سوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

گلشن گروور! بیباک ڈائیلاگ کا منفرد انداز ، مزاحیہ اور منفی کردار کے مشہور اداکار

گلشن گروور!,مشہور اداکار,فلم,مزاحیہ اور منفی کردار کے,گلشن گروور! Gulshan Grover famous actors of comedy and negative character

گلشن گروور ۲۱ ستمبر ۱۹۵۵ کو دہلی میں ایک متوسط پنجابی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ویسے ان کی پرورش سری نگر کے اشوک وہار علاقے میں ہوئی۔ان کی تعلیم دہلی کے سرکاری اسکول سے شروع ہوئی۔ان کے والد کرن سنگھ گروور اور والدہ رام راکھی گرور۔والد دلی میں رام لیلا کے رائٹر ہونے کے ساتھ اسٹیج پر رام لیلا میں بھی کام کیا کرتے تھے۔

ایک مرتبہ انھوں نے گلشن کو بھی وانر سینا میں شامل کر لیا اور یہاں سے گلشن کو ڈرامہ کا شوق پیدا ہوا۔گلشن گروور اسکول کے زمانے سے ہی بہت محنتی تھے،اپنی تعلیم کے دوران انھوں نے گھر گھر جا کر صابن اور دیگر اشیاء فروخت کیں اور ان پیسوں کو اپنی تعلیم اور گھر کے خرچ میں لگائے۔

ان کی اسی محنت اور کوششوں کی وجہ سے آج گلشن گروور کا شماربالی ووڈ کےمشہور اداکاروں میں ہوتا ہے۔اسکول کی تعلیم اول نمبر سے کامیاب حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی آف دہلی کے مشہور کالج ایس آر سی سی سے کامرس میں گریجویٹ کیا۔

گلشن گروور کالج میں داخلہ ملنے کے بعد بھی ڈراموں کا حصہ بنے رہے۔یہاں تک کہ ڈراموں میں بہترین اداکاری کی وجہ سے ہمیشہ شہرت کی سرخیوں میں رہے۔اکثر دلی کے اطراف میں لڑکیوں کے کالج جیسے مرانڈا ہاؤس،آئی پی کالج کے علاوہ اور بھی دیگر لڑکیوں کے کالج میں جب کبھی ڈرامے ہوتے تو مرکزی کردار کے لئے گلشن کو ہی بلایا جاتا تھا۔

دوران کالج گلشن گروور دہلی کے لٹل تھیٹر گروپ میں بھی شامل ہوگئے۔ڈراموں کے ذریعے شہرت ملنے کے باوجود گلشن نے کبھی تعلیم سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی،جس کی خاص وجہ اگر تعلیم ادھوری رہ گئی اور فلموں میں کامیابی نہیں ملی تو مشکل آسکتی ہے اپنی تعلیم پر توجہ دیتے رہے۔تعلیم مکمل ہونے کے بعد گلشن نے والدین سے اجازت لی اور ممبئ کا رخ کیا اور بالی ووڈ میں قسمت آزمانے ممبئی آگئے۔

ممبئی پہنچنے کے بعد گلشن گروور نے کئی لوگوں سے ملاقات کی جن میں بالی ووڈ کے کچھ چھوٹے موٹے اداکار بھی تھے ان سے ملنے کے بعد گلشن نے یہ فیصلہ کیا کہ میں یہاں چل سکتا ہوں کیونکہ ممبئی نے ہمیشہ لوگوں کی مدد کی ہے چاہے وہ ہندوستان کے کسی بھی گاؤں،قصبہ،شہر یا پھر کسی بھی ریاست کا کیوں نہ رہا ہو۔ممبئی نے انھیں ان کی محنت لگن اور کوشش کو سلام کیا ہے اور انھیں روزگار دیا ہے۔

گلشن گروور نے اسی دوران اداکاری کے معاملے میں اپنا محاسبہ بھی کیا ایک اچھا اداکار بننے کے لئے کسی انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لینا چاہئے،انھوں نے پونہ کے ایف ٹی آئی آئی میں داخلہ تو نہیں لیامگر انسٹی ٹیوٹ کے لوگوں سے برابر ملتے رہے۔

اس درمیان ایف ٹی آئی آئی کے مشہور پروفیسر روشن تنیجا سے ہوئی۔روشن تنیجا ممبئی میں اپنا ذاتی اداکاری کا تربیتی اسکول شروع کر چکے تھے۔روشن تنیجا کی اسکول سے گلشن نے ادکاری سیکھی۔

گلشن کی محنت اور اداکاری میں تیزی سے بڑھتی ہوئی دلچسپی کو جب روشن تنیجا نے دیکھا تو انھیں اپنے ادکاری کے اسکول میں بطور اسٹنٹ ٹرینر رکھا۔بطور اسٹنٹ ٹیچر اس وقت گلشن گروور نے بڑے بڑے اسٹار کو ٹریننگ دی جن میں گووندا،کمار گورو،سنجے دت،منیشا کوئرالا،رانی مکھرجی،ابھیشیک بچن کے علاوہ اور بھی کئی اسٹار کو اداکاری کی تربیت دی جس کی فہرست کافی طویل ہے۔

دوران اسسٹنٹ ٹیچر ان کی ملاقات انل کپور کے والد اس وقت کے مشہور فلم سازسریندر کپور سے ہوئی۔سریندر کپور روشن تنیجا کے تربیتی اسکول میں امتحان لینے آئے تھے اس دوران انھوں نے گلشن گروور کی محنت اور تجربہ کو دیکھا تو کہا گلشن کو بالی ووڈ میں موقع ملنا چاہئے۔۱۹۸۰ میں فلم ہم پانچ میں گلشن کو موقع ملا جس میں انھوں نے مہاویر کے کردار کو بخوبی ادا کیا اور ایک مختصر سے کردار کے ساتھ اپنا فلمی سفر شروع کیا۔

ہم پانچ کے مہاویر کے کردار کو اتنے بہترین انداز میں ادا کیا کہ بالی ووڈ کے کئی بڑے اداکار کی نظریں گلشن پرجم گئی ان کی بہترین اداکاری سے کئی فلم ساز بھی متاثر ہوئے ساتھ ہی اس وقت کی مشہور اداکارہ شبانہ اعظمی بھی خاموش نہیں رہیں اور انھیں فلم اوتار کے لئے ان کی سفارش بھی کردی۔

اس فلم میں بھی گلشن نے بہترین منفرد اداکاری کی جس کے بعد سریندر کپور نے گلشن کو بالی ووڈ کے کئی فلم ساز اور ہدایت کاروں سے تعارف کرایا۔

گلشن گروور نے اپنی محنت اور جد و جہد سے بالی ووڈ میں اپنی شناخت بنائی جس کے چلتے سنیل دت صاحب کی بھی نظر گلشن پر تھی انھوں نے اپنی فلم راکی کے لئے موقع دیا اور گلشن گروور نے اس فلم میں بھی بہت ہی عمدہ اداکاری کے جوہر دکھائے اور پھر کبھی پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔

ویسے گلشن گروور جب بالی ووڈ میں جدو جہد کر رہے تھے اس وقت بالی ووڈ میں کئی مشہور منفی کردار والے اداکاروں کی طوطی بولتی تھی جن میں سر فہرست پران،اجیت،رنجیت،ڈینی،امجد خان،امریش پوری،رضا مراد کے علاوہ اور بھی کئی دیگر۔۔۔۔۔

گلشن گروور نے ان تمام مشہور منفی اداکاروں کے ساتھ کام کیا اور اپنی منفرد شناخت بنائی۔گلشن گروور نے ہمیشہ اپنے تجربے کے ساتھ کام کرنے کے شوق و جذبہ کو لے کر کچھ نیا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور ہمیشہ وہ اپنے مداح کو نیا انداز ہی پیش کیا۔گلشن کو روشن تنیجا کے تربیتی اسکول سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا,

اس بنا پر انھوں نے اپنی ہر فلم میں اپنے چہرہ کے تاثرات کو میک اپ کے ذریعے بدلتے رہے چاہے وہ اچھا کردار رہا یا خوفناک منفی کردار کیوں نہ رہا ہو۔اپنے ہر کردار کے ساتھ انصاف کیا اور اسے بخوبی ادا کیا اور اپنے ہر کردار کو ایک منفرد شناخت دلائی ،

جس کی وجہ سے وہ بالی ووڈ کے مشہور منفی کردار کی فہرست میں شامل ہوگئے۔اپنی کامیابی اور شہرت کی وجہ سے ہالی میں بھی ان فلمیں ملنے لگیں۔

1994 میں انھوں نے ہالی ووڈ کی فلم جنگل بک۲ میں کام کیا۔ہالی ووڈ کی مشہور فلم آئی یم کلام میں بہترین اداکاری پیش کی۔ گلشن گروور نے بالی ووڈ کے ہر بدلتے دور کو بخوبی دیکھا اور ہر اس دہائی میں اپنی بہترین منفرد منفی اداکاری کے ذریعے ان بڑے اداکاروں کے ساتھ شامل رہے۔

گلشن گروور نے اپنے ایک انٹروویو میں کہا کہ "میرافلمی سفر بھی آخری مغل کے جیسا میرا منفی کردار بھی ایک روز ختم ہوجائے گا۔”

1994 میں جب گلشن گروور کو ہالی ووڈ کی فلم دی ۲ جنگل بک ملی۔گلشن گروور نے اپنے انٹروویو میں کہا "جس وقت مجھے ہالی ووڈ کا آفر ملا اس وقت ٹیکنالوجی کی وہ گشت نہیں تھی نا ہی لوگوں کے ہاتھوں میں موبائل تھا۔

ہالی ووڈ تک پہنچنا بہت مشکل کام تھا۔گلشن گروور جب ہالی ووڈ کی فلموں میں کام کر رہے تھے اس وقت ان کی دوستی پرنس چارلس ہوئی۔

گلشن گروور نے اپنے ایک انٹروویو میں کہا”آٹھ آسکر ایوارڈز سے نوازے جانے والی فلم سلم ڈاگ ملینئیر کے لئے انھیں انسپکٹر کے کردار کا آفر تھا اور میں نے انکار کر دیا بعد میں اس کردار کے لئے عرفان خان کو لیا گیا۔

ہر صحیح فیصلے سے انسان کامیاب ہوتا ہے اور ہر غلط فیصلے کی وجہ سے آگے نہیں جا سکتا ہے۔ سلم ڈاگ فلم کا انکار میرا ایک غلط فیصلہ تھا جو میرے لئے ایک سبق ہے”ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ میں ایک عام انسان کی طرح ہوں جو بارش کے دنوں میں پلاسٹک کی تھیلی میں اسکول کی کتاب سر پر لئے بس کے پیچھے بھاگ رہا ہے،

ایک ہوٹل کے قریب کھڑے رہ کر سکے اور روپئے گنتا ہے کہ ان سکوں اور کچھ روپیوں میں اسے کھانا مل سکتا ہے کہ نہیں” گلشن گروور کی محنت اور کوشش کی وجہ سے آج گلشن بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کےان بڑے اور مشہور اداکاروں کی فہرست میں شامل ہیں۔

ان کی محنت اور جدوجہد کام میں دلچسپی کے ساتھ کام کا جذبہ ایک نئی صبح کے ساتھ نیا خواب آنکھوں میں لئے گلشن بالی ووڈ کی گلیوں میں دوڑ لگاتے رہے تقدیر نے ان کے ہر قدم پر ساتھ دیا اور انھیں کامیابی ملی۔

گلشن گروور نے اپنے انڈسٹری کے بڑے اور مشہور اداکاروں کو عزت دی اور ان کے مشورے پر عمل بھی کیا۔شتروگھن سنہا اکثر ان سے کہتے گلشن "آجانا اور چھا جانا” مہیش بھٹ نے گلشن کے لئے اکثر کہتے "گلشن گروور نیور اوور”

گلشن گروور کی کچھ مشہور فلمیں ہم پانچ سے فلمی سفر کی شروعات رہی اس کے بعد بلندی،راکی،صدمہ،اوتار،مشعل،رام لکھن،سودا گر،قربان،راجہ بابو،ڈپلیکیٹ،انٹر نیشنل کھلاڑی،جسم،گینگسٹر،آئی ایم کلام،سلام ممبئی کے علاوہ کئی دیگر فلم جس میں بہت عمدہ اداکاری پیش کی۔گلشن گروور کو ان کی بہترین اداکاری کے لئے کئی مرتبہ ایوارڈز کی فہرست میں شامل رہے اور ایوارڈز سے بھئ نوازا گیا۔۲۰۱۲ میں ٹی ایس آر ٹی وی ۹ بین الاقوامی سطح پر اداکاری کے لئے ایوارڈز دیا گیا۔

اسٹار ڈسٹ ایوارڈز ۲۰۱۲ میں بہترین اداکار فلم آئی ایم کلام کے لئے ملا۔ان کی فلم کے کچھ مشہور ڈائیلاگ: ” زندگی کا مزہ تو گول گپے میں  ہے” "بیڈ مین” گننا چوس کے” کلو کلن کالیا لوگ دیتے ہیں مجھکو گالیاں”چنکولا بچھو کا کانٹا مرتا نہیں تڑپتا ہے” "چنگالو” "چھپن ٹکلی نام ہے میرا” ” اوئے پنجاب میں ایسا ہوتا ہے” "اوے ہمارے پنجاب میں ایسا نہیں ہوتا” "اوئے ڈونٹ فئیر سردار از ہئیر”۔

گلشن گروور نے بالی ووڈ کے بدلتے تین دہائی دیکھے اپنے آپ کو ایسی کسوٹی میں اتارا جس کی وجہ سے آج بڑے اداکاروں کی فہرست میں شمار ہیں۔ ان کے مداح انھیں ہمیشہ ان کی منفرد ڈائیلاگ کے انداز کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button