مساجدکی بے حرمتی مسلمانوں کو گوارا نہیں ، فرقہ پرست طاقتیں لاقانونیت پر کمر بستہ عدالتیں بھی مظلومین کو مایوس کررہی ہیں، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکا موقف جاری
گیان واپی مسجد تنازع: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ مسلم فریق کی ہر ممکن مدد کیلئے تیار
نئی دہلی، 18 مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے گیان واپی مسجد کیس اور دیگر مسائل پر منگل کو وارانسی میں اپنی ایگزیکٹیو کمیٹی کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں کچھ اہم فیصلے لیے گئے۔ گیان واپی کا معاملہ چونکہ عدالت میں زیر سماعت ہے، لہٰذا یہ فیصلہ لیا گیا کہ بورڈ کی لیگل کمیٹی کیس لڑنے میں مسلم فریق کی ہر ممکن مدد کرے گی۔
اس کے علاوہ پلیس آف ورشپ ایکٹ 1991 پر مرکزی حکومت سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے ان کا موقف معلوم کیا جائے گا۔ بورڈ کے مطابق عوام کے سامنے ہر چیز ادھوری پیش کی جا رہی ہے۔اس کے لیے پمفلٹ اور کتابیں شائع کرنے کا کام کیا جائے گا، جن میں حقائق کے ساتھ معلومات ہوں اور انہیں عوام تک پہنچایا جائے گا۔ اجلاس میں گیان واپی مسجد، ٹیپو سلطان مسجد سمیت ملک کے دیگر موجودہ مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس تقریباً 2 گھنٹے تک جاری رہا، بورڈ کے 45 ممبران آن لائن میڈیم کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے۔ ذرائع کے مطابق بورڈ کی قانونی کمیٹی مسلم فریق کی مکمل مدد کرے گی جبکہ منگل کو عدالت میں جو باتیں سامنے آئی ہیں ان پر کام کرتے ہوئے ان کی مزید مدد کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر طرح کی باتیں عوام کے سامنے لائی جا رہی ہیں تاکہ تقسیم ہو لیکن ہماری آواز عوام تک نہیں پہنچ رہی کیونکہ لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اس لیے ہم پمفلٹ، کتابوں اور دیگر ذرائع کے ذریعے عوام تک پہنچیں گے۔
دراصل 1991 میں اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی حکومت نے عبادت گاہ کا قانون آف ورشپ ایکٹ) منظور کیا تھا۔ اس قانون کے مطابق 15 اگست 1947 سے پہلے وجود میں آنے والی کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ کو کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ جو بھی ایسا کرنے کی کوشش کرے گا اسے ایک سے تین سال تک قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ایودھیا کا معاملہ اس وقت عدالت میں تھا، اس لیے اسے اس قانون سے باہر رکھا گیا۔
اس کے علاوہ اجلاس میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں بھی فیصلہ کیا گیا، بدھ کے روز بورڈ اپنے فیصلوں کو تفصیل کے ساتھ سب کے سامنے پیش کرے گا، جبکہ ملک میں جاری موجودہ معاملات کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی گئی۔گزشتہ روز گیان واپی مسجد معاملہ کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے کہا کہ ہم نوٹس جاری کر رہے ہیں اور مقامی ڈی ایم کو حکم دینا چاہتے ہیں کہ جس جگہ سے شیولنگ ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اسے محفوظ رکھا جائے لیکن لوگوں کو نماز سے نہ روکا جائے۔
خیال رہے کہ ہندو فریق نے گیان واپی سے شیولنگ برآمد ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ مسلم فریق کا کہنا ہے کہ جس چیز کو ہندو فریق شیولنگ بتا رہے ہیں ، وہ دراصل وضو خانہ میں نصب فوارہ ہے ، جو عمومی طور پر ہر شاہی مسجد کے وضو خانے میں نصب ہے ۔
اجلاس کا مقصد تھا کہ ایک طرف نفرت پھیلانے والی قوتیں پوری طاقت کے ساتھ جھوٹا پروپیگنڈہ کررہی ہیں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نشانہ بنا رہی ہیں، دوسری طرف مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتیںجن پر دستور اور قانون کو نافذ کرنے کی آئینی ذمہ داری ہے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیںاس پر مستزاد جو سیاسی پارٹیاں اپنے آپ کو سیکولراور انصاف پسند کہتی ہیں، وہ بھی خاموش ہیں ،اور اس جھوٹے پروپیگنڈے کے خلاف انہیں جس طرح میدانِ عمل میں آنا چاہیے، نہیں آرہی ہیں،ان کو اس مسئلہ پر اپنا موقف واضح کرنا چاہئے۔
ہمیں امید ہے کہ وہ جلد سے جلد اپنا موقف واضح کریں گی۔ نیز ملک کے دستور اور سیکولر کردار کی حفاظت کے لئے ان کی طرف سے کوئی واضح اور ٹھوس آواز بلند ہوگی۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ اجلاس کا احساس ہے کہ عدالتیں بھی اقلیتوں اور مظلوموں کو مایوس کررہی ہیں۔ ان کے اس طرز عمل کی وجہ سے لاقانونیت کا راستہ اختیار کرنے والی فرقہ فرست طاقتوں کو حوصلہ مل رہا ہے۔
گیان واپی کا مسئلہ آج سے تیس سال قبل عدالت میں شروع ہوا تھا ہائی کورٹ کے اسٹے آرڈر کے باوجود اسے آرڈر کو نظر انداز کیا گیا۔ گیان واپی پر باربار سوٹ فائل کرنا اور پھر عدالتوں کے ذریعہ اس نوعیت کے احکامات جاری کرنا انتہائی مایوس کن اور تشویشناک ہے۔ بورڈ نے عبادت گاہوں کے متعلق 1991 کے قانون اور بابری مسجد سے متعلق فیصلہ میں اس قانون کی مزید تائید کوسامنے رکھ کر غور کرنے اور مؤثر طور پر مقدمہ کو پیش کرنے کے لئے ایک قانونی کمیٹی بنائی ہے،جو جسٹس شاہ محمد قادری ،جناب یوسف حاتم مچھالہ، جناب ایم،آر شمشاد، جناب فضیل احمدایوبی، جناب طاہر ایم حکیم، جناب نیاز فاروقی، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس اور جناب کمال فاروقی پر مشتمل ہے۔ یہ کمیٹی تفصیل سے مسجد سے متعلق تمام مقدمات کا جائزہ لے گی اور مناسب قانونی کارروائی کرے گی۔
اجلاس میں طے کیا گیا کہ: ضرورت پڑنے پر پرامن عوامی تحریک بھی شروع کی جاسکتی ہے، اجلاس نے یہ بھی طے کیا کہ بورڈ انصاف پسند ہندو بھائیوں اور دیگر اقلیتی طبقات کو اعتماد میں لے کر مذہبی عبادت گاہوں اور مقدس مقامات کے احترام اور ان کے تحفظ کے سلسلے میں مشترکہ ذمہ داریوں پر رائے عامہ بیدار کرے گا۔اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 1991 کے عبادت گاہوں سے متعلق قانون کے بارے میں وہ اپنا موقف واضح کرے، ایسے واقعات پر حکومت کی خاموشی ایک مجرمانہ فعل ہے، جو کسی بھی طرح قبول نہیں کیا جاسکتا۔
اجلاس نے مساجد کے خطبا اور علماسے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ تین ہفتے جمعہ کے بیان میں مسجد کی اہمیت، شریعت میں اس کا مقام وتقدس اور مسجد کے تحفظ جیسے موضوعات پر خطاب کریں۔ نیز شرپسند عناصر کی طرف سے جو غلط دعوے کئے جارہے ہیں، ان کی علمی اور قانونی تردید پر خطاب فرمائیں۔ اجلاس نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر کا دامن تھامے رہیں، ثابت قدمی سے کام لیں، اور اشتعال سے بچتے ہوئے لوگوں کے سامنے اپنا موقف پیش کریں،
حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صاحب نے اجلاس کی صدارت فرمائی، بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کارروائی چلائی، مولانا سید ارشد مدنی نائب صدر بورڈ و صدر جمعیت علماء ہند، پروفیسرڈاکٹر سید علی محمد نقوی نائب صدر بورڈ، جسٹس شاہ محمد قادری، مولانامحمد فضل الرحیم مجددی سکریٹری بورڈ، مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی سکریٹری بورڈ، جناب سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند، ڈاکٹر مفتی مکرم احمد، مولانا یاسین علی عثمانی، مولانا اصغرعلی امام مہدی امیرجمعیت اہل حدیث، مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امیر شریعت بہار، مولانا عتیق احمد بستوی، مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی، پروفیسر سعود عالم قاسمی، مفتی احمددیولا، اسدالدین اویسی (ایم پی )، جناب عارف مسعود (ایم ایل اے)، ای ابوبکر، مولانا محمد سفیان قاسمی دیوبند، مولانا عبد اللہ مغیثی صدر ملی کونسل، مولانا محمد یوسف علی امیر شریعت آسام، مولانا صغیر احمد رشادی امیر شریعت کرناٹک، مولانا سید بلال عبدالحئی حسنی، مولانا عبدالعلیم بھٹکلی قاسمی، حافظ رشید احمد چودھری، مولانا خالد رشید فرنگی محلی، مولانا انیس الرحمن قاسمی نائب صدر ملی کونسل، ایڈووکیٹ ایم آر شمشاد، ایڈووکیٹ طاہر ایم حکیم، ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، جناب کمال فاروقی وغیرہم نیز اور ملک بھر کی اہم شخصیتوں اور ملی تنظیم کے سربراہوں نے اجلاس میں شرکت کی اور گفتگو میں حصہ لیا۔



