جرائم و حادثاتسرورق

گوالیار: ناجائز تعلقات کا راز فاش ہونے کے خوف سے ماں نے پانچ سالہ بیٹے کو قتل کیا، عدالت نے عمر قید سنا دی

“سچ کو زیادہ دیر دفن نہیں رکھا جا سکتا”

گوالیار 19۔جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار کی ایک عدالت نے سال 2023 میں پیش آنے والے ایک انتہائی دل دہلا دینے والے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک خاتون کو اپنے ہی پانچ سالہ بیٹے کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ماں نے جان بوجھ کر اپنے کمسن بیٹے کو گھر کی دوسری منزل سے نیچے پھینک کر اس کی جان لی۔

استغاثہ کے مطابق سزا پانے والی خاتون کا نام جیوتی تھا، جس کی شادی پولیس کانسٹیبل دھیان سنگھ راٹھوڑ سے ہوئی تھی۔ دونوں کا ایک 5 سالہ بیٹا تھا جس کا نام جتن تھا۔ دورانِ سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ جیوتی کے اپنے پڑوسی ادے انڈولیا کے ساتھ غیر اخلاقی تعلقات قائم تھے، جو بعد میں اس لرزہ خیز واقعے کی بنیاد بنے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق 28 اپریل 2023 کو جب دھیان سنگھ ڈیوٹی پر تھا، ادے انڈولیا جیوتی کے گھر آیا۔ اسی دوران جیوتی اور ادے کے درمیان جسمانی تعلقات قائم ہوئے۔ اتفاقاً اسی وقت ان کا بیٹا جتن دروازے کے قریب کھڑا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ جب جیوتی کی نظر بچے پر پڑی تو وہ گھبرا گئی اور اس خوف میں مبتلا ہو گئی کہ کہیں جتن یہ ساری بات اپنے والد کو نہ بتا دے۔

اسی خوف کے تحت جیوتی نے انتہائی سفاک قدم اٹھاتے ہوئے اپنے پانچ سالہ بیٹے کو گھر کی دوسری منزل کی بالکونی سے نیچے پھینک دیا۔ بعد ازاں اس نے یہ دعویٰ کیا کہ بچہ پھسل کر گر گیا تھا۔ شدید زخمی حالت میں جتن کو پڑوسیوں کی مدد سے اسپتال لے جایا گیا، تاہم وہ علاج کے دوران جانبر نہ ہو سکا اور اس کی موت ہو گئی۔

ابتدا میں اس واقعے کو حادثہ قرار دیا گیا اور پولیس نے چھت سے گرنے کا معاملہ سمجھ کر فائل بند کر دی تھی۔تاہم وقت گزرنے کے ساتھ شکوک بڑھتے گئے۔ بچے کے والد کو مسلسل احساس ہو رہا تھا کہ حقیقت کچھ اور ہے۔ تقریباً پندرہ دن بعد خاتون نے ذہنی دباؤ میں آ کر اپنے شوہر کے سامنے سچ قبول کر لیا، جس کے بعد معاملہ ایک نیا رخ اختیار کر گیا۔

متاثرہ والد نے مبینہ اعترافات کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز محفوظ کیں اور گھر میں نصب سی سی ٹی وی فوٹیج بھی اکٹھی کر کے پولیس سے رجوع کیا۔ ان شواہد کی بنیاد پر پولیس نے مقدمہ درج کیا اور تفتیش شروع کی۔

تحقیقات کے بعد عدالت میں چارج شیٹ داخل کی گئی۔ سماعت کے دوران عدالت نے دستیاب حالات اور شواہد کی بنیاد پر ماں کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ تاہم دوسرے ملزم کو شواہد کی کمی کے باعث شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا۔

سرکاری وکیل کے مطابق عدالت نے اس معاملے میں حالات و واقعات کی کڑی کو بنیاد بنا کر فیصلہ سنایا، جبکہ شریک ملزم کے خلاف براہ راست ثبوت پیش نہیں کیے جا سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ کیس ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ جرم چاہے جتنا بھی چھپایا جائے، سچ بالآخر سامنے آ ہی جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button