نماز کے بعد نشانے پرکرسمس کی تقریب،چرچ میں داخل ہوکراشتعال انگیزی جے شری رام کے نعرے لگائے گئے ،
پادری نے کہا،مذہبی آزادی کی خلاف ورزی
گروگرام 25دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) نمازکے بعداب کرسمس سے بھی کچھ عناصرکوتکلیف ہے ۔جس طرح تبدیلی مذہب کے نام پرمسلم جماعتیں نشانہ ہیں،اسی طرح چرچ پرحملے بھی ہورہے ہیں۔اب کرسمس بھی نشانے پرآگیاہے۔ائیں بازو کے کارکنوں پر گروگرام میں کرسمس کی نماز میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام ہے۔
دائیں بازو کے کارکن ہونے کا دعوی کرنے والے لوگوں کا ایک گروپ مبینہ طور پر کرسمس کے موقع پر یہاں ایک چرچ میں داخل ہوا اور کرسمس کی پوجا میں خلل ڈالا۔مقامی پولیس نے کہاہے کہ انہیں کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ کل شام کچھ لوگ چرچ کے احاطے میں داخل ہوتے ہیں اور شری رام اوربھارت ماتا کی جئے کے نعرے لگاتے ہیں۔ وہ گانا گانے والے بھکتوں کو اسٹیج سے ڈھکیلتے اور ان سے مائیک چھینتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گروگرام میں کچھ عوامی مقامات پر نماز پڑھنے کو لے کر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ایک مقامی پادری نے پی ٹی آئی کوبتایاہے کہ یہ خوفناک تھا کیونکہ چرچ میں خواتین اور بچے بھی موجودتھے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ ہمارے پوجا کرنے اور مذہب پر عمل کرنے کے حق کی خلاف ورزی ہے۔پٹودی پولیس اسٹیشن کے انچارج افسر امیت کمار نے کہاہے کہ پولیس کو ابھی تک کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔مقامی انتظامیہ نے تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
گروگرام میں پچھلے کچھ مہینوں سے کھلے میں نماز پڑھنے کو لے کر تنازعہ چل رہا ہے۔ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ہریانہ کے ڈی جی پی اور چیف سکریٹری کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے، جہاں غنڈے لوگوں کو نماز پڑھنے سے روکتے ہیں۔
راجیہ سبھا کے سابق ایم پی محمد ادیب کی طرف سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ گروگرام پولیس اور انتظامیہ کی بے عملی نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگیز جرائم کو جنم دے رہی ہے۔ کیونکہ پولیس ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے جو مسلمانوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روک رہے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ کھلے میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت خصوصی طور پر جگہ اور سہولیات کی کمی کے باعث دی گئی ہے۔ کھلے عام نماز کی مخالفت کرتے ہوئے ہندو تنظیموں کا کہنا ہے کہ جس عوامی جگہ پر نماز پڑھی جاتی ہے، اس پر بعد میں کسی خاص مذہب کے لوگوں کاقبضہ ہوجاتا ہے۔
کافی تنازعہ کے بعد گروگرام پولیس نے عوامی مقامات پر نماز کی جگہیں طے کی تھیں۔ کہا گیا کہ ان مقامات کا فیصلہ ہندو اور مسلم دونوں برادریوں نے باہمی افہام و تفہیم کے بعد کیا ہے۔



