قومی خبریں
جمعیۃ علماء مہاراشٹر لیگل سیل کے سربراہ گلزار اعظمی سے گفتگو-پھانسی کے ۶۵ملزمین کو بری کرانا ہے
شکیل رشید
’ ہم نے کسی کوپھانسی پر چڑھنے نہیں دیا ہے ۔‘
یہ بات جمعیۃ علماء مہاراشٹر لیگل سیل کے سربراہ گلزار اعظمی نے ، کوئی ایک سال قبل ’ممبئی اردو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے کہی تھی۔ تب سے لے کر اب تک ملک کے حالات بڑی تیزی کے ساتھ تبدیل ہوئے ہیں ، فرقہ پرستی نے مزید شدت اختیار کی ہے اور گھر واپسی ، لو جہاد، تبدیلیٔ مذہب اور گئورکشھا کے نام پر تشدد کرنے والوں نے حجاب اور حلال گوشت کو اب مسلمانوں کے خلاف تحریک چلانے کا بہانہ بنالیا ہے ۔
تشویش ناک رویہ عدلیہ کا ہے ۔اِدھر عدلیہ کے چند ایسے فیصلے اور تبصرے آئے ہیں جو حیرت میں بھی ڈالتے ہیں اور عدلیہ کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان بھی کھڑے کرتے ہیں ۔ مثال حجاب کے مسئلے پر کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کی لے لیں ۔ کہاکہ اسلام میں حجاب لازمی نہیں ہے۔
اسی طرح ایک جج کا یہ تبصرہ لے لیں کہ مسکراکر کوئی بات کہی جائے تو وہ جرم نہیں ہے ۔ یا سلّی ڈیل معاملہ میں ملزمین کو یہ کہہ کر ضمانت دینا کہ یہ ان کا پہلا قصور ہے ، اس لیے یہ ضمانت کے حقدار ہیں ۔ جمیعۃ علماء مہاراشٹر لیگل سیل چونکہ بہت ہی حساس قسم کے مقدمات لڑرہی ہے ،اس لیے عدلیہ کے مذکورہ فیصلے اور تبصرے اس کے لیے باعثِ تشویش ہوسکتے ہیں ۔
اس کے پاس 65 ایسے افراد کے مقدمے ہیں جنہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے ۔ اور 125 ایسے افراد کے مقدمے ہیں جنہیں عمر قید کی سزا ملی ہے ۔ یہ اہم سوال ہیکہ کیا عدلیہ پر بڑھتی فرقہ پرستی اثر انداز ہوسکتی ہے ، اور فیصلے جو ملزمین کے حق میں ہونے کے امکانات ہیں ، وہ ملزمین کے خلاف جاسکتے ہیں ؟
لیگل سیل کے سربراہ گلزار اعظمی مطمئن ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ نچلی عدالتوں سے فیصلے کے خلاف تو جاسکتے ہیں لیکن اعلیٰ عدالتیں بالخصوص عدالتِ عظمیٰ سے پوری امید ہے کہ اس کے فیصلے قطعی جانبدارانہ نہیں ہوں گے ۔۔۔۔ گلزار اعظمی سے کی گئی بات چیت کے اقتباسات ذیل میں پیش ہیں ۔
س: ایک سال کے دوران حالات بڑی تیزی سے بدلے ہیں ۔ فرقہ پرستی میں اضافہ ہوا ہے اور وہ اشخاص اور ادارے بھی جو غیر جانبداری کے لیے معروف تھے ، اب رنگ بدلتے نظر آرہے ہیں ، ایسے میں کیا خاص طور سے ان مقدمات میں جو آپ لڑرہے ہیں ، ان کے لڑنے میں اور ملزمین کے لیے وکلاء کے تعین میں ،پہلے کے مقابلے دشواریاں بڑھی ہیں ؟
ج: جہاں تک مقدمات لڑنے اور وکلاء کا انتخاب کرنے کا سوال ہے اس میں کوئی دشواری نہیں آئی ہے ، لیکن جہاں تک حکومت اور سرکاری کارندوں کا سوال ہے ، ہماری مشکلات بڑھ رہی ہیں ۔
س: مثلاً ، کیسے ؟
ج: احمد آباد کا جو حالیہ فیصلہ آیا ، انڈین مجاہدین گجرات کیس کا اس کی مثال لیں ہیں ۔ 93ء میں ممبئی میں جو بم بلاسٹ ہوا تھا ،اس میں احمد آباد کے اس معاملے سے کہیں زیادہ لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے تھے ، لیکن سزا میں اتنے زیادہ لوگوں کو پھانسی نہیں دی گئی تھی ۔
اس کیس میں 78 لوگوں پر مقدمہ چلا ،ملزمین میں سے ایک ملزم وعدہ معاف گواہ بنا ، 28 لوگوں کو باعزت بری کیا گیا ، یا یوں کہہ دیں کہ ان پر الزام ثابت نہیں ہوسکا ، لیکن 38 لوگوں کو پھانسی اور 11 لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ، یعنی جو 49 بچے تھے ، ان سب کے لیے موت ہی لکھی ہے ۔
اس سے قبل راجیوگاندھی قتل معاملے میں ایک ساتھ 26 لوگوں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی ، وہ بھی عمر قید میں تبدیل ہوگئی۔
س: عدلیہ کا رویہ کیا واقعی تبدیل ہوا ہے ؟
ج: جی ،عدلیہ کا رویہ بہت تبدیل ہوا ہے ۔ یہ دیکھ لیں کہ سلّی ڈیل میں جہاں مسلم عورتوں کی نیلامی کی جاتی تھی اور پھر فخش کلمات کے ساتھ تشہیر ہوتی تھی ، اس کے ملزمین کو کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پہلے کوئی گناہ نہیں کیا ہے ، اس لیے ضمانت دے دی جائے ۔
دوسری طرف دلی ہی میں عمر خالد، شرجیل امام وغیرہ کا معاملہ دیکھ لیں ، انہوں نے نہ ہی تو کسی کو ذلیل کیا ، نہ ہی پہلے کا ان کا کوئی فساد کاریکارڈ ہے ، لیکن عدالتیں انہیں ضمانت پر رہا نہیں کرتیں۔
س: عدلیہ کا رویہ تبدیل ہونے کی کیا وجہ ہے ؟
ج:ملک کی فضا کو برسراقتدار طبقہ نے اس قدر مسموم کردیا ہے کہ ہر شخص اس سے متاثر ہورہا ہے ، عدالت کی کرسی پر بیٹھنے والے بھی انسان ہیں ، وہ بھی متاثر ہورہے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلے جو ہیں درست نہیں ہیں ۔
س: کیا سپریم کورٹ بھی متاثر ہوا ہے ۔ مطلب یہ کہ کیا اس پر بھی فرقہ وارانہ زہر کا اثر ہوا ہے ؟
ج: نچلی عدالتوں کے مقابلے میں ہم جب بھی اوپر گئے تو انصاف ملا ۔ جیسے کہ کولکتہ کا 2002 کا امریکن قونصل خانہ پر حملے کا معاملہ دیکھ لیں جس میں 7 افراد کو نچلی عدالت نے پھانسی کی سزا دی تھی ، کولکتہ ہائی کورٹ کو 3 نے باعزت بری کیا ۔
2 کی پھانسی کی سزاؤں کو سات سال کی قید میں تبدیل کیا۔ پھر دو کی پھانسی کی سزا کو سپریم کورٹ نے عمر قید میں تبدیل کردیا ۔ ہم نے پوری کوشش کی کہ کسی کو پھانسی نہ ہونے دیں ۔ کولکتہ کا یہ وہ پہلا مقدمہ تھا جو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے کامیابی سے لڑا تھا۔ اعلیٰ عدالتوں پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔
س: احمد آباد انڈین مجاہدین معاملے میں 38 لوگوں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے اس معاملے میں آپ کیا کررہے ہیں؟ کیا یہ بری ہوں گے؟
ج: دیکھئے ہمیں یہ امید ہے ، اور ہمیں ہی نہیں بلکہ وہ وکلاء جنہوں نے ٹرائل کورٹ میں اس کیس کی پیروی کی ہے ، کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے یہ فیصلہ بھی ویسا ہی آئے گا جیسا اکثر دھام مندر احمد آباد کا فیصلہ آیا تھا۔ اُس میں 3 کو پھانسی ایک کو دس سال کی قید ، ایک کو عمر قید اور ایک کو 5سال کی سزا سنائی گئی تھی ، گجرات ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کو بحال رکھا تھا لیکن سپریم کورٹ نے ، جبکہ اس کے سامنے صرف5 ملزمین نے درخواست دی تھی ، اپنے فیصلے میں لکھا کہ چھٹا ملزم جس کی سزا 5سال تھی ، وہ پوری کرچکا ہے ۔
ہم اسے بھی ، یعنی 6کے چھ کو باعزت بری کرتے ہیں ۔ مفتی عبدالقیوم نے باعزت بری ہونے کے بعد ’ گیاہ سال سلاخوں کے پیچھے‘ کتاب لکھ کر سارے حالات بتائے ہیں ۔
س: گویا کہ سپریم کورٹ سے امید ہے ؟
ج: جی بالکل امید ہے ، اور امید رکھنا بھی چاہیئے ۔ بتادوں کہ ہم ان 38ملزمین کے علاوہ پورے ملک میں پھانسی کے 65 کیس لڑرہے ہیں ، 125 کیس عمر قید کے ہیں ، ان سب کی شنوائی ہائی کورٹ ، سپریم کورٹ میں ہونا ہے ۔ ہماری کوشش یہی ہوگی کہ یہ پھانسی نہ چڑھیں ۔ ان شا اللہ انصاف ملے گا
س: حجاب اورحلال گوشت کے خلاف جو شور مچایا جارہا ہے اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟
ج : مسلمانوں اور برادران وطن میں منافرت پیدا کرنے کی جوکوششیں ہورہی ہیں یہ شور اس کا حصہ ہے ، اور جہاں بی جے پی برسراقتدار ہے یہ شور وہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ 2014 میں جب بی جے پی اقتدار میں آئی تھی تو ان وعدوں کی بدولت آئی تھی کہ ہم پٹرول سستا کردیں گے ، ملازمتیں دیں گے ، وغیرہ۔ آج تک کوئی وعدہ وفا نہیں کرسکی ہے ۔
نہ کالا دھن واپس لایا نہ ہی مہنگائی گھٹی ۔ لہٰدا ان وعدوں پر پردہ ڈالنے کے لیے منافرت پھیلائی جارہی ہے۔ یوپی کے الیکشن میں وزیراعظم نریندر مودی اور امیت شاہ نے ان مسلمانوں کے لیے جنہیں وہ مافیا کہتے تھے ، لفظ ’نظام‘ گھڑا جس میں اعظم خان کا نام بھی آگیا ۔ مسلمانوں کو اس ملک کا دشمن ثابت کرنے کے لیے یہ ایک کوشش کی جارہی ہے ، اس میں حجاب کا بھی مسئلہ ہے ۔
حلال گوشت کا بھی ، کسی نہ کسی طرح یہ منافرت پھیلانا چاہتے ہیں ۔فلم کشمیر فائلس کو لے لیں۔ 1947 سے آج تک ہزاروں فساد ہوئے اور ہر فساد میں مسلمان ہی مارا گیا ، لوٹا گیا ، اس کی جائیدادیں جلائی گئیں اور اس پر مقدمات بھی قائم کیئے گئے ، اس پر نہ کوئی فلم بنتی ہے ، اور بنتی ہے تو ایسی فلم کو اول تو حکومت ریلز ہی نہیں ہونے دیتی اور ریلز ہو بھی گئی تو ٹیکس معاف نہیں کرتی ۔
س: اب تو مہاراشٹر میں بھی نفرت پھیلانے کی پوری کوشش ہے ۔ مساجد سے لاؤڈ اسپیکر اتارنے کی بات کی جارہی ہے ؟
ج: جی ، بی جے پی رہنما نے کہا ہے کہ مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹادیئے جائیں ، جبکہ بمشکل اذان پر تین منت لگتا ہے ۔ مندروں سے صبح کے بھجن میں ڈھول ، ہارمونیم کی آواز کے ساتھ گانے والے کی اپنی آواز بھی ہوتی ہے ۔۔۔ کیوں اس کا نوٹس نہیں لیا جاتا ؟
سپریم کورٹ آف انڈیا نے کہہ دیا ہے کہ رات دس بجے سے لے کر صبح ۶ بجے یک لاؤڈاسپیکر کا استعمال نہیں ہوگا ، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ برادران وطن اپنے تہواروں میں اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ مقصد آپسی بھائی چارہ کو ختم کرنا یا مسلمانوں کو دو نمبر کا شہری بنانا ہے ، تاکہ اس کے دستوری حقوق چھین سکیں ۔
س: کیا یہ ممکن ہے ؟
ج: ممکن نہیں ہے ، لیکن کوشش یہی ہے ۔ حجاب کے طور پر ہم اپنی پسند کا کپڑا پہنیں بدن ڈھانپ کر چلیں، دستور کی دفعات اس کی اجازت دیتی ہیں ۔ کیا کھائیں ، کیا نہ کھائیں ، دستور حق دیتا ہے ۔ پابندیوں کا مقصد یہ جتانا ہے کہ مسلمان دو نمبر کے شہری ہیں اور سارے حقوق اکثریت کے ہیں ۔
س: حجاب پر آپ کیا کررہے ہیں ؟
ج: سپریم کورٹ میں لوگ پہنچے ہیں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی اس بات پر آمادگی کا اظہار کیا ہے کہ وہ صحیح طور سے اس کی پیروی کرے گا ۔ جمعیۃ علماء یہ سمجھتی ہے کہ اس طرح کے معاملات میں بورڈ ہی کو مسلمانوں کی پیروی کرنا چاہیئے ۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر محترم مولانا ارشد مدنی دامت برکاتہم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مسلمان اپنے تعلیمی ادارے قائم کریں جس میںاعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم پردے کے ساتھ ہو ۔
اس کے مدنظر جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے شولا پر میں 6ایکڑ کے ایک وسیع پلاٹ کا سودا طے کیا ہے ، ان شا اللہ مسلم بچیوں کے لیے ایک شاندار تعلیمی ادارہ قائم کریں گے ۔ برادران وطن سے اور حکومت سے ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ سکون سے اس ملک میں ہمیں زندہ رہنے دیں ، تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے اس ملک کو اچھی سے اچھی یونیورسٹی اور تعلیمی ادارے دیئے اور مزید دے سکتے ہیں ۔ ہم نے اچھے سے اچھے سرمایہ دار دیئے ہیں جنہوں نے اس ملک کا نام روشن کیا ہے۔
س: لڑکیوں کے لیے تعلیمی ادارے کی کوشش ایک اچھی بات ہے ، کیا اس کے علاوہ جمعیۃ تعلیمی امداد بھی دیتی ہے ؟
ج: جی ہم نے لاکھوں روپئے تعلیمی امداد میں دیئے ہیں ۔ جمعیۃ ریلیف کے کاموں پر بھی خرچ کرتی ہے ۔ کوکن کے سیلاب زدگان میں کروڑوں کی ریلیف تقسیم کی گئی، ساتھ ہی سانگلی ، کولہا پور کے سیلاب زدگان کے لئے بھی ہم نے مکانات بنوائے اور یہ سارے کام باوجود اس کے کہ پچھئے دوسال ملک کے حالات ٹھیک نہیں تھے جمعیۃ علماء نے جاری رکھے ۔
ہم نے ڈاکٹری کی تعلیم ، وکالت کی تعلیم اور دیگر اعلیٰ تعلیم پر خرچ کیا ۔ مخیر حضرات کے تعاون سے خرچ کیا ۔ اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو ابھی احمد آباد کا فیصلہ آیا ہے اس پر کروڑوں روپئے کا تخمینہ ہے اور جب کساد بازاری میں جمعیۃ سے مخیر حضرات نے تعاون کیا تھا تو اب تو اللہ کا شکر ہے کہ حالات بہتر ہوگئے ہیں ، ہمیں کوئی دشواری نہیں ہوگی ۔ درخواست ہے کہ لوگ دعا کریں کہ ان مظلوموں کو ، جن کی بے گناہی کی سزا یہ ہے کہ انہیں سزائے موت دی گئی ہے ، نجات ملے ۔
احمد آباد کیس کے مظلومین کے پانچ خطوط
جمعیۃ علماء مہاراشٹر لیگل سیل کو قانونی امداد کے لیے تقریباً ہر روز ملک بھر سے خطوط موصول ہوتے رہتے ہیں ۔ انہیں پڑھ کر اور چھان بین کرکے ، قانونی امداد کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ لیگل سیل کے سربراہ گلزار اعظمی نے پانچ خط دکھائے ۔
یہ خط احمد آباد بم دھماکہ یعنی انڈین مجاہدین کیس کے ان افراد کے اہل خانہ کے ہیں جنہیں پھانسی اور عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔ ایک خط جبلپور سے مہ جبین محمد علی انصاری کا ہے ، وہ لکھتی ہیں ’’ میرے شوہر محمد علی کو بھوپال جیل سے 2008 میں سابرمتی جیل احمد آباد لے جاکر ان پر سلسلہ وار بم دھماکے کا جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا ، 18 فروری 2022 کو انہیں احمد آباد سیشن عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا ہوئی جبکہ میرے شوہر کے خلاف کوئی گواہ نہیں تھا اور نہ ہی ان کا تعلق کسی دہشت گرد تنظیم سے تھا۔ یہاں میں یہ بات بتانا چاہتی ہوں کہ میرے شوہر کے خلاف مختلف شہروں میں کل 77مقدمات درج کیے گئے تھے ، الحمد اللہ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے ملنے والی قانونی امداد کی وجہ سے انہیں باعزت بری کیا گیا۔؎
احمد آباد مقدمہ میں بھی جمعیۃ علماء نے انہیں قانونی امداد فراہم کی تھی۔ ہماری دوبچیاں ہیں جو جبلپور شہر میں نویں اور دسویں میں زیر تعلیم ہیں۔ میں ایک گھریلو خاتون ہوں ، میرے پاس وسائل نہیں ہیں کہ میں بچیوں کی تعلیم اور شوہر کے مقدمہ کی پیروی کرسکوں ، لہٰذا گذارش ہے کہ ہماری قانونی مدد کریں ۔‘‘
ایک خط بینا پارہ ، اعظم گڑھ کے مفتی ابوالبشر کا ہے ۔ احمد آبا بم دھماکوں کے اس 40 سالہ ملزم کے بھائی ابوظفر نے ہائی کورٹ میں فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے مدد مانگی ہے ، اسی طرح ایک خط احمد آباد بم دھماکہ معاملے میں محمد صادق اسرار کا ہے ۔ اسے عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی ہے ۔ درخواست کی گئی ہے کہ ’’آپ کی حماعت نے پہلے بھی تعاون کیا تھا اور امید ہے کہ ابھی بھی تعاون کریں گے ۔
‘‘ ایک خط سنجر پورہ اعظم گڑھ کے امیر حمزہ کا ہے جن کے بھائی محمد عارف کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے ، ان کی مالی حالت بہت خراب ہے ، درخواست کی ہے کہ ’’میرے بھائی کا کیس دیکھنے کی زحمت کریں۔‘‘ ایک خط سراج احمد کا ہے ۔ ان کا بیٹا سراج احمد ملزم ہے ، یہ کوٹہ ، راجستھان کے ہیں ۔ انہوں نے درخواست کی ہے کہ ’’پیروی اچھے وکیل سے کروائیں تاکہ اللہ تعالیٰ کامیابی عطا فرمائے ۔ ‘‘



