی سازش کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا، جسے اب عدالت نے مسترد کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button