قومی خبریں

گیان واپی کیس: ہندو فریق نے وضو خانے میں سروے کا مطالبہ کردیا

گیانواپی مسجد معاملے میں ہندو فریق کی طرف سے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی

وارانسی ، 29جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) گیانواپی مسجد معاملے میں ہندو فریق کی طرف سے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں وضو خانے کے سروے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ شیولنگ گیانواپی کمپلیکس میں موجود ہے۔ سروے کا حکم ڈائریکٹر آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہوئے ہندو فریق نے کہا ہے کہ یہ سروے مبینہ شیولنگ کو نقصان پہنچائے بغیر سائنسی طریقے سے کیا جانا چاہیے۔موجودہ وضوخانہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد محفوظ ہے، جس میں ہندو فریق اسے آدی وشویشور کا شیولنگ ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے اور مسلم فریق اسے وضو خانہ قرار دے رہے ہیں۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اے ایس آئی کا سروے اس ایریا میں کرایا جائے جسے 2022 میں سپریم کورٹ نے تحفظ دیا تھا۔

اس وقت وضو خانے کے علاقے کو تحفظ فراہم کیا گیا تھا، اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندو وہاں پوجا کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ مبینہ طور پر وہاں ایک شیولنگ موجود ہے اور ایسی صورت حال میں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے پروٹیکشن آرڈر کو سپریم کورٹ کو ہٹانا چاہیے۔ عرضی میں کہا گیا کہ اے ایس آئی نے گیانواپی مسجد کے دیگر مقامات پر سروے کیا تھا۔اس ماہ کے شروع میں، ہندو فریق کی طرف سے وارانسی کے ضلع مجسٹریٹ کے سامنے گیانواپی مسجد کے وضوخانے کے پورے علاقے کی صفائی کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزاروں کے مطابق گیانواپی مسجد کا وضوخانہ وہ جگہ ہے جہاں سے شیولنگ پائے گئے تھے۔ درخواست میں ہندو فریق نے کہا تھا کہ 12 سے 25 دسمبر 2023 کے درمیان پانی کے ٹینک میں مچھلیاں مر گئیں اور اس کی وجہ سے ٹینک سے بدبو آرہی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button