گجرات-عاشق کو پانے کے لیے خاتون نے ڈھائی سالہ بیٹے کو قتل کر دیا-دریشیم فلم دیکھ کر نعش ٹھکانے لگائی
خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اس نے نعش کو ایک گڑھے میں دفن کیا تھا۔ پولیس نے خاتون کے بتائے ہوئے مقام پر جے سی بی کھدائی کرائی لیکن نعش نہیں ملی۔
سورت :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) گجرات کے شہر سورت میں ایک ڈھائی سالہ بچے کی ماں نینا مانڈاوی اپنے بچے کے لاپتہ ہونے کی شکایت لے کر پولیس اسٹیشن پہنچی۔ معاملہ ایک چھوٹے بچے کی گمشدگی کا تھا، اس لیے پولیس نے تاخیر کے بغیر بچے کی گمشدگی کے ساتھ اغوا کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔پولیس نے اس جگہ کے ارد گرد نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو اسکین کرنا شروع کردیا جہاں خاتون تعمیراتی جگہ پر کام کرتی تھی۔ پولیس نے سی سی ٹی وی کی چھان بین کی لیکن بچہ کہیں نظر نہیں آیا۔اس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ بچہ اس جگہ سے باہر نہیں آیا ہے جہاں تعمیراتی جگہ پر خاتون کام کرتی ہے۔ پولیس خاتون سے بچے کی گمشدگی کے حوالے سے کئی سوالات کر رہی تھی لیکن خاتون کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکی۔
پولیس نے لاپتہ بچے کی تلاش کے لیے ڈاگ اسکواڈ کی مدد بھی لی۔
ڈاگ سکواڈ تعمیراتی جگہ کے باہر بھی نہیں گیا۔ یعنی پولس سمجھ چکی تھی کہ بچہ تعمیراتی جگہ سے زندہ باہر نہیں گیا تھا۔خاتون نے عاشق پر الزامات بھی لگائے گئے، پولیس نے تفتیش کی تو جھوٹ نکلا۔ لاپتہ بچے کی ماں نے پولیس کو بتایا کہ اس کا ایک عاشق ہے، جو جھارکھنڈ میں رہتا ہے، جس نے بچے کو اغوا کیا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے خاتون کو تسلی دینے کے لیے اس کے عاشق سے بھی رابطہ کیا اور اس کی لوکیشن بھی ٹریس کی لیکن سورت کے قریب کہیں بھی اس کی لوکیشن ٹریس نہیں ہوئی۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ کبھی سورت نہیں آیا۔ ایسے میں خاتون کا ایک اور جھوٹ پولیس کے سامنے آگیا۔
اب پولیس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ جب بچہ تعمیراتی جگہ سے باہر نہیں گیا اور نہ ہی اسے کسی نے اغوا کیا تو پھر وہ کہاں گیا؟ اس کے بعد پولیس نے شکایت کرنے والی خاتون سے سختی سے پوچھ گچھ شروع کی تو خاتون نے اپنے بچے کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اس نے نعش کو ایک گڑھے میں دفن کیا تھا۔ پولیس نے خاتون کے بتائے ہوئے مقام پر جے سی بی کھدائی کرائی لیکن نعش نہیں ملی۔ اس کے بعد خاتون نے کہا کہ اس نے نعش تالاب میں پھینکی تھی۔ اس پر پولیس نے تالاب میں بھی سرچ آپریشن کیا لیکن وہاں سے بھی نعش نہیں ملی۔ اس کے بعد پولیس نے خاتون سے سخت لہجے میں کہا کہ وہ سچائی بتائے تو خاتون نے بتایا کہ نعش اسی تعمیراتی جگہ کے بیت الخلا کے لیے بنائے گئے گڑھے میں پھینکی گئی تھی۔ اس پر پولیس خاتون کے ساتھ تعمیراتی مقام پر پہنچی تو وہاں سے بچے کی نعش برآمد ہوئی۔
سورت پولس کے ڈی سی پی بھاگیرتھ گدھوی نے بتایا کہ 27 جون کو نینا بین منڈاوی اپنے ڈھائی سالہ بچے کے گم ہونے کی شکایت لے کر ڈنڈولی پولیس اسٹیشن آئی تھیں۔ پولیس نے گمشدگی کا مقدمہ درج کرکے بچے کی تلاش شروع کردی تاہم بچہ نہیں ملا۔ اس کے بعد جب پولیس کو خاتون پر شک ہوا تو انہوں نے اس سے سختی سے پوچھ گچھ کی۔ خاتون نے اعتراف جرم کر لیا تھا۔ خاتون نے معصوم بیٹے کو کیوں قتل کیا؟ اس کی وجہ پولیس کو بتائی جب خاتون سے بیٹے کو قتل کرنے اور نعش چھپانے کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے بتایا کہ وہ اصل میں جھارکھنڈ کی رہنے والی ہے۔ جھارکھنڈ میں اس کا ایک عاشق ہے، جس نے اسے بتایا کہ اگر وہ اپنے بچے کے ساتھ اس کے پاس آتی ہے تو وہ اسے قبول نہیں کرے گا۔ عاشق کی باتیں سننے کے بعد خاتون نینا مانڈوی نے بچے کو راستےسے ہٹانے کے لیے اسے مار ڈالا۔ قتل کے بعد نعش کو کیسے چھپایا جائے اور نہ پکڑا جائے، اس کے لیے انہوں نے فلم دریشیم دیکھی تھی اور کئی جرائم کی اقساط بھی دیکھی تھیں۔
واقعہ کے انکشاف کے بعد پولیس بھی حیران فلم دریشیام میں ایسا ہی ایک سین ہے، جس میں قتل کے بعدنعش کو ٹھکانے لگایا جاتا ہے اور قتل کا معاملہ حل نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی اس میں کوئی گرفتار ہوتا ہے۔ اپنے بیٹے کو قتل کرنے والی خاتون نینا مانڈاوی نے بھی وہی فلمی انداز اپنایاجیسا کہ فلم میں دکھایا گیا ہے۔ خاتون کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے پولیس اسے گرفتار بھی نہیں کر پائے گی اور وہ جھارکھنڈ میں اپنے عاشق کے پاس چلی جائے گی۔ واقعہ کے اس انکشاف کے بعد سورت پولیس بھی حیران رہ گئی۔



